Monday, February 28, 2011

Allah toba ...........

Basant ka Matam -by Arshad Mahmood

Basant (Jashn-e-Baharaan) in Pakistan

The festival is limited in its celebrations in Pakistan. Instead, the celebrations of spring known as ‘Jashn-e-baharaan’ in Urdu, are carried on in the entire country for almost a month. Basant, in particular, is celebrated in eastern Punjab especially Lahore. Lahore being the historic capital of Punjab celebrates Basant with a lot of vigour and enthusiasm. Although traditionally it was a festival confined to the old-walled city it has spread all through out the city. Other cities in which Basant is mainly celebrated are Gujranwala, Faisalabad, Jhelum,Kasur,Sialkot and Rawalpindi/Islamabad.
Basant is celebrated with great joy in Lahore, and the truth behind the Basant ruling is the religious clerics’ hatred of the festivity, as an article published in the ‘Express Tribune’ a Pakistani Newspaper states:

The Basant prohibition has been explained officially in terms of foul play by kite flyers who use metallic wire or coat their twine with such preparations that it becomes fatal for the people in the streets who happen to get it on their throats.
But the real reason is the clerics’ hatred of the festivity. They campaigned against it calling it a Hindu festival and a pagan ritual. The Muslims, they insisted, must be barred from it. It was on account of this campaign that the prohibition was proclaimed.
Hindus revere and worship everything in nature. To them, the stars, the planets, the rivers, the mountains, the trees, the birds all reveal some aspect or attribute of some god or goddess. But should this give them a monopoly on nature’s bounties? Don’t we benefit from the natural phenomena? Why should their behaviour bar us from our joys?
The Hindu Basant Panchumi involves certain acts of worship. For the Muslims the Basant festival was started by Nizamuddin Aulia. Amir Khusrau, the story goes, was on his way to visit his spiritual mentor when he noticed mustard fields in full blossom. He also saw a lot of people wearing the colour: women in yellow saris, men in yellow turbans.
The scene inspired the poet in him. He plucked a branch carrying several mustard flowers and placed it in his turban. He also came up with a verse invoking the spring showers to demand flowers and wine.
Nizamuddin, for his part, had for months looked dejected following the death of his favourite nephew. He had stopped listening to music and had not been seen smiling in a while. The verse brought a smile to his face. Noticing the flowers Khusrau was carrying in his turban, he demanded an explanation. Told that the people were celebrating the advent of spring, he instructed his followers to do likewise. The little hint from Sultan Ji opened the doors for Delhi’s Muslims.
The festival became so popular with Delhi’s Muslim population that it came to be regarded as their representative celebration. It was particularly associated with the city’s sufi shrines. And it was no longer a one-day affair; it went on for weeks.
Flowers were offered at the Qadam Sharif on the first day of the month and perfumed water sprinkled. Sweets were distributed and samaa sessions held. The next morning, people wearing the mustard yellow would visit the shrine of Bakhtiar Kaki. In the evening lamps were lighted at the tomb of Chiragh Delhi. On the third day the festival would arrive at the shrine of Nizamuddin where a samaa session was also held.
The forth evening was dedicated to Shah Hassan Rasoolnuma. The fifth day everybody visited the shrine of Shah Turkmen. The sixth day ministers, courtiers and dignitaries visited the High Fort to greet the king. Bahadur Shah Zafar, the last king, a poet himself, came up with the verse that is still raga singers’ favourite for Basant recitals.
Eventually the festival grew into a month-long celebration. Separate days were now reserved for Basant offerings and celebrations at still more sufi shrines including the Haray Bharay Shah’s, the Sarwar Shaheed’s and the Bholu Shah’s.
By the year 1857, according to a researcher, Muslims in northern India in general and those in Delhi and Agra in particular, celebrated Basant with great fervour. Kite flying was a popular Basant activity in the Punjab. Kite flying at Basant in Lahore is thus nothing new or very recent. It has long been associated with the festival.
So, the authorities’ view of the festival is at a variance with our cultural history. Our sufi saints considered Basant permissible fun but our clerics and officials today see it as un-Islamic. How callous do they have to be to refuse to tolerate people enjoying themselves; to try and douse all occasions of joy?

Piddi ka shorba: Opportunists of the PPP – by Abbas Ather

Abbas Ather’s take on Shah Mahmood Qureshi and the Raymond Davis case. Mr Ather also offers a detailed history of the PPP, its ideals, struggles and internal divisions as a context of recent developments. (Source: Express, 21,22, 26 Feb 2011)

Lahoris' romance with Imran Khan, that began in 70s, reaching new horizons.

Imran Khan's regular interaction with masses making inroads in the hearts of masses which is near to impossible for anyone who's never been in power politics.

Thats what needed to strengthen democracy in Pakistan, an outsider in the corridors of power. Only an outsider can only bring an end to the status quo.

Imran Khan's dedication, committmant & untiring struggle in the presence of all odds (champions of power politics) to educate the masses in raising their voice against the status quo of 60 odd years bearing fruits.

ایک نکاتی ایجنڈا

خودکشی اور شہادت

خودکشی اور شہادت

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ

کئی بار سوچا مقتول بلکہ شہید فہیم کی بیوی کی خودکشی پر لکھوں مگر ہمت نہیں پڑتی تھی۔ میں مولوی صاحبان سے اس لئے ڈرتا ہوں کہ ان کی عزت میرے دل میں ہے۔ جس خوف میں شوق بھی ہو تو وہ بزدل نہیں ہوتی۔ کچھ باتیں ملامتی ہوتی ہیں کچھ علامتی ہوتی ہیں مگر یہ لوگ سلامتی کے سارے معانی نہیں جانتے۔ میرے خیال میں جسے کوئی امریکی اہلکار قتل کر دے تو وہ خود بخود شہید کے مرتبے پر فائز ہو جاتا ہے۔ میں بھٹو دوست ہونے کے باوجود جنرل ضیا کے لئے بے قراری سی محسوس کرتا ہوں۔ شہید کی بیوی کو بیوہ نہیں کہنا چاہئے۔ زندہ آدمی کی بیوی کو بیوہ نہیں کہا جاتا زندگی کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک آدمی کئی زندگیاں جیتا ہے۔ فہیم کی بیوی نے تو اپنی جان اپنے شوہر کے لئے قربان کر دی ۔ قربانی کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ شمائلہ ایک بہادر خاتون تھی اس نے بے حس معاشرے میں زندہ رہنے سے انکار کر دیا۔ ایک بے انصاف معاشرے میں زندہ رہنا بھی جرم ہے اور ظالمانہ معاشرے میں ظلم ہے۔ جرم اور ظلم ہمارے ہاں عام ہو گئے ہیں۔خدا کی قسم شمائلہ کے پاس طاقت ہوتی تو وہ ظالموں ، حاکموں کو مزا چکھا دیتی۔ اس نے اپنے آپ کے ساتھ جو واردات کی۔ اس کی طرف سے یہ کارروائی قاتلوں اور قاتلوں کا ساتھ دینے والوں کے ساتھ نہ ہو سکتی تھی۔ اس نے کچھ دن انتظار کیا ہماری پولیس اور انتظامیہ ظالموں کا ساتھ دیتی ہے۔ وہ مظلوم کی ساتھی نہیں۔ شمائلہ ”خون کا بدلہ خون“ کی آرزو کے ساتھ مر گئی۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ امریکہ کے غلام اس کے شوہر کے قاتل کو چھوڑ دیں گے۔ اور وہ یہ منظر نہ دیکھ سکتی تھی۔ اس نے احتجاج کیا یہ آنکھیں کھول دینے والا ردعمل ہے۔ خودکشی حرام ہے۔ یہ زندہ رہ جانے والوںکے لئے ایک پیغام ہے۔ مگر زندہ لوگ شمائلہ کا پیغام بھی سنیں۔ ....

عشق کے دردمند کا طرز کلام اور ہے
تیرا پیام اور ہے میرا پیام اور ہے

فہیم کے ساتھ اس کا رشتہ محبت کا تھا۔ اور محبت کے لئے بیان دینے والا حرام موت نہیں مرتا۔ پاکستان میں ہر آدمی نے شمائلہ کی جرات کو سلام کیا ہے۔ خودکشی حرام ہے مگر کبھی اس موت پر حیرانی ہوتی ہے اور حیرانی حرام نہیں ہے۔ کون ہے جو اپنے ہاتھ کی انگلی پر بھی زخم کرنے دیتا ہے۔ موت سے بچنے کے لئے لوگ کیا کیا کرتے ہیں۔ دوسروں کو موت کی نیند سلا دینے والے زندہ رہنے کی طلب میں سب کچھ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ریمنڈ کو موت سے بچانے کے لئے پورا امریکہ اور صدر اوباما بے تاب ہیں۔ فہیم اور فیضان کو ریمنڈ نے قتل کیا۔ عبادالرحمان بھی اسی کی وجہ سے قتل ہوا اور فہیم کی بیوی کا قاتل بھی ریمنڈ ہے اور یہ پورا نظام ہے یہ حکومت ہے اور معاشرہ ہے۔ نجانے کیوں میرا دل اسے خودکشی کہنے کو نہیں مانتا۔ یہ خود کشی بھی ہے تو پھر بھی یہ خودکشی نہیں۔ خودکشی بھی خاص حالات میں شہادت ہو سکتی ہے۔ آدمی اپنے اندر بھی شہید ہوتا ہے۔ خودکشی کرنے والا بے حسی کی انتہاﺅں کو چھو کر یہ عمل کرتا ہے۔ یہ عشق کی بے حسی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ احتجاج کی سب سے بڑی شکل ہے۔ شمائلہ کے دل میں اپنے شوہر کی محبت اس طرح گھل گئی تھی کہ اس نے اپنی بے اختیاریوں کو بے قراریوں میں بدل لیا تھا۔ بے اختیاریاں اختیار کی ایک شکل بن جایا کرتی ہیں۔ پنجابی کا یہ مصرعہ کس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ....ع
مینوں لگ گئی بے اختیاری

