Tuesday, February 1, 2011

بیت المقدس کسی ایوبی کے انتظار میں

بیت المقدس کسی ایوبی کے انتظار میں

آج جس فلسطین کیلیے خیر و شر اور حق و باطل کی قوتیں باہم ستیزہ کار ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔اس مقدس شہر کی تاریخ ایسی ہنگامہ آرائی اور معرکہ خیزیوں سے بھری پڑی ہے جس میں تین آسمانی مذاہب کے مقدس مقامات و آثار پائے جاتے ہیں ۔اسی متبرک سرزمین کی بابت اس کے صحیح حقداروں اور اس کے جھوٹے دعویداروں کے درمیان ایک مستقل آویزش اور کشمکش چل رہی ہے
طاغوتی قوتیں شب و روز اسے نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہیں ۔انہوں نے اسرائیل کو اپنا آلہ کاربنا کر اسلام کی مقدس ترین مسجد مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کیا جس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ بھی نہیں کہ بتدریج اس مقدس سرزمین سے مسلمانوں اور اسلام کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔
اس مقدس سرزمین کا تعارف بیان کرتے ہوئے فاتح اعظم سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے سپاہیوں سے کہتے ہیں : "ا ے میرے رفیقو16ہجری کا ربیع الاول یاد کرو جب عمربن العاص اور ان کے ساتھیوں نے بیت المقدس کو کفار سے آزاد کرایا تھا ۔ حضرت عمر اس وقت خلیفہ تھے وہ بیت المقدس گئے۔ حصرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ ان کے ساتھ تھے۔ حصرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ حضورۖ کی وفات کے بعد ایسے خاموش ہوئے تھے کہ لوگ ان کی پرسوز آواز کو ترس گئے تھے۔انہوں نے اذان دینی چھوڑ دی تھی مگر مسجد اقصیٰ میں آ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں کہا کہ بلال رضی اللہ تعالی عنہ !مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے درودیوار نے بڑی لمبی مدت سے اذان نہیں سنی۔ آزادی کی پہلی اذان تم نہیں دو گے؟حضوراکرم ۖ کی و فات کے بعد پہلی بار حضرب بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے پہلی بار اذان دی اور جب انہوں نے کہا کہ اشہدان محمد رسول اللہ۔ تو مسجد اقصیٰ میں سب کی دھاڑیں نکل گئیں۔
ہمارے دور میں مسجد اقصیٰ اذان کو ترس رہی ہے ۔ نوے برس سے اس مسجد کے دو و دیوار کسی موذن کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔ یاد رکھو۔ مسجد اقصیٰ کی اذانیں ساری دنیا میں سنائی دیتی ہیں ۔صلیبی ان اذانوں کا گلہ گھونٹ رہے ہیں ، اس عظیم مقصد کو سامنے رکھو۔ہم کوئی عام سی جنگ لڑنے نہیں جا رہے ہیں ہم اپنے خون سے تاریخ کا وہ باب پھر لکھنے جار ہے ہیں جو عمربن العاص رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں نے لکھا تھا اور ان کے بعد آنے والوں نے اس درخشان باب پر سیاہی پھیر دی تھی۔اگر چاہتے ہو کہ خدا کے حضور ماتھے پر روشنی لے کر جاو اور اگر چاہتے ہو کہ آنے والی نسلیں تمہاری قبروں پر آ کر پھول چڑھایا کریں تو تمہیں بیت المقدس میں یہ منبر رکھنا ہو گا جو بیس سال گزرنے نورالدین زنگیورحمتہ اللہ مغفور نے وہاں رکھنے کیلیے بنوایا تھا۔بیت المقدس آج بھی ایک بہترین یادگار کے طور پر موجود ہے ۔ قرون اولیٰ میں بھی وہ ایک قدیم شہر تھا ۔ یہاں حضرت داؤد علیہ السلام کی محراب اور حصرت سلیمان علیہ السلام کا تخت تھا۔اس میں وہ عظیم مسجد بھی تھی جس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے جس میں امام الانبیاء ۖ اس رات کو تشریف لے گئے جس رات کو معراج ہوئی تھی۔اس مسجد کا نام مسجد اقصیٰ (بیت المقدس)ہے ۔ جہاں رسول اللہۖ نے تمام پیغمبروں کی امامت فرمائی۔اللہ رب العزت قرآن کریم میں اس واقعے کو اس طرح بیان فرما تا ہے : پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا ، مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ۔ آج اسی بیت المقدس پر یہودی قابض ہیں ، مسجداقصیٰ کے دروازے مسلمانوں کیلیے بند ہیں ۔ محراب و مبنر کی بے حرمتی ہو رہی ہے ۔ مقامات مقدس کا احترام ختم ہو چکا ہے ۔ بیت المقدس کے صحن میں ظالم یہودی خون خرابہ کر رہے ہیں ۔ مسلمانوں کے قبلہ اول میں داخل ہونے والے مسلمانوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے اور آج فلسطین ، بیت المقدس کے درودیوار ایک نئے صلاح الدین ایوبی کا انتظار کر رہے ہیں ۔
