Thursday, November 29, 2012

سیاست دان اپنی عینک کا نمبر بدلیں

کل ہی کی بات ہے‘ میں کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ گھروالی چاءے لے کر نازل ہو گئ۔ مجھے سوچ میں ڈوبا میں ڈوبا ہوا دیکھ کر بولی “کیا بات ہے خیر تو ہے‘ کس سوچ میں ڈوبے ہوءےہو؟!"
"
نہیں کوئ ایسی خاص بات نہیں"
"
پھر بھی"
مجھے اپنی پنشن کے بےبابائ ہونے کے سبب پنشن آڈر میں کیڑا بھرتی کرنے کا تذکرہ اچھا نہ لگا۔ ہر روز ایک ہی راگ سن کر کان پک جاتے ہیں۔ دوسرا اس نے مجھے ہی جھوٹا کرنا تھا۔ جب رشوت اصول اور ضابطہ بن گئ ہو تو حاجی ثناءالله بننے کی کیا ضرورت ہے۔ اصول اور ضابطے سے انکار موت کو ماسی کہنے کے مترادف ہے۔ یہ بھی کہ اصلاح اور بہتری جو کسی کی معدہ کشی کا سبب بنتی ہو جرم کبیرہ سے کسی طرح کم نہیں ہوتی۔ دوسرا میرے اپنے حوالہ ہی سے سہی‘ اصلاح اور بہتری کا ٹھیکہ میں نے کیوں لے رکھا ہے۔ یہ حاکم کا کام ہے‘ وہ کرے نہ کرے‘ مجھے اس سے کیا۔ میرے پیٹ میں کیوں مروڑ اٹھتے ہیں۔ اس میں کسی اور کو ٹانگ زنی کی کیا ضرورت ہے۔ یہاں تو لوگ اپنا کام ایمانداری تو بہت دور کی بات بددیانتی سے کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ لہذا مجھے نہایت فرمانبرداری سے زر رشوت ادا کرکے کام نکلوا لینا چاہیے تھا۔ اب اپنی کرنی کی بھگتوں۔ایک ہی با ت پر ایک ہی انداز سے بےعزاتی کروانا سراسر بدذوقی تھی۔ کم از کم انداز اور ذاءقہ تو بدلا جانا چاہیے۔ ایک مضمون کو سو رنگ سے باندھا جا سکتا ہے۔ اچانک ایک نئ با ت میرے ذہن میں آئ۔ میں نے اس کے سوال کے جواب میں عرض کیا“ کوئ بہت گڑبڑ میرے اندر چل رہی ہے۔"
"
کیوں کیا ہوا؟"
"
اب عینک سے دھندلا نظر آتا ہے اور بغیرعینک کے تو کچھ نظر آتا ہی نہیں"
"
میں تو پہلے ہی کہتی ہوں تمہارے سر میں دماغ نام کی چیز ہی نہیں"
"
کیا بکواس کرتی ہو“ میں نے جعلی غصہ دیکھاتے ہوءے کہا۔
"
ہاں ٹھیک کہتی ہوں"
"
خاک ٹھیک کہتی ہو"
"
ارے میں کب کہتی ہوں تمہارے دماغ میں گڑبڑ ہے‘ دماغ ہوگا تو ہی گڑبڑ ہو گی۔"
"
یہ کیا پہلیاں بھجوا رہی ہو‘ صاف صاف کہو"
"
جاؤ جا کرعینک کا نمبر بدلو"
"
میں نے پکا سا منہ بنا کرکہا ارے یہ بات تومیرے ذہن میں ہی نہیں آئ۔ تم جینیس ہو واہ واہ"
"
مروں گی تو تمہاری آنکھیں کھولیں گی"
یہ کہہ کر وہ چلی گئ۔ چاءے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔اس واقعے کے بعد اس کی ذہانت کی دھاک پورے خاندان میں بیٹھ گئ تاہم اصل بات کسی کی سمجھ میں نہ آ سکی۔ نظر مفت میں تو ٹیسٹ نہیں ہوتی اگر ہو بھی جاءے تو رکشے والامیرا پھوپھڑ تو نہیں جو مفت میں دوکانوں پر لے جاتا پھرے گا۔ اگر گرہ میں مال ہوتا تو اپنی گروی پڑی پنشن حاصل نہ کر لیتا۔ میں اصل پریشانی کسی کو بتا کر اس تماشے کا مزا کرکرا نہیں کرنا جاہتا۔ ہاں البتہ اپنی گھروالی کی ذہانت کی بانگیں دیتا پھرتا ہوں۔آج ملک عزیز میں سیاسی تناؤ کی فضا ہے۔ گریب گربا کا اس میں کوئ ہاتھ نہیں اور ناہی وہ اس سے کوئ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھیں صرف بھوک پیاس سے خلاصی کی فکر لاحق ہے جس سے چھٹکارے کی سردست کوئ صورت نظر نہیں آتی۔ سیاسی فضا گرم ہو یا سرد‘ انھیں تو بھوک پیاس میں دن رات کرنا ہیں۔ اس مسلے کو دیکھنے کے لیے کبھی کس عینک کا استمال نہیں کیا گیا۔ اس مسلےکے لیے عینک بنائ یا بنوائ ہی نہیں گئ اورناہی ضرورت محسوس کی گئ ہے۔ ہر کسی کی سوچ اپنی ذات تک محدود رہی ہے لہذا عینک کے نمبر بڑھنے یا گھٹنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہاں البتہ حصولی اقتدار کے لیے اکھاڑ پچھاڑ ضرور ہوتی رہی ہے اور ہو رہی ہے۔پہلےپہل دو تین اخبار اور ریڈیو آگہی کی کل بساط تھی۔ بی بی سی کا شہرا تھا۔ آگہی کی کمی کے باعث اتنی بےچینی نہ تھی۔ حکمران عوام سے اور عوام حکمرانوں سے اور ان کی کار گزاری سے بےخبر تھے۔ بےخبری کے سبب توازن کی صورت موجود تھی۔ آج بےخبری یکطرفہ ہے۔ عوام حکمرانوں سے باخبر ہیں لیکن حکمران عوام سے بے خبر ہیں۔ پہلے وقتوں میں سیاسی ایوانوں میں کیا ہو رہا ہے‘ کؤئ نہیں جانتا تھا لیکن آج میڈیا کے حوالہ سے معمولی سے معمولی بات گلیوں میں گردش کرنے لگتی ہے۔ بعض اوقات بلکہ اکثر اوقات سیر کی سوا سیر بن جاتی ہے۔بھولے بھالے سیاسی لوگ آج بھی پرانے نمبر کی عینک استمال میں لا رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کی عینک کا نمبر بڑھ گیا ہے۔ کمزور گرہ کے لوگ پرانے نمبر کی عینک استمال کریں‘ یہ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ لوگ تو جھٹ سے نءے نمبر کی عینک خرید سکتے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے۔ یہ تو عوام کے تابعدار ہیں اور ان کے درمیان گریب بلکہ مقروض صورت بنا کر جاتے ہیں۔ ان بےچاروں کی گرہ میں ذاتی کیا ہے سب کچھ پرایا ہی تو ہے۔سیاست کا ہنر دیگر تمام ہنروں سے زیادہ مشکل ہے۔ قدم قدم پر مشکلوں اور آزماءشوں کے کانٹے بکھرے رہتے ہیں۔ چاروں اور خطرے کے بادل امڈے رہتے ہیں۔ ایسے میں جان اور ووٹ خوری کے لیے جھوٹ اور لایعنی وعدوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ خود کو اچھا اور دوسروں کو برا کہنا سیای اخلاقیات کی مجبوری ہوتی ہے۔ پیٹ بھر کھا کر بھوک کا ناٹک کرنا پڑتا ہے۔ چاروں یکے ہاتہ میں رکھنے کی سعی کرنا پڑتی ہے۔ گو کہ بےنمبر پتوں کو بھی بطور ٹیشو پیپر رکھنے کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ بےنمبر دکی کی سر اگر اتفاقا یا تقدرا کسی پچھڑے سیاستدار کے ہاتھ لگ جاءے توملال باکمال دیدنی ہوتا ہے۔ داؤ پر قوم اور اس کے اثاثے لگتے ہیں۔ جیت ہوئ تو پرایا مال اپنا ہوتا ہے۔ مات ہوئ تو لفظ داھندلی تسکین بخش روح افزا بن جاتا ہے۔ وہ مظلومیت کی جیتی جاگتی تصویر بن کر سامنے آتے ہیں اور گھر کی کھانا نہیں پڑتی۔سیاستداروں کےاثاثوں کی بات زوروں پر رہی ہے۔ ان کے اثاثوں کی بات کرنا سراسر ظلم ہے‘ زیادتی ہے۔ یہ گریب اور مسکین لوگ ہیں۔ جب تک پاکستان کے سارے کے سارے اثاثے ان کے اپنے نہیں ہو جاتے‘ ان کی گربت ختم نہیں ہو سکتی۔ خوشحال عوام کو ملکی قرضوں کی ادءگی میں زندگی گزارنا ہو گی۔ بات کرنی ہے تو تاجروں اور مہامنشی ہاؤس کے لوگوں کے مقینوں کی جاءے۔ پہلے طبقے کے لوگوں کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ انکم ٹیکس والے ان کے دکھنے والے دانتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ثانی الذکر طبقہ خود محتسب اورہر قسم کے احتساب سے بالاتر ہے۔ آج گریب لوگوں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بالا طبقے کے خسارے اور قرض کو چکایا جا سکے۔ اس طرح وہ لوگوں کے نجی وساءل کو بھی بخوبی ہاتھ میں کر سکیں گے۔ میری یہ گزارش سیاست کی پرانی عینک کی زد میں نہیں آسکے گی۔ اس لیے سیاسی عینک کا نمبر تبدیل کرنے سے ہی سیاسی دھندلاہٹ ختم ہو سکے گی۔

