Posts

Showing posts from 2016

عمران خان اور روایتی سیاست — محمد عباس شاد

کبھی ہماری سیاست مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان تقسیم ہوتی تھی اور باقی قوتین انہیں دو قوتوں کے ساتھ اپنے معاملات طے کرتی تھیں لیکن جب سے عمران خان نے اپنے آپ کو منوایا ہے تب سے وہ ہماری سیاست اور صحافت کی خاصی توجہ حاصل کئے رہتے ہیں ۔ان پر کئی حوالے سے بہت کچھ کہا جاتا ہے۔کسی کے ہاں تو وہ کلی طور پر رد کردیئے جاتے ہیں اورکہیں ان کو پاکستان کے سارے مسائل کا حل سمجھ لیا گیا ہے۔ہمارے ہاں چونکہ وابستگیاں عقل وشعور سے زیادہ جذباتی طورپر قائم کی جاتی ہیں تو اسی لیے ہمارے ہاں اعتدال سے زیادہ انتہاپسندی موجود رہتی ہے۔
اب جب کہ دو نومبر آنے کو ہے اور عمران خان اسلام آباد کو بند کرنے جارہے ہیں تو اس موقع پر عمران خان کے بارے میں دونوں پہلووں پر بات کیوں نہ کرلی جائے کہ ان کی طرز سیاست میں کیا مثبت ہے اور کیا منفی ہے۔ہمارے وہ دوست جو عمران خان سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو حکومت وقت کے چوکھٹے میں فٹ ہیں وہ یہ بات یاد رکھیں کہ عمران خان پر تنقید کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نواز شریف بہترین حکمرانی کررہے ہیں اور نوازحکومت پر تنقید کا بھی یہ مطلب نہیں ہوتا کہ عمران خان موجودہ حکومت کا…

جھنگ کا قبرستان شہیداں — ثریا منظور

جھنگ سے ملتان کی جانب جائیں تو راستے میں مہلوآنہ موڑ سے چند کلو میٹرکے فاصلے پر ایک تاریخی قبرستان ہے ۔ پرانے وقتوں میں اس علاقے کا نام پیرڈولی مشہور تھا جسے 1857 کے جنگ آزادی کے شہدا کی نسبت سے اب قبرستان شہیداں کے نام سے پکارا جاتاہے۔
تاریخ دان بلال زبیری اپنی کتاب “تاریخ جھنگ” میں لکھتے ہیں کہ یہاں ایک بزرگ رہا کرتے تھے جو آمد و رفت کے لِیے ڈولی کا استعمال کرتے تھے اسی نسبت سے اس علاقے کا نام پیر ڈولی رکھ دیا گیالیکن جھنگ کے جانباز سپوتوںنےآزادی کی راہ میں اپنا خون بہا کر اس کا نام تبدیل کر دیا۔
ان کے مطابق یہ اس وقت کی بات ہے جب انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کے بعدعلاقے کو کنٹرول کرنے کے لئے کرنل لارنس کو لاہور کا چیف کمشنر مقرر کیااور اس کی زیر نگرانی دو چھاونیاں ملتان اور گوگیرہ ساہیوال میں قائم کیں۔ملتان میں کمشنر ایڈورڈ جب کہ گوگیرہ ساہیوال میں چھاونی کا انچارچ کمشنربرکلے تھا۔دس مئی 1857 کو میرٹھ بھارت کی رجمنٹ کےستاسی ہندو، مسلم اور سکھ سپاہیوں نے انگریزوں کے دئیے ہوئے کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکا کردیا اور انگریزوں کے خلاف بغاوت کردی۔
اس بغاوت کی خبر جب ملتان پہنچی تو انگری…

اپنی سوچ کے بہت جلد بدلنے کے منفی اثرات سے اگاہ رہیں۔ زوہیب یاسر

زیادہ سے زیادہ ذہنی سکون کے حصول کے لیے ایک طاقتور تکنیک یہ ہے کہ ہم اس بات سے آگاہ رہیں کہ ہماری غیر محفوظ اور منفی سوچ کتنی جلدی کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ اپنی ایسی سوچوں میں الجھے ہوتے ہیں تو آپ کس قدر پریشان ہوتے ہیں؟اور ان سوچوں کو دبانے کے لیے آپ جتنا زیادہ ان میں گم ہوتے ہیں دراصل یہ احساسات اتنے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔ایک خیال سے دوسرا خیال جنم لیتا ہے دوسرے سے تیسرا اور یہ سلسلہ طویل ہی ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ ایک مخصوص مقام پر آکر آپ کی برداشت کی حد بھی ختم ہونے لگتی ہے۔                 مثال کے طور آدھی رات کو آپ کی آنکھ کھلتی ہے اور آپ کو یاد آتا ہے کہ آپ نے کل ایک فون کال کرنی ہے اور یہ سوچ کر آپ کو تھوڑی راحت ہوتی ہے کہ آپ کو وقت پر یاد آگیا۔لیکن اس کے بعد آپ اگلی صبح کرنے والے دیگر کاموں کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔آپ آئندہ صبح اپنے باس سے ہونے والی گفتگو کی ایک ریہرسل کرتے ہیں اور مزید پریشان ہوجاتے ہیں۔پھر جلد ہی آپ خود سے یہ کہتے ہیں کہ میں بہت زیادہ مصروف ہوں،مجھے روزانہ کوئی پچاس آدمیوں کو فون کرنا ہوتے ہیں،اتنی مصروف زندگی بھلا کس ک…