بیت المقدس کو یہودیو ں کے ناپاک تسلط سے رہا کرنے کیلیے حضرت خالد بن ولیدنے سب سے پہلے جنگ کی تھی۔یہ جنگ آج بھی جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دنیا سے ظلم و ستم اور بے انصافی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔الحاد اور بے دینی ختم نہ ہو جائے گی اور طاغوتی طاقتیں اپنی شکست تسلیم نہ کر لیں گی۔آخر فلسطینیوں کا صبر و تحمل ، ایثار و قربانی رنگ لایااور فلسطین سے ناپاک یہودی بستیوں کا اجاڑااور یہودیوں کا انخلا شروع ہو گیا ہے ۔فلسطینیوں کی جس زمین پر یہودی اپنا پیدائشی دعوی سمجھتے تھے اب اس زمین سے خود اسرائیل کی فوجیں ہی انہیں نکال رہی ہیں ۔
اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کیا تھا مگر اب جو وہاں حالات ہیں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ایک سو چالیس کلومیٹر کے اس علاقے میں نو ہزار یہودی اکیس بستیوں میں آباد تھے ۔ یہ یہووی بستیاں تیرافلسطینیوں کی گنجان آباد علاقوں میں گھری ہوئی تھی۔ وہ فلسطین جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے وہاں سے یہودیوں کے انخلاء سے پہلے امریکی وبرطانوی صدرنے کہا تھا کہ فلسطین یہودیوں کا ہی علاقہ ہے انہیں وہاں سے نکالا نہیں جا سکتا۔
یہ بیان بالکل ایسے ہی کہ جب 27اگست 1897کو سوئٹزلینڈ کے شہر سبیل میں یہودیوں کا پہلا اجلاس ہوا تھا جس میں مختلف ممالک کے یہودیوں نے شرکت کی تھی۔اس کانفرنس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ فلسطین کو یہودیوں کا وطن بنایا جائے یہ تحریک ناکام ہو گئی۔ 1902میں ڈاکٹر تھیوردورہزل کا انتقال ہوا اپنی وفات سے قبل وہ یہود نوآبادیاتی بنک اور یہودی بیت المال قائم کر گیا۔ان اداروں نے بعد میں یہود کے لیے فلسطین میں زمین کی خریداری اور نوآبادیوں کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا اور سالانہ خرچ دیا کرتے ہیں ۔
یہودیوں کی صہیونیت اور عیسائیوں کی صلیبیت یا امریکا کی سی آئی اے اور اسرائیل کی موساد کے درمیان ایک عملی یا خاموش معاہدہ ہے کہ اپنے تاریخی اختلافات سے قطع نظر کرتے ہوئے اور ملکی مفادات کو ایک حد تک نظر انداز کرتے ہوئے ہمیں اس وقت صرف اور صرف عالم اسلام کو نشانہ بنانا ہے ۔ قرآن کو مشق ستم بنایا ہے ، مسلمانوں کا خائف اور مرعوب کرنا ہے۔افغانوں کی غیر ت ملی کو کچلنا ہے، عراقیوں کی حمیت قومی کو خاک میں ملانا ہے۔ فلسطینیوں کو یہودیوں سے لڑا کر فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کرنا ہے۔عربوں کی توہین و تذلیل کرنی ہے اور جس طرح بھی ہو سکے سارے عالم اسلام کو سرنگوں کر کے شوکت اسلام کا جنازہ نکال دینا ہے۔
کبھی آپ نے سوچا کہ آخر غزہ کی پٹی سے یہودیوں کا انخلا کیوں ہو ا ہے۔اس کا جواب اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو سکتا کہ اسرائیل امریکا نے کوئی چال چلی ہو گی کہ اس انخلاء کے بعد فلسطینیوں کو آرام سے ان کے علاقوں سے نکالا جا سکتا ہے۔اپنے ساتھیوں کونکال دینے کے بعد وہاں سے ان کا صفایا ہو جائے گاجس سے اگر ہم ان سے لڑیں تو اپنے ساتھیوں کی بستیاں اور یہودیوں پر کوئی آنچ نہ آئے۔اس انخلاء کے پیچھے کیا چھپا ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ امن یا دہشت گردی۔۔۔۔۔