مجھے جنرل نیازی یاد آتا ہے۔ میں اسے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا موجب نہیں سمجھتا۔ مگر یہ بات مجھے تڑپاتی ہے کہ اس نے دشمن جرنیل کے سامنے ہتھیار کیوں ڈالے۔ یہ بھی مجبوری تھی جس کے سامنے وہ بے بس ہو گیا۔ تو بے بسی کا اظہار یہ بھی تھا کہ جو پستول اس نے پلٹن میدان میں خالی کیا۔ وہ اپنے سر میں مار کر خالی کرتا اور ہتھیار نہ ڈالتا۔ اس طرح ہمارے دل میں نامعلوم بے قراریوں سے بھر جاتے۔ وہ میدان جنگ میں نہ مر سکا تو پلٹن میدان میں مر جاتا۔ دشمن کے ہاتھوں اس کی موت نہ لکھی تھی تو وہ خود اپنا قاتل بن جاتا۔ خدا کی قسم میں اس خودکشی کو شہادت کہتا جو ہمیں تاریخی اور عالمی رسوائی سے بچا لیتی۔ اس طرح مرنا تو حرام نہیں ساری قوم اسے سلام کرتی اور یہ گارڈ آف آنر سے زیادہ بیش بہا ہے۔

میں خودکشی کے حق میں نہیں مگر اس طرح کی خودکشی میرے اندر زندہ رہنے کی تڑپ بیدار کرتی ہے۔ مارو یا مر جاﺅ۔ اگر شمائلہ ریمنڈ کو موت دے سکتی یا اسے اپنے حکمرانوں پر اعتبار ہوتا کہ وہ اسے موت کی سزا دیں گے تو وہ کبھی خودکشی نہ کرتی۔ اس کے بعد تو ہمارے بے حس حکمرانوں کو بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے بعد فیضان شہید کی بیوی زہرا نے بھی رانا ثنااللہ کو دھمکی دی ہے کہ تم لوگ وطن کے بیٹوں کے خون کا کب تک سودا کرو گے۔ میں بھی خودکشی کر لوں گی۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ دھمکی رانا صاحب کو کیوں دی گئی۔ کیا یہ لوگ اب بھی اپنے پیاروں کے خون کا سودا کریں گے۔ فہیم، فیضان اور عباد کے لواحقین کے ناک میں دم آ گیا ہے کہ تم ڈالر لے لو اور ریمنڈ کو معاف کر دو۔ امریکی ڈالروں پر پلنے والے سمجھتے ہیں کہ سچے رشتے اتنے کچے ہوتے ہیں۔ دولت اور حکومت کے لئے اپنا سب کچھ بیچ دینے والے اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ہیں۔ مائیں، بہنیں اور بیویاں اپنوں کے خون کی چھینٹوں کی دکان نہیں لگایا کرتیں۔ اپنی بیوی کا خط پڑھ کر رونے والا قاتل ریمنڈ فہیم کی بیوی شمائلہ کی خودکشی پر تو نہ رویا تھا۔ پاکستانیوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مارنے والے امریکی پاکستانیوں کو انسان بھی نہیں سمجھتے۔ غلام بھی تو انسان ہوتے ہیں؟

چودھری شجاعت اور چودھری پرویزالہی نے دونوں تینوں گھروں کی کفالت کا اعلان کیا ہے۔ ان کی طرف سے چودھری ظہیرالدین نے دکھی لوگوں کے پاس جا کے ایک ایک لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ پاکستان کے مخیر اور غیرت مند لوگ صابر شاکر لواحقین کی اتنی مدد کریں کہ ہمارے حکمران حیران رہ جائیں اور امریکی پریشان ہو جائیں۔ میرے ایک خوبصورت اور دوست دار کزن محمود نیازی نے خودکشی کی تو میں نے ایک شعر کہا تھا جس کے لئے غور کرنے کی گزارش ہے۔ ....
تو جو قاتل ہے تو مقتول کہوں میں کس کو
تو جو گلچیں ہے تو پھر پھول کہوں میں کس کو

The ‘honour’ generation – by Nadeem F. Paracha

The ‘honour’ generation – by Nadeem F. Paracha

Sixty-three years old and suffering from grave identity crisis. Sixty-three years old and still requiring hoards of people to continue knee-jerking their way across a number of hyperbolic patriotic clichés and chants. This is Pakistan.

Ours is a country with an economic, political and military elite and an awkward but growing urban middle class that is still playing out a redundant fantasy: a flight of fancy that sees Pakistan as some monolithic and one-dimensional construction where everyone can be conveniently pigeonholed within a single concept of faith, language and patriotism. Many dictators, terrorists and ethnic and sectarian fragmentations later, the retarded evolution of this country has given birth to a generation of young, urban Pakistanis who have lost all capability to look through hypocrisy and deceit.

This is a generation that was born and raised in the post-Cold War world. A world where communism had been defeated and in which a mixture of consumerism and the resurgence of faith collaborated to turn everything, from entertainment to information to faith itself into an industry. An industry squarely catering to a highly depoliticised market of young people in a scenario where the state was eroding, where politicians had delegated much of their roles to multinational corporations, to the NGOs and to a new set of preachers who had turned religion into a media-savvy enterprise.

Faith and capitalism came together to celebrate the fall of communism/socialism –creatures they had accused of keeping the middle class distracted by ideological issues, and in a state of stasis from which this class could not progress economically or spiritually. But communism’s defeat and the end of the Cold War did not solve problems like poverty, economic disparity, despotism, etc. It did however give the post-Cold War generation a chance to enjoy (on credit) services and products that were almost unattainable among the many from the generation before.

To enjoy these without having much of a guilty conscience, the same triumphant system of post-Cold War capitalism also constructed attractive valves through which young hip consumers, neo-yuppies and aspiring new bourgeoisies could escape into the spiritual realm. Here fast-talking corporate gurus would tell them how to balance hefty profit-making with ‘corporate responsibility’, and where slick men and women of faith would (basically) explain to their ever-growing audiences how to enjoy the fruits of brand-waving consumerism with a set of spiritual lingo and rituals that would help keep them connected to God.

All this took place mostly after 1995. A sham democracy manipulated by the military from behind the scene that had turned politicians into punching bags for whatever that was putting a spanner in Pakistan’s economic progress saw the new urban generation consider democracy as a corrupt hindrance in their growth as an economic force. Though millions of young people suddenly became aware of the corrupt ways of politicians, ironically the same millions could not figure out the scams they were being burdened with in the name of plastic money by the banks.

Neither was this generation willing to ask that simple question: if politicians were siphoning off millions of rupees, weren’t these still only a fraction of what the military got by way of military aid, jobs, industries and, of course, the largest chunk of the country’s budget? Then came our own nuclear device, the clandestine and expensive making of which our leaders had boasted about earlier and we were ready to eat grass. But it was certainly neither the elite nor the middle class that were chewing this figurative grass. It was the majority, the so-called masses.

Alas, though the coming together of neo-capitalism and faith only managed to instill psychic confusion in the youth, this confusion, instead of lashing out against the artificiality and dichotomies found in the new ways of economics and spirituality, buckled under the weight of a narrative constructed by the drivers of the new arrangement. Those who had benefited most from the setup — the military, the slick religious preachers and capitalists – with the help of the corporate gurus, seth-owned private media, began to invoke God and ‘honour-cum-pride’ against those whom they considered to be enemies of the middle class, the country and religion.

These ‘enemies’ were politicians advocating democracy – they became labelled as ‘corrupt’ and insensitive—not that many of them were not corrupt. Enemies also included the last bastions of liberal or the shrinking left-leaning journalism (who suddenly became ‘liberal fascists’) and certain Islamic scholars who, unlike the political-religious groups patronised by the military and the traders, spoke more about the benevolent, tolerant and democratic aspects of Islam instead of hatred in the name of faith and national honour.

The glaring dark irony surrounding even the most modern members of the new generation is that they have ended up equating the availability of all the goodies of the corporate and consumerist setup that they have become addicted to with a projected belief. A belief that suggests that a ‘moderate’ authoritarian political setup (preferably by the army or at least backed by it), coupled with an identity defining version of bourgeois Islam, is what will make Pakistan more sovereign and more proud.

It’s like a hoard of sheep all going baa when told by the media, the military and the political maulanas, that they are the defenders of the Pakistan’s honour. The sad part is, each sheep, though baaing exactly like the other, is deluding himself into believing that he truly is a proud citizen.

Source: Dawn

PML-N & PPP romance....

Saaf chuptey bhe nahin saamney aatey bhe nahin... PML-N & PPP romance....


Black Magic/Charm on pitch by Sri Lanka Sadhu before the CWC match betwe...

10 Craziest Gaddafi Moments/Eccentricities

1) Nursing Staff – Gaddafi relies heavily on his long-time Ukrainian nurse, Galyna Kolotnytska, who has been described as a ”voluptuous blonde.” Of the rumored staff of four Ukrainian nurses that cater to the Leader’s health and well-being, one informant emphasized to multiple Emboffs that Qadhafi cannot travel without Kolotnytska, as she alone “knows his routine.”