معاشرہ محنت اور ذہانت کے تحت ترقی کرتا ہے

میںاس امر کا بار بار اظہار کر چکا ہوں کہ برصغیر کے لوگ بلا کے ذہین اور محنتی ہیں۔ کچھ گربت کے سبب تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور ان کی بچپن ہی سے ذہانت ہوٹلوں کے برتن دھونے میں ضاءع ہو جاتی ہے۔ کچھ سردیوں کی سرد راتوں میں گرم انڈے فروخت کرتے کرتے جوان ہو کر معاشرے کی بےحسی کا ثبوت بن جاتے ہیں۔ بڑی کرسیوں پر برجمان اپنی عیش وعشرت کا سامان بہم کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ انھیں کسی کے دکھ درد اور بھوک پیاس سے کوئ غرض نہیں ہوتی۔ اربوں جمع کرکے بھی مزید کی ہوس ان کا نصیبہ بن جاتی ہے۔


یہ معاشرے کے اپنے بچے ہیں۔ معاشرہ ان کی محنت اور ذہانت کے تحت ترقی کرتا ہے۔ بڑی کرسی والے خود غرض سہی معاشرے کو انھیں ہر حال میں سمبھالا دینا چاہیے۔ اہل ثروت یہ دیکھتے ہیں کہ انھیں اس سے کیا فاءدہ ہو گا۔ انھیں فاءیدہ نہ سہی' دیکھنا یہ ہے کہ ان سے معاشرے کو کیا فاءدہ ہو گا۔ ذہانت کو واپسی ملنے والے فاءدہ کے ترازو پر رکھا جاءے گا تو بات نہیں بن سکے گی۔ اس معاملے کو یوں بھی لیا جا سکتا ہے کہ یہ خوشحال ہوں گے تو ان کی قوت خرید بڑھے گی۔ قوت خرید بڑھنے سے تاجر حضرات کے کھیسے بھریں گے۔



جو بچے ٹیکنیکل کاموں کی طرف چلے جاتے ہیں اپنی فطری ذہانت کے بل بوتے پر حیرت ناک کام سرانجام دیتے ہیں لیکن ان کی ذہانت گوشہ ء گمنامی کا شکار رہتی ہے۔ ان کی کوئ حوصلہ افزائ نہیں ہو پاتی۔ اس کے دو نتیجے برآمد ہوتے ہیں
:
اول۔ بھوک و پیاس اور حالات کی تنگی ترسی برداشت کرتے کرتے مر کھپ جاتے ہیں۔



دوم۔ مجبورا غربت اختیار کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی ذہانت سے غیر والایتوں کے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔



ٹی وی کی خبروں کے مظابق ایک صاحب نے پانی سے گاڑی چلا دی ہے۔ اس کی حوصلہ افزائ کرنے کی بجاءے مذاق اڑایا جا رہا ہے اسے فراڈ کہا جا رہا ہے اور یہ بڑے ہی دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ آخر اس میں فراڑ والی کیا بات ہے۔ فراڈ قرار دینے والے جواب دیں بجلی کس سے بنتی رہی ہے۔ ریلوے کے بڑے کالے انجن کس سے چلتے تھے بھاپ سے اور بھاپ کس سے بنتی ہے پانی سے۔ اگر اس نے محنت کرکے اور بھیجے کا استعمال کرکے ایسی کٹ بنا لی ہے جو پانی سے نکلتی بھاپ کو انرجی میں کنورٹ کرکے گاڑی چلا دی ہے یا اس کٹ کے ذریعے بجلی حاصل کرکے گاڑی چلا دی ہے تو مجھے تو اس میں فراڈ والی کوئ بات نظر نہیں آتی۔



کہا گیا ہے یونیورسٹی کے پروفیسروں سے حق سچ کی مہر ثبت کراءیں گے۔ اگر وہ اتنے لاءق پتر ہوتے تو بہت پہلے یہی چیز تیار کر چکے ہوتے۔ یونیورسٹی کے پروفیسروں کے پاس اتنا وقت کہاں ہے۔ ان بےچاروں کو تو جوان کڑیوں سے ٹھرک جھاڑنے سے فرصت نہیں۔ اسکول ماسڑ اور کالج کے پروفیسر نہ ہوں تو ایجوکیشن کا منشی کدہ تعلیم کو کب کا دریا برد کر چکا ہوں۔ سروے کروا دیکھیں



تحقیق و تلاش کا سارا کام کالج کے پروفیسر نے ہی کیا ہے۔ ڈگری کے لالچ کے بغیر یہ لوگ کام کر رہے ہیں حالانکہ انھیں اس مغز ماری کے حوالہ سےکبھی کچھ حاصل نہیں ہوا۔