اپنے آپ کو کامیاب سٹوری بنائیے — قاسم علی شاہ

یہ سوال ہماری ابتدائی زندگی میں نہیں اٹھایا جاتا ہے کہ اصل میں ہمیں کرنا کیا ہے ۔ مثال کے طور ہر جب میں نے یہ سوچا کہ مجھے کرنا کیا ہے تو مجھے بعد میں ایم ایس سی سائیکولوجی اور ہیومن ریسورس کرنا پڑا۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس سوال کو کیری کیجیے ، کیری کا مطلب یہ ہے کہ اس سوال کو سنبھال کر رکھنا ہے کہ اصل میں مجھے کرنا کیا ہے۔ہم لوگوں میں سے بالخصوص وہ لوگ جن میں تڑپ ہے لگن ہے اور بے سبب آنسو ہیں اور جن کی زندگی اضطراب میں گزر رہی ہے وہ زیادہ ترقی کر سکتا ہے۔
یہ ساری علامات ہیں کہ ایسے شخص میں کچھ کرنے کی ایک آگ ہے ۔ یہ ساری علامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدرت نے اس سے کچھ کام لینا ہے۔ اس سے اگلی بات یہ ہے کہ کام کرنا کیا ہے اس سوال کو بھی کیری کیجیے کہ اگر آپ دل سے اس سوال کو اٹھاتے ہیں تو نیچر اس کا جواب دیتی ہے یعنی قدرت اس سوال کا ضرور جواب دے گی۔ اس بارے میں دو تین کتابیں بہت مشہور ہیں” الکیمسٹ” ناول ہے اور پچھلے سال ایک کتاب آئی ہے اس کا نام ہے ‘”دی ہیرو”یہ ر ہونڈا بائرن کی کتاب ہے اوراسے دارالشعورنے شائع کیا ہے اس میں بیان کیا گیا ہے کہ دنیا کے جتنے بڑے آدمی ہیں انہیں قدرت نے …

کامیابی کا ہاتھ — مدثر گل

کامیابی کا ہاتھ — مدثر گل    “ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے.” یہ بات بچپن سے لے کر اب تک میرے کانوں میں رس گھولتی رہی ہے. ان الفاظ کے ساتھ ہی ایسے گورے چٹے ہاتھ کے سکیچ ذہن میں خودکار طریقے سے بننے لگتے کہ منہ پانی سے بھر جاتا. گھر کے بڑوں کی سختیوں پر بھی غصہ آتا کہ خواہ مخواہ ہمیں کوفت دی جا رہی ہے. جبکہ کامیابی کا ہاتھ تو اوپر جوڑے بنا کر ہمارے نام کر دیا گیا ہے. ادھر بڑوں کو سمجھ نہیں آ رہی اور کامیابی کی چابی کو دور رکھ کر ہمیں کامیاب مرد بنانے کے لیے زدوکوب کیا جا رہا تھا. ان الفاظ کے ساتھ ہی دل و دماغ یہ سوچتے کہ جتنے بھی کامیاب مرد ہیں وہ بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کو ایسی بیویوں کا ہاتھ نصیب ہوتا ہے. لیکن وقت گزرنے کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے بھی کبھی کبھی دماغ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ ہمارے محلے میں جو کامیاب مرد سمجھے جاتے ہیں ان کی بیویاں تو اس قابل نہیں ہیں کہ انکے شوہروں کی کامیابی کا کریڈٹ انکو دیا جائے. وقت گزرا ہم تھوڑے سے اور بڑے ہو گئے. پھر دوسرے علاقے کے کامیاب مردوں کی ہسٹری جاننے کے بعد بھی ہمیں کوئی قابل ذکر بیوی نہ ملی جس کی وجہ سے “ہر کامیاب مرد ک…