When Kolotnytska’s late visa application resulted in her Security Advisory Opinion being received on the day Gaddafi’s party planned to travel to the U.S., the Libyan Government sent a private jet to ferry her from Libya to Portugal to meet up with the Leader during his rest-stop. Some embassy contacts have claimed that Qadhafi and the 38 year-old Kolotnytska have a romantic relationship. While he did not comment on such rumors, a Ukrainian political officer recently confirmed that the Ukrainian nurses “travel everywhere with the Leader.”

2) Female Body Guards – His recent travel may also suggest a diminished dependence on his legendary female guard force, as only one woman bodyguard accompanied him to New York. In the past Gaddafi has traveled with a group of 30 – 40 female security guards that are rumored to be virgins.

3) Self Promotion – When applying for Gaddafi’s visa, one of his staff asked whether it was necessary for the Leader to submit a portrait of himself that fit consular application regulations, noting that his photo was displayed throughout the city and that anyone of hundreds of billboards could be photographed and shrunken to fit the application’s criteria. When the rule was enforced, Gaddafi’s staff reluctantly conceded to take a portrait of the Leader specifically for the visa application.

4) The Man likes his Tent – When one of Gaddafi’s staff began to search for proper accommodations for Gaddafi, he informed us that the Leader must stay on the first floor of any facility that was rented for him. (he separately told U.S. officials in Washington that Gaddafi could not climb more than 35 steps.) He than cited this requirement as the primary reason that the Libyan residence in New Jersey was selected as the preferred accommodation site rather than the Libyan PermRep’s residence in New York City. The member of Gaddafi’s staff also sought to find accommodations with room to pitch Qadhafi’s Bedouin tent, Qadhafi’s traditional site for receiving visitors and conducting meetings, as it offers him a non-verbal way of communicating that he is a man close to his cultural roots.

5) Who fly’s for more than eight hours? – Gaddafi’s dislike of long flights and apparent fear of flying over water also caused logistical headaches for his staff. When discussing flight clearances with Emboffs, the staff explained that the Libyan delegation would arrive from Portugal, as Gaddafi “cannot fly more than eight hours” and would need to overnight in Europe prior to continuing his journey to New York. His staff also revealed in the same conversation that Qadhafi does not like to fly over water. Presumably for similar reasons, Gaddafi staff also requested a stop in Newfoundland to break his travel from Venezuela to Libya on September 29.

6) Gaddafi‘s Trusted Staff - Gaddafi appears to be almost obsessively dependent on a small core of trusted personnel. This group coordinates the logistics of Gaddafi’s visit. This group balanced the UNGA preparations between equally frenetic preparations for the August 31 African Union (AU) Summit and September 1 celebration of Gaddafi’s coup. celebrations, the group takes care of every last detail of these complex gatherings, ranging from the overall program to the position of the press pool. Long-time Gaddafi Chief of Staff Bashir Salah appears to play an equally important role in Gaddafi’s personal retinue, via an old-fashioned green phone. It is next to a red phone, which presumably connects to Gaddafi himself. We constantly hear that National Security Adviser and son, Muatassim, also plays a key role as his father’s confidante and handler during travel abroad. Muatassim also seems to have been tasked with insuring that the Leader’s image is well-preserved through the full array of carefully-planned media events.

7) Gaddafi loves Flamenco Dancing – In addition to the personality quirks revealed through Gaddafi’s travel to New York, the Gaddafi’s preferences for dancing and cultural performances were displayed over the last month. The three-day spectacle of his 40th anniversary in power included performances by dance troupes from Ukraine, Tunisia, Algeria, Egypt, and Morocco, as well as musical performances by bands from Mexico, Russia, New Zealand, and a number of other nations. Gaddafi appeared particularly enthralled by Tuareg horse racing during two of the events, clapping and smiling throughout the races. The flamenco dancers that participated in his celebratory events appeared to spark a similar interest, as Gaddafi decided to stop in Seville (for a “personal trip” according to the Spanish Ambassador here) on his way back to Libya from Venezuela specifically to attend a flamenco dance performance.

8) The Awkward Silence – When Hilary Clinton was briefed for a meeting with Gaddafi she was told Gaddafi is notoriously mercurial. He often avoids making eye contact during the initial portion of meetings, and there may be long, uncomfortable periods of silence.

9) Well Traveled - One member of his staff described Colonel Gaddafi’s attitude to the U.S. as ‘childlike’, quoting him asking: ‘How much of New York… will I get to see?’ and ‘Is Washington far from New York? Do you think I might have time to visit?

10) Gaddafi knows how to have a temper tantrum –
A previous release from WikiLeaks revealed that dangerous nuclear material was left on an airport runway because Colonel Gaddafi threw a tantrum after being refused permission to pitch a tent outside the UN. The Libyan leader allegedly went back on a promise to dispose of weapons-grade uranium after the diplomatic spat and the highly-enriched material came close to cracking its containers and leaking into the atmosphere.

Sunny deol being grilled by Hamid Mir, Mahesh Bhutt, Syed Noor and Jawad...

Tuesday, February 22, 2011


A must watch clip of Hasbe Haal with Another misconduct of Authorities i...

True Face of Pakistan Prime Minister

Pakistan 1 jadoo nagri By JAVED Ch. must see

A Real Fact......


What a joke She is : Fozia Wahab PPP Information Secretary.

Pakistani schools a shocking report

Pakistan and India in 2020 -The World after world War III

STUPID pakistani tv channel airing mumbai attacks in different way

Obama about Jehad


Monday, February 14, 2011

Zikr elaahi ki fazilat

How to become a better muslim

In the name of Allah, We praise Him, seek His help and ask for His forgiveness. Whoever Allah guides none can misguide, and whoever He allows to fall astray, none can guide them aright. We bear witness that there is none worthy of worship but Allah Alone, and we bear witness that Muhammad (saws) is His slave-servant and the seal of His Messengers.

Whatever deeds one might have done, if one turns to Allah Subhanah in sincere Taubah and seeks forgiveness, Allah Subhanah has promised in the Holy Quran that He will forgive all the sins of such a believer, even if one has committed the gravest sin of all: ‘Shirk’! Not only that, our Lord is so Merciful and Generous, that He not only is He willing to forgive all the sins of a believer who turns unto Him in sincere ‘taubah’, He will change their evil deeds done into good deeds in their ‘book of records’!

The conditions or ways to seek sincere Taubah or Repentance from the Merciful Lord are:
  • One is aware that he has sinned, and feels sorry and ashamed at his sin.
  • Makes a solemn covenant and promise with Allah that he will not repeat his sin again.
  • Turns to Allah and seeks forgiveness, before he has met with his appointment of death.
  • Is a believer and does righteous good deeds thereafter.
Allah says in the Holy Quran Chapter 39 Surah Zumur verses 53-54:
(O Prophet) say: “O My servants who have wronged their own souls….Do not despair of Allah’s Mercy! Surely, Allah forgives all sins. He indeed is the All Forgiving, All Merciful. Return to your Lord and submit to Him before the scourge overtakes you; for then you may get no help from anywhere.”

Allah says in the Holy Quran Chapter 3 Surah Ale Imraan verse 135-136:
Allah likes such good people very much, who, if ever they commit a base deed or wrong their own soul by the commission of a sin, remember Allah instantly, and ask for forgiveness from Him for their shortcomings. For who, but Allah, can forgive sins? (And Allah loves those) who do not knowingly persist in the wrongs they did. These will be rewarded with forgiveness from Allah, and with Gardens beneath which canals flow, and they will reside therein forever! How excellent is the reward of those who do good deeds!

Allah says in the Holy Quran Chapter 25 Surah Furqaan verses 63-71:
The (true) servants of the Merciful are those who walk humbly on the earth. When the ignorant people behave insolently towards them, they say, “Peace to you”; (And those) who pass their nights in prostrating themselves and standing before their Lord and pray, “O our Lord, save us from the torment of Hell, for its torment is killing! It is an evil abode, and an evil resting place”. (And those) who, when they spend are neither extravagant, nor miserly, but keep the golden mean between the two extremes. (And those) who do not invoke any god but Allah Alone, nor kill a soul unjustly, which Allah has forbidden, nor commit adultery… He who does this shall be punished for his sin, and his torment shall be doubled on the Day of Resurrection, and he shall abide in a state of ignominy; EXCEPT THE ONE WHO MAY HAVE REPENTED (AFTER THOSE SINS), AND HAVE BELIEVED AND DONE RIGHTEOUS DEEDS. For then, Allah will change his evil deeds into good deeds, and He is very Forgiving and Merciful. In fact, one who repents and does righteous deeds, returns to Allah as one rightly should!

Allah says in the Holy Quran Chapter 6 Surah Anaam verse 54:
When those come to you who believe in Our Signs, say: "Peace be on you! Your Lord had inscribed for Himself (the rule of) Mercy. Verily if any of you did evil in ignorance, and thereafter repented and amended (his conduct), Lo! He is Oft-Forgiving, Most Merciful."

Al-Tirmidhi Hadith 2357 Narrated by Abdullah ibn Mas`ud
Allah`s Messenger (saws) said, "He who repents of a sin is like him who has committed no sin."

Al-Tirmidhi Hadith 2338 Narrated by Abdullah ibn Umar
Allah`s Messenger (saws) said, "Allah accepts a servant`s repentance (taubah) till he gives up his spirit in death."

Thus my dear and beloved brothers & sisters in Islam, never never never ever despair of the vastness of the Grace and Mercy of your Lord Most Merciful. Absolutely regardless of the nature or number of one’s sins, absolutely regardless if one has committed sins as abundant as the foam in the sea or as much as would fill this earth…..if one turns in ‘taubah’ unto their Lord Most Merciful before they meet with their appointment of death and seeks sincere repentance, it is expected that they will find their Lord Forgiving and Merciful.