کیا پانی سورس آف انرجی نہیں ہے۔ اگر ہے تو حوصلہ شکنی کے کیا معنی لیے جاءیں۔ اس سے کمشن کے گلچھرے ختم ہو جاءیں گے۔ پڑول اور گیس کی قیمتوں میں ہر دوسرے روز اضافے کی موجیں ختم ہو جاءیں گی۔ یقینا عیش وعشرت کی دنیا میں بھونچال آجاءے گا۔ پانی ہر قسم کی گیس ہوا بھاپ ریت کچرا دھوپ گوبر دھواں جانوروں کا پیشاب ہڈیاں وغیرہ انرجی کا ذریعہ ہیں۔ ان چیزوں سے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر قدیر زندہ ہیں ان سے دریافت کر لیں۔ دراصل تڑپنے پھڑکنے کا نظارہ کرنے والوں کے یہ وارہ کی چیزیں نہیں ہیں۔ لوگوں کو اذیت دے کر انھیں مزا آتا ہے۔



آپ کو یہاں کا بابا آدم ہی نرالہ نظر آءے گا۔ پہلی سے انگریزی کی تعلیم شروع کر دی ہے۔ اتنی مشکل کتابیں ہیں کہ دسویں پاس بھی انھیں پڑھ نہیں سکتا ہے۔ اس حوالہ سے انگریز کی ٹی سی تو ہو جاءے گی لیکن نسل کا بیڑا غرق ہو جاءے گا۔ کیا ان کو اباما کی کرسی پر بیٹھانا ہے؟



اسی طرح میٹرک میں حساب میں پاس ہونا کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ کیا آرٹس کے بچوں نے آڑھت یا کسی بنیک میں اکاؤنٹنٹ بننا ہے۔ جغرافیہ جو بڑی لازمی چیز ہے لایعنی سا ہو گیا ہے۔ انگریزی اور حساب لازمی قرار دے کر کھیسے تو بھرے جا سکتے ہیں لیکن نوجوان نسل کو ناکارہ کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں مضموں کو آپشنل ہونا چاہیے۔ جو پڑھے گا شوق سے پڑھے گا اور قوم وملک کے لیے کار آمد ثابت ہو گا۔


آخر میں قارءین سے گزارش

  ہے کہ وہ اس ذہین شخص کی زندگی کی دعا مانگیں کیونکہ جو گرہ کا دشمن ہوا ہے اس کے پاسے باخیریت نہیں رہے۔

How MQM is ruling Karachi - Must watch

http://tune.pk/video/12378/How-MQM-is-ruling-Karachi-Must-watch

Aaj Ka Cartoon - RaiWind aur AWAAM

How to Live a Less Stressful Life: 10 Simple Tips

"The time to relax is when you don't have time for it."
Jim Goodwin
 
"For fast-acting relief, try slowing down."
Lily Tomlin
 
Stress sucks. It sucks joy and the life out of you.
 
So today I'll share 10 of my favourite tips that I use to minimize stress and live a more relaxed but at the same time productive life. I hope you find something helpful here, even if it's just a few reminders of things you had forgotten about.
 
1. Accept the situation.
 
Stress is often to a large part resistance to what already is. You may be in a stressful situation and think to yourself that this situation shouldn't be, that you shouldn't be here. But the situation has already arisen, is here, and so are you.
So to decrease the stress and resistance you accept the situation. With your resistance gone or lowered you can now direct your mental energy and focus to finding a solution in a level-headed manner instead of trying to do it while panicked or confused.
 
2. Take everything less seriously.
 
Taking things or yourself overly serious adds a lot of unnecessary negativity and stress to your life. A minor situation may be blown up to a major one in your mind. If you just learn to lighten up a bit, life becomes more fun and you realize that you get great results even if you aren't super-serious about everything.
 
3. Decrease or put a stop to negative relationships.
 
If someone is always making you more stressed or creates a lot of negativity in your life you may want to consider decreasing the amount of time you spend with that person. Some people almost seem to like to dwell in negativity. That is their choice. It's your choice if you want to participate.
 
Or you can choose to hang out more with relaxed and non-stressed people. Both in real life and by watching/listening to CDs and DVDs. Two guys that tend to calm me down when I listen/watch them are Eckhart Tolle and Wayne Dyer.
 
4. Just move slower.
 
You emotions work backwards too. If you slow down how you walk or how you move your body you can often start to feel less stressed.
 
This allows you to think more clearly too. A stressed mind tends to run in circles a lot of the time. And slowing down to decrease stress goes for other forms of movement too, like riding your bicycle or driving the car.
 
5. Exercise.
 
A simple and time-tested way to decrease inner tension. Regular exercise can do wonders for both your mind and body. This is one of the solutions that work most consistently for me.
 