چودہ سو فوجی کس طرح ایک لاکھ بیس ہزارفوجوں کی حوصلہ افزائی کریگی ؟

چودہ سو فوجی کس طرح ایک لاکھ بیس ہزارفوجوں کی حوصلہ افزائی کریگی ؟


امریکی اخبار نیو یارک ٹایمز کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون روان سال کے دوران مزید1400 سو تازہ دم فوجیوں کو افغانستان بھیجنا چاہتا ہے ،تاکہ اس نئی کمک کے ذریعے اس خلاءاور کمزوری کو دور کیا جائے جو گزشتہ سال مجاہدین کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے سامنے آئی۔


اگر چہ پینٹاگون نے اس نئی کمک کو افغانستان میں مجایدین کیخلاف روان سال کے دوران موثر حملوں اور خاص فوجی حکمت عملی سے تعبیر کیا،مگر حقیت اس کے برعکس ہے،کیونکہ گزشتہ سال امریکی فوجیوں کو افغانستان میں اس حد تک جانی اور مالی نقصان پہنچ چکاہے جس کی مثال گزشتہ نو سالوں میں امریکی حکام کو بھی نظر نہیں آتی ، تو اب یہ بات لازم ہے کہ امریکی حکام اپنے ہلاک شدہ فوجیوں کی اس خلاءکو پر کرنے کے لئے کسی حد تک نئے فوجیوں کو بھیج دینگے۔
پینٹاگون کا یہ کہنا کہ وہ ان 1400تازہ فوجیوں کے ذریعے مجایدین کیخلاف موثر کاروائی کرینگے ،ان کا یہ دعوی اس لئے بے معنی ہے کیونکہ گزشتہ دس سال کے دوران پینٹاگون کے وحشی دماغ نے ہرقسم کے اقدامات کیے، مجاہدین کے کیخلاف جنگ،تعذیبی کاروائیاں،انٹیلی جنس اور سیاسی چالوں کے ساتھ ساتھ افغان عوام کا قتل عام،گرفتاریاں ان کے گھروں اور کھیتوں کو تباہ کرنے سمیت کس بھی قسم کے جرائم کے ارتکاب سے باز نہیں آئے ہیں،اب لگتا ہے کہ پینٹاگون کا ان نئے فوجیوں کے ارسال کا اس کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں کہ اس سے وہ گزشتہ سال پہنچنے والے جانی خسارے کو پورا کریں اس کے علاوہ اس نئی عسکری کمک کا کوئی اور مفہہوم اور مطلب نہیں۔
اگر ہم حقایق کا بغور جائزہ لے تو پینٹاگون کھبی بھی 1400فوجیوں کے بھیجنےکی صورت میں اس خسارے کو پورانہیں کرسکتا ہے، کیونکہ یہ بات سب کے سامنے ہے کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجاہدین کی جانب سے ایسی کاروائیاں ہوئیں جن کو نہیں چھپایا جاسکتا ہے اور ان واقعات پر امریکی حکام اور بگرام میں موجودان کے ترجمان بھی اعتراف کرتے ہیں،بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال مرنے اور زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 3000سے تجاوز کرچکی ہے،جب دیگرموثق شواہداورمجاہدین کے معلومات کی رو سے یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔
اگر ہم فرض کرلیں کہ ان1400فوجیوں کے ارسال سے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے اس خلاءکو پر کیا جاسکتا ہے،مگر اس خلاءاورضرورت کو کیسے پوراکیا جائے گاجو افغانستان میں ہے اور جس کا سامنا ایک لاکھ بیس ہزار امریکی فوجی روزانہ کر رہے ہیں،حواس باختہ اور جنگ سے خوف زدہ ان فوجیوں کے بارے میں پینٹاگون کا کیا خیال ہے کہ وہ اس خلاءکو ان چودہ سو فوجیوں کے ارسال سے پورا کرلینگے اورپھر ان چودہ سوفوجیوں میں سرخاب کا کونسا پر لگا ہے کہ وہ سال 2011 میں کمال کرکےدیکھائیگا ،کھبی بھی نہیں بلکہ اگر یہ چودہ سو فوجی اگران ایک لاکھ بیس ہزار فوجیوں میں شامل ہوجاتے ہیں اور یہ ان کے واقعات اور طالبان کے جنگ کے قصے سن لے، تو پھر یہ سب ایک ساتھ ہی چیخ اٹھےینگے اور ایک ماہ کے اندر اندرافغانستان کی جہادی فضاءان کو اس طرح لپٹ لے گی کہ پھر یہ فرق کرنا مشکل ہوگا کہ ان میں تازہ دم فوجی کونسے ہیں اور پرانے کونسے ہیں ،یعنی یہ پرانے اور نئے فوجی، افغان مجاہدین کی اعلی حوصلہ مندی کے سامنے اتنے مغلوب ہوچکے ہونگے اور ان کو اتنی ضربیں لگ چکی ہونگی کہ ان کی خاص جنگی حکمت عملی ختم ہوچکی ہوگی اور ان کے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہوگا کہ وہ کسی طرح افغانستان سے دم دباکر راہ فرار اختیار کرلے۔

پاکستان میں نجی جاسوسی کمپنی

پاکستان میں نجی جاسوس شروع سے افسانوی کردار ہی رہے ہیں لیکن اب حال ہی میں لاہور میں ایسی ایک کمپنی قائم ہوئی ہے۔ اس کمپنی کی انتظامی نگراں عائشہ آصف سے بات چیت

The Silence of Good People

Altafi Joke of the day - MQM trying to amuse people

What he is trying to say here

Aah Muzaffar Warsi, a real Aashiq e Rasool (SAWW)

A great "Naat" writer and poet Muzaffar Warsi Sahib has passed away. I once met him at a "mushaira" in my native town. Melodious poetry recitation (with "tarrannum") was his forte. May Allah grant him an exalted place in Jannat Ul Firdaus. Inna Lillahe Wa Inna Illahe Rajaun. Please, pray for his forgiveness.