Sahih Muslim Hadith 6499 Narrated by Abu Dharr
Allah`s Messenger (saws) said: that Allah, the Exalted and Glorious, stated: `He who comes with goodness, there are in store for him ten like those and even more than those; And he who comes with vice, it is only for that that he is called to account. I even forgive him as I like, and he who draws close to Me by the span of a palm I draw close to him by a cubit, and he who draws close to Me by a cubit I draw close to him by the space (covered) by two hands, and he who walks towards Me I rush towards him, and he who meets Me in the state that his sins fill the earth, but not associating anything with Me, I would meet Him with the same (vastness) of pardon (on My behalf)."

There is absolutely no limit to the vastness and magnitude of the Mercy of the Lord Most Merciful…..all it needs is that one, of their own free will, believes and turns to Him in ‘taubah’ and seek forgiveness for their sins… that very and instant moment, their Lord Most Gracious will wipe out every single sin from their ‘book of records’, and cleanse and purify them from their sins just as if one were just born from their mother’s womb!

It is not the mere reading or reciting of some verses or chants which alone can make one stay away from evil things….but it is the practical implementation in one’s life of the things one recites from the guidance of the Quran and the Sunnah which can and will definitely help one, and gives one the knowledge, courage, and wisdom to stay away from doings deed which transgress the Prescribed Boundaries of Allah Subhanah.

First and foremost, immerse yourself wholeheartedly in reading the Glorious Quran with understanding in a language you understand best, even if only once……Allah is our witness, nothing brings one closer to Allah Subhanah than the recitation, comprehension, and the implementation of the Wise Guidance of the Lord Who Created!

Allah says in the Holy Quran Chapter 16 Surah Nahl verse 89:
We have sent down to you this Book (Al-Quran), which makes everything plain, and is a guidance, blessing and good news to those who have surrendered themselves entirely.

Allah says in the Holy Quran Chapter 14 Surah Ibrahim verses 1-2:
This (Al-Quran) is a Book which We have sent down to you (O Prophet) that you may bring mankind, by the help of their Lord, out of the dark ways (of ignorance) into the Light (of knowledge), to the Way of that Lord, Who is All Powerful, and inherently All Praiseworthy, and the Owner of whatever is in the heavens and the earth.

The simple recitation of some verses or ‘duas’ or ‘wazifas’ by itself will not stop one from falling into temptation or sin…..but it is only when one sincerely strives to completely and unconditionally submit one’s will to the clear guidance of their Lord Most Merciful, they will be able to tread that Straight Path that leads to His Mercy and His Grace in this world and the Hereafter.

The one and only thing which has the power to stop one from falling into pertpetual sin is to constantly strive to develop what is known as ‘taqwa’ in the Glorious Quran!

This state of consciousness of standing in the Presence of the Majestic and Supreme Lord on One Inevitable Day is what Allah calls ‘taqwa’ or piety in His Quran; and it is this ‘taqwa’ which will inspire you all your life towards doing deeds that would earn you the Eternal Pleasure and Good Will of your Lord, and it is this same ‘taqwa’ which will inspire you to abstain from doing anything which would bring about His Unbearable Wrath and Anger.

‘Taqwa’ means to abstain from doing anything that would bring about the Wrath and Displeasure of the Lord All-Mighty; and to do deeds of righteousness which are commanded by Allah and His Messenger (saws). ‘Taqwa’ is to live every moment of ones life with the solemn belief that on One Inevitable Day every soul will be brought forth in the Presence of the Majestic Lord to give a full accounting of every one of his deeds. ‘Taqwa’ is to determine before doing anything whether the Lord Most Merciful will be Pleased or dis-pleased with the deed; if one determines that the Lord will be pleased with the deed, one must do it wholeheartedly; and if one determines that the deed would bring about the displeasure and Wrath of Allah Subhanah, one must strive one’s utmost to abstain from it. ‘Taqwa’ is to live every moment of one’s life consciously striving to do deeds which would earn one the Pleasure and Good Will of their Lord Most Merciful, and abstain from doing deeds which would bring about His displeasure and Wrath.

If one studies the Glorious Quran, one would realize that more often than not, wherever Allah Subhanah Promises His slaves the Eternal Gardens of Paradise, the manifestation of the term ‘taqwa’ is almost always associated with it!

Allah Says in the Holy Quran Chapter 3 Surah Ale Imraan verse 133:
133 Be quick in the race for forgiveness from your Lord and for a Garden whose width is that (of the whole) of the heavens and of the earth; prepared for the ‘Muttaqeen’.

Allah Says in the Holy Quran Chapter 50 Surah Qaaf verses 31-33:
31 And the Garden will be brought nigh to the ‘Muttaqeen’, no more a thing distant. 32 (A voice will say) "This is what was promised for you, for everyone who turned (to Allah) in sincere repentance who kept (his law).

33 "Who feared (Allah) Most Gracious unseen and brought a heart turned in devotion (to Him):
Allah Says in the Holy Quran Chapter 52 Surah Tur verses 17-18:
17 As to the ‘Muttaqeen’ they will be in Gardens and in Happiness
18 Enjoying the (Bliss) which their Lord hath bestowed on them and their Lord shall deliver them from the Penalty of the Fire.

Allah Says in the Holy Quran Chapter 68 Surah Qalam verse 34:
34 Verily for the ‘Muttaqeen’ are Gardens of Delight in the Presence of their Lord.

Allah Says in the Holy Quran Chapter 16 Surah Nahl verse 31:
31 Gardens of Eternity which they will enter: beneath them flow (pleasant) rivers: they will have therein all that they wish: thus doth Allah reward the ‘Muttaqeen’

Allah Says in the Holy Quran Chapter 25 Surah Furqan verses 15-16:
15 Say: "Is that (fire) better or the eternal Gardens promised to the ‘Muttaqeen’? For them that is a reward as well as a goal (of attainment). 16 "For them there will be therein all that they wish for: they will dwell (there) for aye: a promise to be prayed for from thy Lord."

Thus, in conclusion, the absolute best way to bring about this reformation in our hearts to get close to the Remembrance of our Lord Who Created us; and the best way to Remember our Lord is to read, understand, obey, follow and completely submit ourselves to His Glorious Message which He Himself revealed for our guidance, The One and Only Glorious and Noble Quran!

Allah is our witness, one who sincerely submits himself to the Glorious Message of their Lord will find that his whole life will become a life spent in the worship and praise of His Lord; their prayers, their fasts, their zakat, their Hajj, their every work, their every relationship with their fellow man, in fact, his every single deed will be aligned to earn the Pleasure and Good Will of their Lord Most Gracious, Most Merciful, Insha Allah.

If one trusts, obeys, and follows the guidance and commands of Allah and His Messenger (saws), one can be assured of never ever being misled; but if one believes, obeys and follows any other guidance, other than that of Allah and His Messenger (saws), one can be assured of being led astray.

Your brother and well wisher in Islam,

La ilaha Illallah Muhammed ur Rasool ALLAH

~~ Jahannum Main Aurte Zyada Kyon ? ~~

جہنم میں عورتوں کی تعداد مردوں کی تعداد سے زیادہ کیوں ہے ؟
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے آگ دکھائی گئي تو میں نے آج جیسا خوفناک منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی ہے تو صحابہ کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیوں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے کفر کی وجہ سے. عورتیں اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرتی ہیں, خاوند کے احسان کی ناشکری کرتی ہیں. اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتے رہو اور پھر وہ آپ سے کوئی چیز دیکھ لے تو یہ کہتی ہے کہ میں نے ساری زندگی تم سے کوئی خیر نہیں دیکھی. صحیح بخاری حدیث نمبر 1052

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کے دن نماز میں حاضر تھا تو آپ نے خطبہ سے قبل بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی پھر نماز کے بعد بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئےاور اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا اور اس کی اطاعت کرنے پر ابھارا اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کی پھر عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور کہنے لگے : اے عورتو ! صدقہ و خیرات کیا کرو کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے. تو عورتوں کے درمیان سے ایک سیاہ نشان والے رخساروں والی عورت اٹھ کر کہنے لگی اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیوں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لۓ کہ تم شکوہ اور شکایت اور خاوند کی نافرمانی اور نا شکری بہت زیادہ کرتی ہو. جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے زیورات میں سے صدقہ کے لۓ اپنی انگھوٹھیاں اور بالیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ذالنے لگیں. صحیح مسلم حدیث نمبر 885

اس لیے مسلمان بہنوں پر لازم ہے کہ ان کے معاملات بھی ان صحابیات کی طرح ہوں کہ جب ان کو اس حدیث کا علم ہوا تو انہوں نے خیر اور بھلائی کی جو کہ اللہ تعالی کے حکم سے انہیں اس اکثریت سے دور لے جائے گی اور جہنم میں داخلے سے بچ جائيں گی ۔

بہنوں کو ہماری یہ نصیحت ہے کہ وہ اسلام کے شعار اور فرائض پر عمل کریں اور خاص کر نماز پڑھیں اور ان اشیاء سے دور رہیں جو کہ اللہ تعالی نے حرام کی ہیں. خاص کر اس شرک سے جو کہ عورتوں کے اندر مختلف صورتوں میں پھیلا ہوا ہے. مصلاً اللہ تعالی کے علاوہ دوسروں سے حاجات پوری کروانا اور جادو گروں اور نجومیوں کے پاس جانا ۔ ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اور ہمارے سب بہن بھائیوں کو آگ سے دور کرے اور ایسے قول وعمل کرنے کی توفیق دے جو اللہ تعالی کے قریب کریں آمین ۔

دو کلمات

Jang, Geo, ARY, Express, Dawn....