6. Find five things you can be grateful for right now.
 
Being grateful and appreciating your life and surroundings is one of the most effective ways to turn a negative emotional state to a more positive one. So find a few things you are grateful for right now.
 
Perhaps it's the sunny weather, that you feel healthy and energetic today, that you have just eaten a delicious after-noon snack, that the guy/gal that just walked by had a great looking jacket on and that tonight there is a new episode of your favourite TV-show to enjoy.
 
7. Look for solutions.
 
When faced with a challenge that can cause stress, try to direct your focus to solutions rather than to dwelling on the problem for too long. Dwelling only causes more stress and makes your mind less open to finding a solution.
 
8. Be early.
 
Just be 10 or 5 minutes early for meetings etc. This very simple tip can cut down on stress quite a bit.
 
9. Do just one thing at a time.
 
Single tasking and focusing on doing just one thing at a time not only decreases stress but from my experience gets things done a whole lot quicker than if you multitask.
 
10. Talk to people around you about it.
 
Perhaps they can offer you advice that has worked for them or just an ear and some support. Just telling someone about something, just getting it out can often help to relieve some of the stress.

Wednesday, November 28, 2012

ازان کا جواب

 

A great gift for all muslims (Rizq kee Qadar)

Must Check عیسائی بادشاہ کے چار حیرت انگیز سوالات



Post Adal-e-Nabwi SAW Ka Karishma عدل نبوی ﷺ کا کرشمہ

  

Dunya G lagany ki Jagga nahi (Must Read)

ﺍﯾﮏ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺳﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻭﺍﻗﻊ ﮐﮭﻨﮉﺭ ﻧﻤﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ
19ﻧﻮﻣﺒﺮ 2011ﮐﻮﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ
ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ً ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﯾﺎﭼﮭﮯ ﻣﺎﮦ