A Slap on Face`s of Liberal Extremist by Orya Maqbool JaaN





World Economic Forum - Imran Khan: The face of Pakistan at Davos ( Express Tribune)

World Economic Forum - Imran Khan: The face of Pakistan at Davos (Article in The Express Tribune) By Munizae Jahangir




The most prominent Pakistani at Davos is Pakistan Tehrik-e-Insaaf chief Imran Khan who was the guest speaker at a lunch hosted by defence analyst Ikram Sehgal, who runs a security company in PakistanDAVOS: Every country that matters is here, but where is Pakistan? Pakistanis are found on panels such as “Security Agenda in 2011” and “The Reality of Terrorism” and even there, our representation is weak.
The most prominent Pakistani at Davos is Pakistan Tehrik-e-Insaaf chief Imran Khan who was the guest speaker at a lunch hosted by defence analyst Ikram Sehgal, who runs a security company in Pakistan.
“The moment Nato leaves Afghanistan, things will settle down. There will be peace and then we can deal with the terrorists,” Khan tells a bewildered Western audience, who mostly showed up to get a good look at their favourite cricket star.
Speaking about Pashtuns, he said it was important to make a distinction between al Qaeda and the Taliban who are Pashtuns and the Pashtuns should not be attacked. “You must understand the Pashtun mentality. If you kill them (with drone attacks) they will take revenge, so there will be repercussions,” he said. “There are human beings and then there are Pathans,” he joked.
“The Pashtuns of Pakistan and Afghanistan are not a threat to the West, al Qaeda is,” he said to a sceptical audience.
Khan explained that Salmaan Taseer’s murder had exposed the extreme polarisation in society. “If the war on terror continues and the US keeps pressuring Pakistan to flush out Taliban militants, this polarisation of society will be detrimental,” he said.
Apart from his well-known stance on the war on terror, Khan advocated that the present government had lost its moral authority and the time was ripe for change. He warned that if the present “corrupt set up” is tolerated, there may be a revolution made up of young Pakistanis under the age of 30.
“After the National Reconciliation Ordinance was promulgated, the biggest crooks formed the government,” he said, while referring to the country’s top political leadership. He predicted that in the next general election, which he believes will be free and fair, all “the old political faces will be wiped out”.
But Khan also insisted that any form of democracy is better than dictatorship. “I supported Musharraf in the beginning and I admit that it was the biggest mistake I have ever made,” he said. Later in the day, Khan shared panel space with the Indian Union Home Minister P Chidambaram, who forcefully stated that terrorists must be dealt with sternly and there should be swift punishment for those found guilty.
Chidambaram maintained the traditional Indian foreign office line that there are “home-grown modules in India that get support from across the border.”
On a panel titled “The reality of terrorism”, Chidambaram made it quite clear that India was not willing to show flexibility on the issue of terrorism, putting a dampener on the upcoming India-Pakistan secretary level talks at Thimpu.
Another panellist, Tahirul Qadri called upon the West and India to recognise the “root causes” of terror and to immediately resolve outstanding disputes such as Kashmir. However, Chidambaram shot back, “none of the issues (Kashmir or the territorial dispute between Israel and Palestine) justify use of terror. This is not the way civilised societies settle their disputes.”
But Khan insisted that the root cause of terror must be dealt with. “The cancer must be treated and not its symptoms,” he said.
While the security debate dragged on at Davos, it was quite clear that no one – those asking questions or those answering them – had found a fresh approach to deal with problems in Pakistan. The same questions were asked and the familiar rhetoric was repeated.
While back in Pakistan’s semi-autonomous areas, the tribal lashkars and paramilitary forces battle Taliban militants, it seemed like our leadership was making no effort to engage powers of the world on platforms such as the World Economic Forum where perhaps sympathetic ears would have helped. A Pakistani delegation well-prepared to plead their case and defend their position regarding the war against militancy should have been sent. Instead, what the World Economic Forum saw was a cricketer-turned-politician advocating a view that not necessarily represents the official line taken by the government of Pakistan.
Published in The Express Tribune, January 30th, 2011.