Sachi Mohabbat Ka taqaza

Muhabbaty Rsool ka takaza kia?

سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ مجھ کو سوائے میری جان کے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اے عمر! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب تک کہ میں تیری جان سے بھی تجھ کو زیادہ پیارا نہ ہوں گا (تب تک تیرا ایمان کامل نہ ہو گا)۔“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ بیشک اب آپ مجھ کو میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! اب تمہارا ایمان کامل ہوا۔

صحیح بخاری


سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کرتے ہیں) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تین باتیں جس کسی میں ہوں گی وہ ایمان کی شیرینی (کا مزہ) پائے گا۔ (1) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نزدیک تمام ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں۔ (2) جس کسی سے محبت کرے تو اللہ ہی کے لیے اس سے محبت کرے۔ (3) کفر میں واپس جانے کو ایسا برا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو (ہر کوئی) برا سمجھتا ہے۔“

صحیح بخاری


سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (پاک ذات) کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“

صحیح بخاری


سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں جس میں ہوں گی وہ ان کی وجہ سے ایمان کی مٹھاس اور حلاوت پائے گا۔ ایک تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے دوسرے سب لوگوں سے زیادہ محبت رکھے۔ دوسرے یہ کہ کسی آدمی سے صرف اللہ کے واسطے دوستی رکھے (یعنی دنیا کی کوئی غرض نہ ہو اور نہ ہی اس سے ڈر ہو) تیسرے یہ کہ کفر میں لوٹنے کو بعد اس کے کہ اللہ نے اس سے بچا لیا اس طرح برا جانے جیسے آگ میں ڈال دیا جانا۔

صحیح مسلم


10 باتوں سے 10باتوں کا خاتمہ

10 باتوں سے 10 باتوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے

1۔ توبہ ـ گُناہ کو

2۔ دُکھ ـ زندگی کو

3۔ غصہ۔ عقل کو

4۔ صدقہ ـ مصیبت کو

5۔ چغلی ـ دوستی کو

6۔ نماز ـ بے حیائی کو

7۔ نیکی ـ بدی کو

8۔ جھوٹ ـ رزق کو

9۔ ظلم ـ انصاف کو

10۔ تکبر اعمال کو

جس طرح بُرائی سے اچھائی ختم ہو جاتی ہے اُسی طرح اچھائی کرنے سے بُرائی کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔

1۔ توبہ ـ گُناہ کو

(جب ہم کسی بُرے کام کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیتے ہیں* اور اللہ تعالی سے دل سے توبہ کر کرتے ہیں تو اللہ تعالی ہمارے سارے گُناہ معاف کر دیتا ہے۔)

2۔ دُکھ ـ زندگی کو

(اگر ہم زندگی کو اللہ تعالی کی طرف سے امتحان سمجھ کر گزاریں*تو ہمیں*کبھی کسی دُکھ یا غم کا احساس ہی نہ ہو اس کے لیے یہ آپ کا اللہ تعالی پر پختہ ایمان ہونا بہت ضروری ہے)

3۔ غصہ ـ عقل کو

(اگر ہم کوئی کام کرنے سے پہلے اپنے بڑوں یا کسی ایسے شخص سے مشورہ کر لیں*جو ہمیں*صحیح راستہ دِکھا سکے تو ہم کبھی بھی کوئی غلط رستہ اختیار نہیں*کریں*گے۔اکثر اوقات ہم خود بہت زیادہ ذہین سمجھنے لگتے ہیں*جس کا خمیازہ ہمیں*نقصان کی صورت میں*بھگتنا پڑتا ہے اور پھر ہم غصہ کرنے لگتے ہیں*اور غصہ کرنے والاعقل کے دائرے سے باہر ہونے لگتا ہے۔)

4۔ صدقہ ـ مصیبت کو

(اللہ کی راہ میں*جب ہم خرچ کرتے ہیں*یا کسی کی مدد کرتے ہیں*بلاکسی معاوضہ کے یا کسی کی تکلیف کو دور کرتے ہیں*تو اللہ تعالی بھی اُس کو ہر مصیبت سے دور رکھتا ہے)

5۔ چغلی ـ دوستی کو

(چغلی اور غیبت کرنا انسان کو دوسرے انسان سے بہت دور لے جاتا ہے اور یہ دو چیزیں*انسان کو انسان کا دُشمن بنا دیتی ہیں*۔کبھی کبھی ہم اپنے بہت ہی پیاروں کا انہی چیزوں کی وجہ سے کھو بیٹھتے ہیں۔)

6۔ نماز ـ بے حیائی کو

(اس میں*کوئی شک نہیں*کہ انسان جب اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ پھر گناہوں سے باز رہنے لگتا ہے اور اللہ تعالی انسان کو نماز کی شکل میں*ایک خوبصورت تحفہ ہمیں*دیا اور بدلے ہم سے کوئی اُجرت بھی نہیں*مانگی۔ اگر دیکھا جائے تو فائدہ بھی صرف ہمیں*ہی ہے اس کا۔نماز پڑھنے والا انسان بہت کی بُرائیوں اور بے حیائی سے بچ جاتاہے۔)

7۔ نیکی ـ بدی کو

(اچھے کام کا انجام ہمیشہ اچھا ہی ہوتا ہے اور بُرے کام کا انجام ہمیشہ بُرا ہی ہوتا ہے۔بُرائی کرنے سے اچھائی ختم ہوتی اور اچھائی کرنے سے بُرائی (فیصلہ آپ کے ہاتھ میں)

8۔ جھوٹ ـ رزق کو

(آجکل کا انسان اپنے مال کو بیچنے کے لیے قسمیں کھاتا اور جھوٹ بولتا ہے۔قسم کھانے سے مال بِک جاتا ہے مگر برکت نہیں*رہتی۔ ناپ تول میں*کمی،خراب مال کو قسم کھا کر بیچ دینا سب حرام ہے)

9۔ ظلم ـ انصاف کو

(ظلم وہیں*پر ہو گا جہاں*انصاف کرنے والے نہیں*ہوں*گے اور جہاں*انصاف ہو گا وہاں*پر ظلم خودی مٹ جائے۔ انصاف کرنے والے صرف اللہ سے ڈرتے ہیں*نہ کہ انسان سے اور انسان سے ڈرنے والے ہمیشہ ظلم ڈھائیں*گے۔ قانون بنانے والے ہی جب قانون کو توڑیں*گے تو انصاف کون کرے گا ؟ )

10۔ تکبر - اعمال کو

(تکبر کرنے والا انسان کبھی اللہ تعالی کی نظر میں*انسان نہیں ہو سکتا۔ہم تکبر کس چیز میں*کرتے ہیں؟ پیسے، رتبے ، شہرت یا زیادہ تعلقات ہونے کی وجہ سے؟ انسان مالدار ، رتبے والا اور شہرت والا ہے اس میں*انسان کا کیا کمال ہے یہ تو سب اللہ کا دیا ہوا ہے انسان کے پاس تو پھر یہ تکبرکیسا؟ تکبر کرنے والا انسان اپنے اعمال کو ضائع کر لیتا ہے

Naiki ko haqeer na samajhna............................

Ahadees mubarak

Janat sy qareeb aur dozah sy door karnay wali baat

روحانی اور جسمانی پاکیزگی

روحانی اور جسمانی پاکیزگی کے متعلق اللہ جل شانہ کے پاکیزہ ارشادات

اللہ قدوس ہے

اللہ ہی کی تسبیح کرتا ہے جو آسمانوں میں بے اور جو زمیں میں ہے۔ وہ بادشاہ ہے۔ قدوس ہے۔ کامل غلبہ والا (اور) صاحب حکمت ہے۔ (سورہ الجمعہ آیت٢)

اللہ ہر نقص سے پاک اور ہر تعریف کا مستحق ہے

پس اللہ (ہر حال میں) پاک ہے اُس وقت بھی جب تم شام میں داخل ہوتے ہواور اُس وقت بھی جب تم صبح کرتے ہو۔

اور سب تعریف اُسی کی ہے آسمانوں میں بھی اور زمیں میں بھی اور رات کو بھی اور اس وقت بھی جب تم دوپہر گُزارتے ہو۔ (سورہ الروم آیت ١٨،١٩)

پاک ہے تیرا اب، رب العزت! اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ اور سلام ہو سب مرسلین پر۔ اور سب حمد اللہ ہی کی ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ (سورہ الصافات آیات ١٨٣ تا ١٨١)

فرشتے خدا کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں

ور (یاد رکھ) جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ یقینا میں زمیں میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا کیا تو اس میں وہ بنائے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہائے جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ اُس نے کہا یقینا میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
(سورہ البقرہ آیت٣١)

پاک اور ناپاک برابر نہیں

تو کہہ دے کہ پاک اور ناپاک برابر نہیں ہو سکتے خواہ تجھے ناپاک کی کثرت کیسی ہی پسند آئے۔ پس اے عقل والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاو۔ (سورہ المائدہ آیت١٠١)

پاک اور ناپاک کی تمثیل

کیا تو نے غور نہیں کیا کہ کس طرح اللہ نے مثال بیان کی ہے ایک کلمہ طیبہ کی ایک شجرہ طیبہ سے۔ اس کی جڑ مضبوطی سے پیوستہ ہے اور اس کی چوٹی آسمان میں ہے۔ وہ ہر گھڑی اپنے رب کے حکم سے اپنا پھل دیتا ہےاور اللہ انسانوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصحیت پکڑیں۔ اور ناپاک کلمہ کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے جو زمیں میں سے اُکھاڑ دیا گیا ہو۔ اس کے لیے(کسی ایک مقام پر)قرار مقدر نہ ہو۔ (سورہ ابراہیم آیات ٢٧ تا ٢٥)