ﺳﮯ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﻮ ﺍ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﺴﺘﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮞﻨﮧ ﺗﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﻤﺮﮮ
ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ
ﮐﮧ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺗﮫ ﺭﻭﻡ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﺑﮭﯽ
ﻣﯿﺴﺮﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ
ﭘﯿﺸﺎﺏ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﺳﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ
ﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ
ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﮕﺘﺎ
ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﭘﯿﺎﺳﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﮐﺌﯽ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮞﮩﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ
ﻣﯿﮞﭙﮍ ﺍ ﻣﯿﭩﺮﺱ ﺗﮑﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺒﻞ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﮔﻨﺪﮦ ﺍﻭﺭ
ﺑﺪﺑﻮ ﺩﺍﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﻮ ﺭﮨﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ
ﺑﺎﺕ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﻦ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮔﻨﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺑﻮ
ﺩﺍﺭ ﮐﻤﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ
ﺷﺨﺺ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﻡ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮩﯿﮞﺘﮭﺎﺑﻠﮑﮧ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ
ﭘﮩﻠﮯ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ
ﺍُﺳﮑﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﺍﺛﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔ﻭﮦ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ
ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﯿﺎﺷﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﮈﺍﻟﺮﺯ ﮐﭽﮫ ﺳﮑﯿﻨﮉ
ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻟﻨﺪ ﻥ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ
ﮐﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮨﯽ ﺍُﺳﮯ
ﺷﻤﺎﻟﯽ ﻟﻨﺪ ﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭ ﺕ ﮔﮭﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ
ﻣﺎﻟﮏ ﮔﮭﺮ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎ ﺭ ﻧﮩﯿﮞﺘﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺿﺪ
ﻣﯿﮞﺂﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﮈﺑﻞ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ
ﮐﮭﮍﮮ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﻭﮌ ﺑﺮﭨﺶ ﭘﺎﺅﻧﮉﺯ ﮐﺎ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﺎ
ﺟﺴﮑﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺍﯾﮏ ﺍﺭﺏ
ﭼﺎﻟﯿﺲ ﮐﺮﻭ ﮌ ﺭﻭﭘﮯ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ۔ 2009 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻧﮯ
ﺍﭘﻨﯽ 37ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﻣﻨﺎﺋﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻣﯿﺮ
ﺗﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺱ ﮐﮯ
Albanian tycoon ،ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ
Peter Munkﺍﻭﺭ prince of Monaco Albertﺟﯿﺴﯽ
ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺷﺨﺼﯿﺎ ﺕ ﻧﮯ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ
ﯾﮧ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ
ﺷﻤﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﮩﻨﮕﯽ
ﭘﯿﻨﭩﻨﮓ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﮈﺍﻟﺮﺯ
ﻣﺎﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﻨﮓ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺯﯾﻨﺖ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ
ﺗﮭﺎ ۔
2006ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺭﮐﺎﺭﮦ Orly
weinermanﺳﮯ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ
ﻣﺤﺒﻮﺑﮧ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺒﺎﺭ
ﻟﮕﺎﺩﺋﯿﮯ ﭼﻨﺎﭼﮧ orly weinermaﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﻝ
ﻓﺮﯾﻨﮉﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﺗﺮﯾﻦ ﮔﺮﻝ
ﻓﺮﯾﻨﮉﺗﮭﯽ ۔ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﭨﻮﻧﯽ ﺑﻠﯿﺮﮐﺎ
ﻭﮦ ﺑﯿﺴﭧ ﻓﺮﯾﻨﮉﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﻃﺎﻧﻮﯼ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﺳﮯ
ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﺳﮯ buckingham palaceﺍﻭﺭ winsley
castleﻣﯿﮟ ﻟﻨﭻ ﺍﻭﺭ ﮈﻧﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﮧ ﻟﻨﺪﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ
ﻣﯿﮟ ﭘﻠﮯ ﺑﻮﺍﺋﮯ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺟﮩﺎﻥ
ﮐﮯ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮍﺍ ﻓﺨﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ shanzelize street ﭘﺮ
ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺗﯿﺲ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﻓﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼ ﮐﺮ
ﭘﻮﺭﯼ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮﺩﯾﺎﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ ﺳﭩﯽ
ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﺎ
ﭼﺎﻻﻥ ﺗﮏ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﯽ ۔ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ investment
authorityﮐﺎ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﺗﮭﺎﺭﭨﯽ
ﺍﺗﻨﯽ ﭘﺎﻭﺭ ﻓﻞ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ 10$ billionﺗﮏ ﮐﯽ ﺳﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺎﺭﯼ
ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ ۔ﺍﯾﺴﯽ
ﺷﺎﻥ ﻭﺷﻮﮐﺖ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔُﺰﺍﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ
19ﻧﻮﻣﺒﺮ2011ﺀ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﺑﺪﺑﻮ ﺩﺍﺭﮐﻤﺮﮮ
ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺑﻮ ﺩﺍﺭ ﮐﻤﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﺎ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﺗﮭﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ
ﻧﻤﺒﺮ ﭘﺮ ﺗﯿﻞ ﺳﮯ ﻣﺎﻻﻣﺎﻝ ﻣﻠﮏ ﻟﯿﺒﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺑﻖ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ
ﮐﺮﻧﻞ ﻗﺰﺍﻓﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻗﺰﺍﻓﯽ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﺸﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﺒﯿﺎ
ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﻋﮩﺪﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺒﯿﺎ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﺎﺍﺛﺮ
ﺗﺮﯾﻦ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺎ ﺍﺛﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻭﺭ ﻓﻞ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺮﻧﻞ
ﻗﺬﺍﻓﯽ ﮐﻮ ﻧﯿﻮﮐﻠﯿﺌﺮ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﺗﺮﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺑﮭﯽ
ﺍﺳﯽ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﻞ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼ ﻡ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﯿﺒﯿﺎ
ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﻗﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ
ﺑﺪﺗﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ
ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻗﺪﻡ ﻟﯿﺒﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮ ﺍ ﻟﻨﺪ ﻥ ﯾﺎ ﭘﯿﺮﺱ
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ ﺑﮍ ﯼ ﺑﮍﯼ
ﮐﻤﭙﻨﯿﺎﮞ ﺧﺎﺹ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﭘﺮﻓﯿﻮﻣﺰ ﺗﯿﺎ ﺭ
ﮐﺮﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮞﯿﮧ ﻭﮨﯽ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ
ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﮏ ﻣﻠﮑﮧ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺷﺎﮨﯽ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺑﻨﺘﺎ
ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮏ ﺍُﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ
ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ﻭﮦ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﺟﺲ ﮐﮯ
ﻟﯿﺌﮯ ﻟﻨﺪﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﻟﻨﭻ ﺍﻭﺭ ﮈﻧﺮ ﺯ ﮐﺎ
ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﯿﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﺝ ﺍُﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ
ﺑﮭﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﮯ
ﺍﻧﺪﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﻭﮌ ﭘﺎﺅﻧﮉﺯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ
ﭘﺎﺱ ﺁﺝ ﺳﺮ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﺖ ﺗﮏ ﻣﯿﺴﺮ
ﻧﮩﯿﮞﮩﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮐﻞ ﺗﮏ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﭘﺘﯽ ﻟﻮﮒ
ﺑﯿﺴﭧ ﻓﺮﯾﻨﮉﺯ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﺝ ﻭﮨﯽ ﺑﮯ ﯾﺎﺭﻭ ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ
ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺩﮨﺎﺋﯿﺎﮞ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ
ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ
ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﺘﮯ ﮨﯽ ﻋﺮﺵ ﺳﮯ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ
ﺳﮯ ﻓﻘﯿﺮ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﷲﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﻗﺎﮨﺮ ﺑﻦ
ﮐﺮ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﭻ ﻧﮩﯿﮞﺴﮑﺘﺎ۔
ﺍﯾﺴﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺟﻮﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ
ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮞﺎﻭﺭﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻧﺸﮯ ﻣﯿﮞﺒﮩﮏ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﺮﻭﺏ
ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﮐﺎ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ
ﭼﻤﮑﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﯿﻒ ﺍﻻﺳﻼﻡ
ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﭼﯿﺦ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﺎ
ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﮭﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮯ ﺣﺲ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ
ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﯾﺴﺎ
ﮨﯽ ﺩﺭﺩﻧﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

Friday, November 23, 2012

How to Celebrate The Joy of Everyday

Every day brings fresh happenings, unique situations and circumstances to those who look at the world with new eyes. Every day carries with it many opportunities to find and to create joy, so long as this is the outcome that you seek.