کالا دھن — عادل فراز – لکھنو

نوٹ بندی کے بعد بھارت میں افراتفری کا ماحول ہے ۔عام آدمی اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری نہیں کرپارہاہے ۔دو ہزار کا نوٹ دیکھ کر دوکاندار ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بھوت پریت دیکھ لیا ہو ۔کسان زراعت کے لئے پریشان ہے ۔ کوئی اسپتال میں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ رہاہے ۔کسی کی شادی رک گئی ہے تو کوئی نوٹ بدلوانے کے غم میں لائن میں ہی کھڑا کھڑا دم توڑ گیا ۔پھر بھی عام آدمی پر امید ہے کہ بلیک منی پر شکنجہ کسا جائیگا۔غریب اپنی غربت کے خاتمہ کے خواب دیکھ رہاہے تو فقیر جن دھن یوجنا کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے کا منتظر ہے ۔ان سب مسائل سے پرے بی جے پی اپنی’’ پریورتن یاترا‘‘ میں مصروف ہے ۔وزیر اعظم سے لیکر بی جے پی کا عام کارکن بھی نوٹ بندی پر اپنی پیٹھ آپ تھپتھپا رہا ہے ۔مگر غریب کے ذہن میں سوال تو بہت کلبلاتے ہیں جواب نہیں ملتا ۔کیونکہ اس ملک میں اس وقت سوال پوچھنا سب سے بڑا جرم ہے ۔کوئی بعید نہیں سوال پوچھنے والے’’ کو دیش دروہی ‘‘کہکر قتل کردیاجائے ۔مگر پھر بھی سوا ل تو پوچھے ہی جائیں گے ۔آخر بی جے پی ’’ پر یوورتن یاترا‘‘ میں جو رقم خرچ کررہی ہے وہ اتنی جلدی نئی کرنسی میں کیسے تبدیل …

کامیابی اور خوشی کی چابی — قاسم علی شاہ

مولاناجلال الدین رومی رحمہ اللہ کو علامہ اقبال اپنا استاد اور اپنا مرشد مانتے تھے ، آپ لوگ ضرور ان کے نام سے واقف ہوں گے ان کی ایک بڑی مشہور کتاب ہے” مثنوی مولاناروم” ۔ مثنوی مولانا روم میں ایک واقعہ لکھا ہے آج کے لیکچر کی ابتدا اسی واقعہ سے کرتا ہوں۔واقعہ کچھ یوںہے کہ:
ایک عالم دین تھے بہت بڑے عالم تھے انہوں نے حدیث، فقہ ،سنت سب کچھ پڑھا ہوا تھا۔ ایک دفعہ انہوں نے دریا کے پار جانا تھا اور دریا پار کرنے کے لئے ایک ہی ذریعہ تھا یعنی کشتی کا استعمال ۔ اس عالم باعمل نے یہ کیا کہ کشتی میں بیٹھ گئے کشتی میں ملاح موجود نہیں تھا بلکہ اس کا بچہ بیٹھا ہوا تھا۔ اس بچہ کی عمر بارہ تیرہ سال تھی۔ اس بچے نے چپو چلانے شروع کئے اور کشتی دریا میں چلنا شروع ہو گئی۔
راستے میں مولانا رومی نے اس بچے سے پوچھا کہ تم نے کتنی تعلیم حاصل کی ہے یا کیا کچھ پڑھا لکھا ہوا ہے۔ اس بچے نے جواب دیا کہ میں تو کچھ پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ اس پر عالم دین نےافسوس کااظہار کیا اور بچے سے کہا کہ تم نے اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی ہے نہ کچھ پڑھا نہ لکھا۔ اتنی دیر میں کشتی دریا میں تھوڑا سا آگے چلی گئی آگے پانی میں بھنور تھا اورا…

Famous Personalities Of Pakistan

Muhammad Ali Jinnah Urdu: Hi-Muhammed_Ali_Jinnah.ogg (Urdu: محمد علی جناح) (December 25, 1876 – September 11, 1948), a 20th century politician and statesman, is generally regarded as the founder of Pakistan. He served as leader of The Muslim League and Pakistan’s first Governor-General. He is officially known in Pakistan as Quaid-e-Azam (Urdu: قائد اعظم — “Great Leader”) and Baba-e-Qaum (بابائے قوم) (“Father of the Nation”). His birthday is a national holiday in Pakistan. He has been equally admired by his opponents due to his visionary approach and use of constitutional and legal channels as a lawyer to bring about and end to British rule to India and creation of Pakistan. Jinnah rose to prominence in the Indian National Congress expounding ideas of Hindu-Muslim unity and helping shape the 1916 Lucknow Pact with the Muslim League; he also became a key leader in the All India Home Rule League. After observing Congress’s injustice with Indian Muslims, Jinnah left Congress eventually. H…