جو بھی عزت کا خواہاں ہے تو اللہ ہی کے تصرف میں سب عزت ہے۔ اسی کی طرف پاک کلمہ بلند ہوتا ہے اور اسے نیک عمل بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔ (سورہ فاطر آیت ١١)

اور پاک ملک (وہ ہوتا ہے کہ)اس کا سبزہ اس کے رب کے اذن سے(پاک ہی)نکلتا ہے اور جو ناپاک ہو (اس میں) کچھ نہیں نکلتا مگر ردی۔ اس طرح ہم نشانات کو پھیر پھیر کے بیان کرتے ہیں ان لوگوں کی خاطر جو شکر کیا کرتے ہیں۔ (سورہ الاعراف آیت٥٩)

پاک کے بدلے خبیث چیزیں نہ لو

ا ور لتامیٰ کو اُن کے اموال دو اور خبیث چیزیں پاک چیزوں کے تبادلہ میں نہ لیا کرو اور اُن کے اموال اپنے اموال سے ملا کے نہ کھا جایا کرو۔ یقینا یہ بہت نڑا گناہ ہے۔ (سورہ النسآء آیت٣)

اللہ پاک کو ناپاک سے الگ کرتا ہے

اللہ ایسا نہیں کہ وہ مومنوں کو اس حال میں چھوڑ دے جس پر تم ہو یہاں تک کہ خبیث کو طیب سے نتھار کر الگ کر دے۔ (سورہ ال عمران آیت١٨٠)

تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور خبیث کے ایک حصہ کو دوسرے پر ڈال دے پھر اس سارے کو(ڈھیر کی صورت میں) تہہ بہ تہہ اکٹھا کر دے پھر اُسے جہنم میں جھونک دے۔ یہی لوگ ہیں جو گھاٹا کھانے ویلے ہیں۔ (سورہ الانفال آیت ٣٨)

خود کو پاک نہ کہو

وہ تمہیں سب سے زیادہ جانتا ہے جب اُس نے زمیں سے تمہاری نشونما کی اور جن تم اپنی ماوں کے پیٹوں میں محض جںین تھے۔ پس اپنے آپ کو (یونہی) پاک نہ ٹھہرایا کرو۔ وہی ہے جو سب سے زیادہ جانتا ہے کی متقی کون ہے۔ ( سورہ النجم آیت ٣٣)

پاک کرنا اللہ کا کام ہے

کیا تو نے اُن لوگوں پر غور نہیں کیا جو اپنے آپ کو پاک ٹھہراتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ اللہ ہے ہے کسے چاہے پاک قرار دے اور وہ کجھور کی گٹھلی کی لکیر کے برابر بھی ظلم نہیں کیے جائیں گے۔ (سورہ النسآء آیت٥٠)

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! شیطان کے قدموں پر مت چلو اور جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلتا ہے تو وہ یقینا بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں کا حکم دیتاہےاور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتے تو تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی پاک نہ ہوسکتا۔ لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے اور اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔ (سورہ النور آیت٢٢)

نفس کو پاک کرنے کی جزا

یقینا وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس (تقویٰ) کو پروان چڑھایا اور نامراد ہو گیا جس نے اُسے مٹی میں کاڑ دیا۔ (سورہ الشمس آیات ١٠،١١)

یقینا وہ کامیاب ہو گیا جو پاک ہوا اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیا اور نماز پڑھی۔ (سورہ الاعلی آیات ١٥،١٦)

(وہ) ہمیشگی کی جنتیں ہیں جن کے دامن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور یہ جزا ہے اس کی جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ (سورہ طٰہٰ آیت ٧٧)

نماز کے ذریعہ پاکیزگی

تو صرف اُن لوگوں کو ڈرا سکتا ہے جو اپنے رب سے اُس کے غیب میں ہونے کے باوجود ترساں رہتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اور اللہ کی طرف ہی آخری ٹھکانا ہے۔ (سورہ فاطر آیت ١٩)

مالی پاکیزگی

تو ان کے مالوں میں سے صدقہ قبول کر لیا لر، اس ذریعہ سے تو اُنہیں پاک کرے گا نیز انکا تزکیہ کرے گا اور اُن کے لیا دُعا کیاکریقینا تیری دعا اُن کے لیے سکینت کا موجب ہو گی اور اللہ بہت سُننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔ (سورہ التوبہ آیت ١٠٣)

جبکہ سب سے بڑھ کے متقی اس سے ضرور بچایا جائے گا۔ جو اپنا مال دیتا ہے پاکیزگی چاہتے ہوئے۔ (سورہ اللیل آیات ١٩،١٨)

پاکیزہ پانی

اور ہی ہے جس نے اپنی رحمت کے آگے آگےہواوں کو خوشخبری دیتے ہوئے بھیجا اور ہم نے آسمان سے پاکیزہ پانی اُتارا۔ (سوری الفرقان آیت ٤٩)

(اور یاد کرو)جب وہ اپی طرف سے تم ہر امن دیتے ہوئے اونگھ طاری کر رہا تھا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اُتار رہا تھا تاکہ وہ تمہیں اس کے ذریعہ خوب پاک کر دے اور شیطان کی پلیدی تم سے دور کر دے اور تاکہ وہ اتمہارے دلوں کو تقویت بخشے اور اس سے قدموں کو ثبات بخشے۔ (سورہ الانفال آیت١٢)

کپڑوں کی پاکیزگی

اے کپڑا اوڑھنے والے! اُٹھ کھڑا ہو اور انتباہ کر۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کرے اور جہاں تک تیرے کپڑوں کا تعلق ہے تو اُنہیں بہت پاک کر اور جہاں ناپاکی کا تعلق ہے تو اس سے کلہتہ الگ رہ (سورہ المدثر آیات ٦ تا ٢)

~~ Deen Ki Dawat Kis Tarhan Di Jaye ? ~~

Bismillah Al-Rahman Al-Raheem
Assalamo Alaikum Wa Rahamatullah Wa Barakatuhu

دعوت وتبلیغ کی ابتدا کس چيزسے کرنی چاہیے ؟
اگرکوئ کسی کودعوت دینا چاہے توکس چيزسے ابتدا کرے اوراسے کیا کلام کرنی چاہیے ؟

الحمد للہ
سائل دعوت الی اللہ کا کام کرنا چاہتا ہے یہ یاد رہے کہ دعوت الی اللہ میں حکمت اورموعظہ حسنہ اوراسی طرح نرم لہجہ اورعدم عنف اورملامت وتوبیخ سے احتراض کرنا ضروری ہے ۔
اوراسی طرح دعوت میں سب سے پہلے امورکی دعوت دینی چاہیے اورپھراس سے کم درجہ والے امور ، جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوۓ ہرطرف اپنے ایلچی روانہ کیے اورانہیں حکم دیا کہ اہم اشیاہ اورپھراس کےبعد دوسرے درجہ پراہم امورکی دعوت دیں جیسا کہ حدیث معاذ رضي اللہ تعالی عنہ میں ہے :

معاذرضي اللہ تعالی عنہ کوجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی جانب روانہ کیا توانہیں فرمایا :
( سب سے پہلے انہیں دعوت دینا کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئ اورمعبود نہیں اوریہ بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہیں ، اگرانہوں نے اس کا اقرار کرلیا توپھران کے علم میں یہ لائيں کہ اللہ تعالی نے دن رات میں ان پرپانچ نمازيں فرض کیں ہیں ، اگروہ اسے تسلیم کرلیں توپھرانہیں یہ بتائيں کہ اللہ تعالی نے ان پرزکاۃ فرض کی ہے جومالداروں سے لے کر غرباومساکین کودی جاۓ گی ) ۔

تواس طرح اہم امورکی درجہ بندی کے ساتھ دعوت دے اوراس کے لیے مناسب وقت اورفرصت تلاش کرنا چاہیے اوراسی طرح جگہ بھی مناسب ہونی چاہۓ ، بعض اوقات مناسب یہ ہوتا ہے کہ کسی کواپنے گھرمیں دعوت دے کر اس سے بات کی جاۓ ۔
اورکسی کےلیے یہ مناسب ہوسکتا ہے کہ اس کے گھرمیں جاکراسے دعوت دی جاۓ ، اوریہ بھی مناسب ہے کہ اسے وقتافوقتا دعوت دی جاۓ ، بہرحال عقلمنداوربصیرت رکھنےوالامسلمان لوگوں کوحق کی دعوت دینے میں تصرف کرناجانتا ہے ۔ .

Takabr karnay waloon ka anjam

Miracle of Masjid-e-Nabvi (PBUH)

This was a miracle happened around 90 years ago narrated by Sheikh Al-Zubaidi.

A person tried to demolish the Dome of Prophet Mohammad (PBUH) Masjad Al Nabawi (Gumbad-e-Khizra).However, when some one climbed over the dome to start the demolition, a sudden Lightning struck him and the climber died at thespot and no one was able to remove his body from the top of the dome!!!
It was also said that a pious man from Madina heard a voice in his dream that no one can take out the dead body from the Dome and that he should be buried their as a warning and a lesson for those who may think of attempting to demolish it in future!!!
Finally, they decided to bury the man right there on the dome and to cover his body with a green box so it wont be visible to people.

well ...u can see 4m the distance this pic..& must see the gate no also.

Surah- Al-Mulk ( The Kingdom ) in Urdu.