A gentleman in a store asked me the other day how the day was going for me. I provided a one-word answer - "perfect". A look of surprise came over his face and then he admitted that I was the first person who had provided that answer in the two year period that he had asked the same rhetorical question of every customer who stood on the opposite side of his counter.


Apparently most people respond that their day is pretty average, so-so or in fact pretty awful. Few people state that their day is going well, let alone that it is great or perfect. Don't you find that sad?


An octogenarian friend whom I admire greatly often quips, "If you're not having fun it's your own fault". Some people work their way through life with endless curiosity, humor and enthusiasm whilst others sadly do not. Living with an attitude of childlike wonder and joy makes life so much better in very many ways; it's more fun, more enjoyable and a whole lot easier on the mind and body.


The people who have this light and bright attitude do always acknowledge that their attitude is their own choice. They recognize that they have chosen to view their world in this way. In contrast, those who have a bleaker outlook on life tend to believe that they do not have a choice in this matter, that life has thrown them a tough, difficult or unfair hand.


Once you realize that you do have a choice in how you view circumstances, irrespective of how good or bad those circumstances happen to be, you will find that a huge weight is simultaneously lifted from your shoulders. You immediately step out from beneath black and threatening clouds and instead find that you can see blue sky and bright sunlight.


Happiness comes from within. Happiness does not derive from circumstances or events; rather, it comes from choosing to see your world in a relaxed, comfortable and positive manner. In choosing to take responsibility for the way in which you think, you free yourself to enjoy the inherent beauty of your world.


Roseanna Leaton, specialist in hypnosis downloads designed to promote clear thinking and happiness.


P.S. Discover how you can focus your mind with hypnosis. Grab a free hypnosis download from my website now.
Do you think you have a choice in how you see your world? Or do you feel that you are restricted by difficult circumstances?

Tips for Brides to Avoid Stress and Enjoy the Wedding Planning Experience

Here are a few tips to keep you feeling good and to help you actually enjoy the process of planning your wedding.

If you’re like most brides, you’re busy planning your wedding with little or no help from anyone else. Those who are caught up in wedding plans can often get sidetracked and can become stressed out in the entire process. The result? A stressed out, frazzled bride who isn’t having much fun. Instead, try a few tips to keep you feeling good and to help you actually enjoy the process of planning your wedding.

Slow Down – Most brides take off running as soon as they get engaged. It’s a good idea to take a step back and take a deep breath. You don’t need to be planning your wedding every minute of every day. By slowing down you’ll be able to see what you’re doing, become more organized, and actually enjoy the planning process.

Get Help – No, you don’t need to do everything yourself. One mistake many brides make is thinking that they must have a hand in each and every item on their wedding planning list. Instead, get some help. Delegate some of the tasks to others and allow them to handle their tasks without interference. This will help you prepare for the wedding without extra stress.

Don’t Sweat the Small Stuff – Some brides get caught up in the small details of the wedding. Remember that some decisions really don’t matter all that much. Don’t dwell on the little details and keep in mind the details that are most important. As the bride you’ll need to be able to let some of the decisions go and don’t worry about the small things.

Keep the Big Picture in Mind – Remember that the process itself is part of the fun of the wedding experience. After all, for all the months of planning, the wedding itself will be over in a matter of a few short hours. You’ll be happier throughout the process if you can enjoy the experience of planning the event.

Don’t become a Bridezilla – Nobody likes a crazy bride. Avoid becoming a bridezilla by taking things less seriously. If you find yourself slipping into this stage it’s time to step back and do something to relax. Take a day off from planning and do something else. Have some fun with your fiancé that doesn’t revolve around planning the wedding.

Stay Organized – If you stay organized you’ll have a much easier planning time and therefore a better experience. Keep a notebook and calendar with all the information you need in one place. Use a timeline to keep you on track.

Relax – Finally, it’s important to stay relaxed. When you’re tense and nervous you won’t be enjoying yourself. Take bubble baths, get regular massages, exercise, and do fun activities that you enjoy. When you find yourself getting too stressed out do something to help relax and release the pressure you’re feeling. Ask your best friend to help you recognize when you’re getting too stressed out so you can take some time to renew yourself.

How To Improve Your Time Management Skills Using 5 Simple Tips

If you always find yourself late for work, school or an appointment - or you often fail to finish your tasks - then you need to learn how to improve your time management skills.
It’s not that hard, although it might seem that way at first. Habits can be tough to break; but if you stick to your regimen for at least 21 days, then you have a good chance of developing a new habit: one that makes sure you’re always on time.
Learn how to manage your time better using these 5 simple tips below:

Tip # 1: Schedule Your Day.
If you want to learn how to improve your time management skills, then you need to have a concrete schedule for the day. Don’t get out of bed thinking that you’ll just wing it, because it often leads to a lot of time wastage.
It would be best to schedule and plan your tasks the night before, because your subconscious mind will help process their fulfillment while you're sleeping.


Tip # 2: Create A Check List.
If you have deadlines coming up, then you need to create a list arranged according to priority. This helps keep you on track and even encourages you to do more as fast as possible. There’s nothing like a list to keep you motivated and pressured to do your job.


Tip # 3: Do Everything Faster.
I know this sounds like something your irrational boss would say, but doing things faster is quite a legitimate solution to manage your time effectively.
Cooking breakfast, for example, can be done a lot faster if you’ve prepared the meal the night before. Getting to work might also be done faster if you stopped to refill the fuel in your tank on your way home from work.

Tip # 4: Stop Wasting Time.
Spacing out for even just five minutes is a waste of time. Not taking a shortcut is also a waste of time. If you want to learn how to improve your time management skills, then you need to cut down on the activities that aren’t related to work.
Chatting with your co-workers is fine; but perhaps you need to cut down on that too, especially if you have a deadline to meet.

Tip # 5: Learn To Multi-task.
Multi-tasking is not always advisable, especially if the tasks you’re doing need your full concentration. In smaller tasks, however, I’m sure you can do more than one thing at a time. Want some examples?
How about reading a book while waiting for the food you're cooking to boil? Cleaning your room while talking to your parents is another way you can multi-task. And perhaps one of the best multi-tasking activities you can do is listening to motivational CDs while driving your car.
You probably didn't have any lessons on how to improve your time management skills when you were still studying in school. There might have been seminars, yes, but it is from experience that you really learn how to make good use of your time.

If you always find yourself late for work, school or an appointment - or you often fail to finish your tasks - then you need to learn how to improve your time management skills. This article shows you how.

kaash esi khabar sun'ne ko milti.

Report on “Women in Pakistan IT Industry” Unveiled


Pakistan Software Houses Association (P@SHA) today unveiled its research report on working women in Pakistan IT industry, in a press conference held in Karachi.

The research is based on responses from 50 companies and 125 individuals – it targeted IT companies as well as large IT departments within non-IT companies.

Research report revealed that women account for 14% of the IT workforce, of which 37% are at the mid-career level while 13% are in Senior Management positions.

The data also pointed towards the presence of the infamous glass ceiling. Despite years of experience a large proportion of the women has been unable to move beyond mid-level positions.

Another observation was the significantly low number of women who hold more than seven years of work experience under their belt. This stunted retention can be attributed to the ‘leaky pipeline effect’, whereby life events force women’s careers to often take a back seat.

In the context of HR policies and practices, a majority of women were satisfied with their work environment. While paid maternity leave, flexible hours and emergency leave were the most commonly offered benefits – there were still some companies who failed to incorporate paid maternity leave (a basic HR benefit worldwide) in their package.

The participants complained about long hours and recommended flexible and shorter work timings, transportation and day care facilities.

One gap identified was the lack of training and mentoring programs. Most of the polled companies did not extend such opportunities to female employees, despite their proven effectiveness in enhancing the abilities of employees.

Women reported that they did not feel undervalued in comparison to male counterparts but wished to see a reduction in gender stereotyping of IT roles.

Jehan Ara, president PASHA, encapsulated the motivation behind the initiative by saying that participation of women in the workforce has been shown to have positive effects on a nation’s economy.

“We aimed to not only get real facts and figures on women’s participation in IT but also aimed to explore the extent to which women are enabled and equipped to succeed in IT.

We explored key reasons which may also prevent new entries into the IT field, as well as factors affecting women’s growth. We hope that this report can be a first step towards gaining visibility for the critical roles that women play in this otherwise male-dominated industry”, noted Jehan Ara.
Nadeem Elahi, Chairman PASHA, present at the occasion talked about the growth of the Pakistan IT industry in the face of domestic and international challenges. Nausheen Ishtiaq, Research Associate, was also present at the press conference.

You can download the report by clicking this link. (PDF File – 3.49 MB)

The country’s IT industry is generating an estimated $2.8 billion in revenue (excluding the retail segment), making up 1.2% of the GDP. He said that buoyed by improved policies and support, this figure could easily be pushed to $10 billion mark.

GENERAL KNOWLEDGE OF HOLY QURAN

GENERAL KNOWLEDGE OF HOLY QURAN

Total Pageviews