~~ Valentine-Day (Plz Read) ~~

اللہ سُبحانہ و تعالٰی تم سے پیار کرتا ہے

اللہ سُبحانہ و تعالٰی
تم سے پیار کرتا ہے

ایک مرتبہ کہیں دو میاں بیوی رہتے تھے صدق و محبت اور دوستی کے رشتوں میں جڑے ہوئے۔ ایک دوسرے کے قرب کے بغیر تو چین بھی نہ پاتے تھے مگر طبیعتوں کے لحاظ سے ایک دوسرے سے قطعی مختلف، خاوند نہایت پُرسکون اور کسی بھی حالت میں غصہ نہ کھانے والا تو بیوی نہایت ہی تیز و طرار اور معمولی سے معمولی بات پر غصے سے بھڑک اُٹھنے والی۔

ایک بار دونوں میاں بیوی ایک بحری سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ جہاز کئی دن تک تو سمندر میں پُر سکون طریقے سے چلتا رہا مگر ایک دن اُسے طوفانوں نے آ گھیرا۔ ہوائیں مخالف ہو گئیں اور موجوں کے طلاطم نے سب کچھ اُلٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ طوفان سے سمندری پانی جہاز کے اندر تک بھر گیا۔ جہاز پر موجود مسافروں کے چہروں پر تو پریشانی تھی ہی، جہاز کا ناخدا کپتان بھی اپنی پریشانی نہ چُھپا سکا۔ اُس نے مسافروں سے صاف صاف کہہ دیا کہ موجودہ حالات میں تو اللہ کی طرف سے کوئی معجزہ ہی جہاز کو اِس طوفان سے بچا سکتا ہے۔
کپتان کے اِس بیان سے مسافروں کے دِلوں میں بچنے کی رہتی سہتی اُمیدیں بھی دم توڑ گئیں۔ موت کو قریب پا کر مسافروں نے خوف سے چیخنا اور چلانا شروع کر دیا۔ اُس آدمی کی بیوی پر تو جنونی کیفیت طاری ہو گئی۔ اُسے تو کچھ بھی نہیں سوجھ رہا تھا کہ کیا کرے۔ بھاگتے ہوئے اپنے خاوند کے پاس پہنچی کہ شاید مصیبت کی اِس گھڑی میں فرار و نجات کیلئے وہ کوئی بہتر حل جانتا ہو ، یہ دیکھ کر تو اُسے اور بھی طیش آ گیا کہ گرد و نواح میں مسافروں کے آہ و پُکار سے مچی قیامت سے بے تعلق اُسکا خاوند حسبِ سابق پُر سکون طریقے سے بیٹھا ہوا ہے۔ بیوی نے جِھلا کر خاوند کے گریبان میں ہاتھ ڈالا اور اُسے جھنجھوڑ ڈالا اور چیختے ہوئے بولی کہ تُم کیسے بے حِس انسان ہو۔ اچانک خاوند کی آنکھوں میں سُکون کی جگہ غصے کے آثار دِکھائی دیئے اور اُس نے اپنی جیب سے ایک خنجر نکال کر بیوی کے سینے پر ٹِکا دیا، سپاٹ چہرے اور خشک لہجے میں اُس سے پوچھا: اب بتا، اِس خنجر سے ڈر لگ رہا ہے کیا؟

بیوی نے خاوند کے چہرے پر آئی ہوئی خونخواری کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: نہیں۔

خاوند نے پوچھا: کیوں؟

بیوی نے جواب دیا: کیونکہ یہ خنجر ایسے ہاتھوں میں ہے جو اُس سے پیار کرتا ہے اور اُسے اِن ہاتھوں پر مکمل بھروسہ بھی ہے۔

خاوند نے مُسکراتے ہوئے کہا: بالکل اِسی طرح ہی تو میری مثال ہے۔
یہ خونخوار اور پُر ہیبت موجیں اُس ہستی کے ہاتھوں میں ہیں جو مجھ سے پیار کرتا ہے اور مُجھے اُن ہاتھوں پر پورا بھروسہ بھی ہے۔
پِھر ڈرنا کِس بات کا، اَگر وہ ذات پاک اِن سب موجوں اور طوفانی ہواؤں پر مکمل تسلط اور قابو رکھنے والی ہے تو؟

اگر آپ بھی زندگی کی موجوں سے لڑتے لڑتے تھک گئے ہیں،
اور حالات آندھیوں کی مانند تمہیں مُخالف سمتوں میں دھکیل دیتے ہیں،

تو مت ڈریئے!
کہ اللہ سُبحانہ و تعالٰی تم سے پیار کرتا ہے۔
وہی تو ہے جسے ہر طوفان اور ہر آندھی پر مکمل قُدرت ہے۔

تو مت ڈریئے!
کہ وہ تمہیں اُس سے بھی زیادہ جانتا ہے جتنا تُم اپنے آپ کو جانتے

وہی تمہارے مُستقبل کو سنوارے گا جِس مُستقبل کا تُمہیں تو کُچھ پتہ ہی نہیں مگر وہ تُمہارے سارے رازوں سے واقف ہے۔
اگر تمہیں بھی اُس سے پیار ہے تو اُس پر پورا بھروسہ کیجیئے اور اپنے سارے معاملات اُس پر چھوڑ دیجیئے۔
کیونکہ وہ تم سے پیار کرتا ہے۔

اللہ اور انسان

اللہ اور انسان

.میں نے کہا: تھک چکا ہوں.
تو نے کہا: لا تقنطوا من رحمة اللہ.
خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں ـ
(سورہ زمر/آیت 53)

میں نے کہا: کوئی بھی میرے دل کی بات نہیں جانتا.
تو نے کہا: ان اللہ یحول بین المرء و قلبه.
خدا انسان اور اس کے قلب کے بیچ حائل ہے ـ
(سورہ انفال/آیت 24)

میں نے کہا: تیرے سوا میرا کوئی نہیں.
تو نے کہا: نحن اقرب من حبل الورید.
ہم گردن کی رگوں سے بھی انسان کے قریب تر ہیں ـ
(سورہ ق/آیت 16)

میں نے کہا: لیکن لگتا ہے تو مجھے بھول ہی گیا ہے!
تو نے کہا: فاذکرونی اذکرکم.
مجھے یاد کرتے رہو تا کہ میں بھی تمہیں یاد رکھوں ـ
(سورہ بقرہ/آیت 152)

میں نے کہا: کب تک صبر کرنا پری گا مجھے؟
تو نے کہا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا.
تم کیا جانو شاید وعدے کا وقت قریب ہی ہوـ
(سورہ احزاب/آیت 63)

میں نے کہا: تو بہت بڑا ہے اور تیری قربت مجھ نہایت چھوٹے کے لئے بہت ہی دور ہے، میں اس وقت تک کیا کروں؟
تو نے کہا: واتبع ما یوحی الیک واصبر حتی یحکم الله.. (تم وہی کرو جو میں کہتا ہو اور صبر کرو تا کہ خدا خود ہی حکم جاری کردےـ
(سورہ یونس/آیت 109)

میں نے کہا: تو بہت ہی پرسکون ہے! تو خدا ہے اور تیرا صبر و تحمل بھی خدائی ہے جبکہ میں تیرا بندہ ہوں اور میرے صبر کا ظرف بہت ہی چھوٹا ہے. تو ایک اشارہ کردے کام تمام ہے.
تو نے کہا: وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ
شاید تم کسی چیز کو پسند کرو اور تمہاری مصلحت اس مین نہ ہو ـ
(سورہ بقرہ/آیت 216)

میں نے کہا: انا عبدک الضعیف الذلیل – میں تیرا کمزور اور ذلیل بندہ ہوں؛- تو کیونکر مجھے اس حال میں چھوڑ سکتا ہے؟
تو نے کہا: إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
خدا انسانون پر بہت ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہےـ
(سورہ بقرہ/آیت 143)

میں نے کہا: گھتن کا شکار ہون.
تو نے کہا: قُلْ بِفَضْلِ اللّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُواْ. (لوگ کن چیزوں پر دل خوش رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ خدا کے فضل و رحمت پر خوش رہا کریں.
(سورہ یونس – آیت 58)

میں نے کہا: چلئے میں مزید پروا نہیں کرتا ان مسائل کی! توکلتُ علی الله.
تو نے کہا: ان الله یحب المتوکلین. (خدا توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.
(سورہ آل عمران/آیت 159)

میں نے کہا: غلام ہیں تیرے اے مالک!
لیکن اس بار گویا تو نے کہا کہ: خیال رکھنا؛ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ۔
(سورہ حج – آیت 11)

... (بعض لوگ صرف زبان سے خدا کی بندگی کرتے ہیں، اگر انہیں کوئی خیر پہنچے تو امن و سکون محسوس کرتے ہیں اور اگر آزمائش میں مبتلا کئے جائیں تو روگردان ہوجاتے ہیں

Wednesday, February 9, 2011

Why Pervez Musharraf Taking Drugs

کراچي کے بے قصور گدھے شيرو کے ساتھ قصور پوليس کي زيادتي

America say Shikayaat Kyun >>>??

America say Shikayaat Kyun >>>??

موٹی توندیں اور 'مسخرہ' ملین مارچ

Pervez Musharraf Aur Asif Zardari Ki Naie Rishtadari

Raymond Allen Davis Is A Fake US Diplomat : Evidence Out

How Can Someone Who Runs Hyperion Protective Consultants, LLC Be A Diplomat?
Raymond Davis worked in Pakistan as a special operations, intelligence and security contractor of CIA. His wife has told American journalists her husband told her to contact a CIA official if he fell in trouble. The case exposes CIA’s secret espionage network in Pakistan.
SYED ADEEB | Tuesday | 8 February 2011 |
WASHINGTON, DC—Adeeb Media, the publisher of this exclusive report, hopes that all other Pakistani independent journalists of integrity will also highlight and discuss the following 10 major points of the investigative report in their next television programs and newspaper columns to inform, educate and enlighten the Pakistani people about the whole truth and real facts of the RAD case:

  1. Raymond Allen Davis (code-name: RAD), an ‘official’ of the US Embassy Islamabad or the US Consulate Lahore, whose record shows experience in the U.S. Military Special Forces, is not a real diplomat of the United States of America. Indeed, RAD is a fake American diplomat. In reality, he is a Managing Member of the Hyperion Protective Services (HPS), LLC, a private security business of only two persons (Mr. RAD & Mrs. RAD) based in Las Vegas, Nevada (head office); and Highlands Ranch, Colorado (branch office). Many news media reports have linked Mr. Davis to the US Central Intelligence Agency (CIA). He was reportedly working in Pakistan as a special operations, intelligence and security contractor of CIA before the Pakistani Punjab Police arrested him on 27 January 2011, in Lahore, Pakistan, for double murder of two Pakistani men. CIA has declined to comment on the [RAD] case.
  2. “American held in Pakistan has home in Colorado. Davis is currently renting a home with his wife in Highlands Ranch [Douglas County, (near Denver), Colorado] and Davis’ wife gave 9News, a local TV station, a name and number she says she was instructed to give to reporters. The name is that of a CIA spokesperson and the number is in Washington, DC. Calls to that number were not returned Wednesday.” – The Denver Post (2 February 2011 – Denver, Colorado, USA).
  3. “US-Pakistan relations strained as ‘CIA agent’ held by court over shootings. The court is attempting to establish Davis’s role at the [US Islamabad] embassy, with unconfirmed reports in US and Pakistani media describing him as an agent with a private security firm or CIA. The [American] embassy has not said why he was carrying a gun and has refused to specify his job at the [US] embassy, describing him only as part of the “technical or administrative staff”. Pakistan does not allow diplomats to carry guns.” – The Guardian (1 February 2011 – London, UK).
  4. “U.S.-Pakistan relations strained further with case of jailed ‘diplomat’. Further complicating the situation, a Pakistani intelligence official said that the two men Davis killed were not, as he has said, armed robbers intent on stealing money, his telephone and perhaps his car, but [Pakistani] intelligence agents assigned to tail him. This official said the two intended to frighten Davis because he crossed a “red line” that the official did not further define. Both the [Pakistani] military’s Inter-Services Intelligence service (ISI) and the Interior Ministry’s Intelligence Bureau [IB] regularly use motorcycle tails to track the movement of U.S. officials, another Pakistani official said.” – The Washington Post (7 February 2011 – Washington DC, USA). [NOTE: officials from the IB have denied the two murdered Pakistanis were intelligence operatives and said they might sue the Pakistani newspaper that published this story.]
  5. According to his 2009 [Pakistan] visa application, [Raymond Allen] Davis was born in Wise, Virginia. He gave an address in Las Vegas, where he is listed in Nevada state registration records as the co-owner of a firm called Hyperion Protective Services.” – The Washington Post (7 February 2011).- Business Name: HYPERION PROTECTIVE SERVICES, LLC
    - Business Officer: 1st. Male Managing Member – Mr. RAYMOND A. DAVIS
    - Business Address: 9811 W. Charleston Ste 2-420, Las Vegas, Nevada,
    89117, USA
    - Business Officer: 2nd. Female Managing Member – Mrs. XXXXXXX X.
    - Business Address: 9811 W. Charleston Blvd. #420, Las Vegas, Nevada,
    89117, USA
    - Business Managed By: Two Managing Members
    - Business Type: Domestic Limited-Liability Company (LLC) – Status:
    - Business Registration File Date: 30 May 2006
    - Business License Expires on: 31 May 2011
    - Business Entity Number: E0415802006-7 – NV Business ID:
    [ Information Source: Office of the Nevada Secretary of State Mr. Ross Miller.]
  6. “Although the Obama-Biden administration has been unequivocal in its insistence that Davis has diplomatic status, the administration has been less than clear on the nature of his job in Pakistan over the last two years. An early US Islamabad embassy statement said it was “security” related, while officials in Washington have said that he vetted questionable visa applicants. The CIA has declined to comment on the RAD case.” – The Washington Post (7 February 2011).
  7. America’s Denver Post daily newspaper reported on 2 February:“American held in Pakistan has home in Colorado The American [Raymond Allen Davis] accused of killing two Pakistani civilians [on 27-1-2011 in Lahore, Pakistan] has a home in Highlands Ranch [Douglas County, (near Denver), Colorado, USA], 9News has confirmed. The U.S. State Department is trying to get the man released, saying he has diplomatic immunity.
    Wednesday afternoon, multiple sources confirmed that Raymond Allen Davis has a home in Highlands Ranch. Davis’ security firm has filed paperwork to do business in Colorado.
    [Hyperion Protective Services, LLC. True Name and mailing address of the individual (female) causing this business document to be delivered for filing: Mrs. XXXXXXX X. DAVIS. Principal business head office address: 9811 W. Charleston Blvd., MB# 420, Las Vegas, Nevada, 89117, USA. Branch office business mailing address: XXXX Wedgewood Drive, Highlands Ranch, Colorado, 80126, USA. Date of conducting business activities in Colorado: 1 August 2010. Date of business formation in Colorado: 22 September 2010. Business ID Number: 20101521438. Information [Source: Office of the Colorado Secretary of State Mr. Scott Gessler.]]
    Pakistani authorities are currently holding Davis on suspicion of murdering two Pakistani civilians [or 2 Pakistani "intelligence operatives"] last Thursday in Lahore, Pakistan. The U.S. State Department has spent the last few days trying to secure Davis’ release on a belief he has diplomatic immunity and that he was acting in self-defense.
    Davis is currently renting a home with his wife in Highlands Ranch and Davis’ wife gave 9News a name and number she says she was instructed to give to reporters. The name is that of a [US] CIA spokesperson and the number is in Washington, DC. Calls to that number were not returned Wednesday.
    Public records checked by The Denver Post indicate Davis, 36, and his wife have lived in the 9700 block of Wedgewood Drive [Highlands Ranch, Colorado, USA] since August, and he has previously lived in Las Vegas, [Nevada]; Lexington, Kentucky; Vail, Arizona; Fort Bragg, North Carolina; and other previous locations.
    He is listed as the managing director of Hyperion Security Services LLC since April 2008, and the business address was the same as Davis’ home in Arizona [USA].
    Its online business profile says Hyperion is engaged in “detective, guard and armored car services” and employs two people.
    Pakistani media is covering the case extensively and multiple, sizeable rallies have been held inside Pakistan calling on the Pakistani [PPP federal and PML-N Punjab] government not to release Davis to the American government. One Pakistani newspaper, The Nation, has repeatedly called Davis “an American Rambo.”
    A spokesperson for the U.S. State Department refused to confirm the man’s identity, but said the U.S. government is currently trying to bring the man home.”
  8. U.S. Demands Highlands Ranch Man’s Release In Pakistan“7NEWS has confirmed Davis is from Highlands Ranch. We tried talking with his wife, but so far, she is not commenting. Neighbors tell 7NEWS she fears her own life might be in jeopardy. 7NEWS also confirmed Davis owns a security company called Hyperion Protective Consultants, which is contracted to do work for the U.S. government. The Pakistani brother of one of the shooting victims said Davis should be hanged or he will take matters into his own hands.
    “We are surprised that he has been given an open license to kill Pakistani people. And the American government – they are declaring him as a diplomat. Even a diplomat is not allowed to make such killings”, said one Pakistani man. – [3 February 2011 - ABC 7NEWS]
  9. American Official Involved in Pakistan Shooting Identified“Sources Identify ‘Technical Adviser’ With Special Forces Experience Involved in Apparent Self-Defense Killing (ABC NEWS – 28 January 2011 – USA) – Though the U.S. State Department and Pakistani officials are at odds over the identity of a U.S. consular employee accused of killing two Pakistani men, private security officer Raymond [Allen] Davis was involved in the incident, sources told ABC News today [28 January 2011].
    Davis, a “technical adviser” to the U.S. government, whose record shows experience in the U.S. [Military] Special Forces, is accused of shooting two men who were apparently attempting to rob [or monitor] him Thursday in Lahore [Pakistan]. A third Pakistani man was killed when a [US Lahore Consulate] vehicle struck him while reportedly racing to the American’s aid.
    Pakistani officials named Davis as the accused American to ABC News, in reports and in court documents Thursday, but [US] State Department spokesman P.J. Crowley said the name had been misreported. A source close to Davis told ABC News today he was involved in the incident.
    Court documents filed in Lahore list Davis as charged with murder. A trial will determine whether the killing was intentional, accidental, or in self-defense.
    After denying the man’s name is Raymond [Allen] Davis, State Department Spokesman P.J. Crowley would not say who the accused government employee is, in what capacity he worked for the [US] Embassy [in Islamabad, Pakistan], or why he was apparently carrying a [prohibited/unlawful] firearm.
    “I can confirm that an employee at the U.S. Consulate in Lahore was involved in an incident today,” Crowley said Thursday. “It is under investigation. We have not released the identity of our employee at this point.”
    Davis runs Hyperion Protective Consultants, LLC, a company that provides “loss and risk management professionals.”
    Since it is not known in what capacity Davis was working for the [US] government, it is not clear whether he is entitled to diplomatic immunity.
[News/Info Source: Adeeb Media - - Virginia, USA - (8 February 2011).]