Lt-Gen Sami Anan will have the final say

ISLAMABAD: Air Marshal Muhammad Hosni Sayyid Mubarak has been the President of Jumhuriyah Misr al-Arabiyah for 30 years. At 82, the president has plans of gifting the presidency to Gamal Al Din Mohammed Hosni Sayed Mubarak, his younger son, as if the Arab Republic of Egypt is the president’s personal estate.
Martyrs are needed for incidents. Incidents are needed for revolutions. And, revolutions are needed for progress. Revolutions are about public discontent leading to breakdown of the established order. Revolutions are spontaneous with roots in areas that are disenfranchised both politically and economically. Revolutions begin outside the centres of power in areas where government writ is weak and then move towards the centre of power.
The uprising in Egypt began in Cairo, Hosni Mubarak’s centre of power, and then spread eastwards to Suez, northbound to Mansoura and westwards to Alexandria. Intriguingly, protesters in Cairo, Suez, Mansoura and Alexandria specifically targeted police stations and local chapters of the National Democratic Party. Interestingly, protesters were all without guns.
An uprising spurting from within the centre of power clearly indicates that a powerful faction from within the leadership is either guiding or managing the outbreak. It isn’t a revolution but a war of succession. In all probability, a powerful faction very close to the centre of power disagrees with Hosni Mubarak’s plans of gifting the presidency to Gamal and the entire upheaval is being stage managed to bring about the desired result.
The Egyptian theatre now has four key players — Lt Gen Sami Annan, Chief of Staff of the Egyptian Army, Field Marshal Mohammed Hussein Tantawi, Defence Minister, Air Marshal Ahmed Shafiq, Minister for Civil Aviation, and Lt Gen Omar Suleiman, the intelligence chief. Of the four, Lt Gen Annan commands 468,000 troops, Field Marshal Tantawi oversees 60,000 Republican Guards while Lt Gen Suleiman is rumoured to be ailing.
President Mubarak is playing out the last of his tricks. If protests continue even after the dissolution of the parliament, chances are Mubarak would be eased out. Lt Gen Sami Annan will have the last word and Air Marshal Ahmed Shafiq may be a good compromise candidate to replace Mubarak.

Israel urges world to curb criticism of Egypt's Mubarak

Israel urges world to curb criticism of Egypt's Mubarak - Haaretz Daily Newspaper | Israel News

Israel called on the United States and a number of European countries over the weekend to curb their criticism of President Hosni Mubarak to preserve stability in the region.


Jerusalem seeks to convince its allies that it is in the West's interest to maintain the stability of the Egyptian regime. The diplomatic measures came after statements in Western capitals implying that the United States and European Union supported Mubarak's ouster.


Israeli officials are keeping a low profile on the events in Egypt, with Prime Minister Benjamin Netanyahu even ordering cabinet members to avoid commenting publicly on the issue.


Senior Israeli officials, however, said that on Saturday night the Foreign Ministry issued a directive to around a dozen key embassies in the United States, Canada, China, Russia and several European countries. The ambassadors were told to stress to their host countries the importance of Egypt's stability. In a special cable, they were told to get this word out as soon as possible.


EU foreign ministers are to discuss the situation in Egypt at a special session today in Brussels, after which they are expected to issue a statement echoing those issued in recent days by U.S. President Barack Obama and Secretary of State Hillary Clinton.


Obama called on Mubarak to take "concrete steps" toward democratic reforms and to refrain from violence against peaceful protesters, sentiments echoed in a statement Saturday night by the leaders of Britain, France and Germany.


"The Americans and the Europeans are being pulled along by public opinion and aren't considering their genuine interests," one senior Israeli official said. "Even if they are critical of Mubarak they have to make their friends feel that they're not alone. Jordan and Saudi Arabia see the reactions in the West, how everyone is abandoning Mubarak, and this will have very serious implications."


Netanyahu announced at Sunday's weekly cabinet meeting that the security cabinet will convene Monday to discuss the situation in Egypt.


"The peace between Israel and Egypt has lasted for more than three decades and our objective is to ensure that these relations will continue to exist," Netanyahu told his ministers. "We are closely monitoring events in Egypt and the region and are making efforts to preserve its security and stability."


The Foreign Ministry has called on Israelis currently in Egypt to consider returning home and for those planning to visit the country to reconsider. It is telling Israelis who have decided to remain in Egypt to obey government directives.

Civil versus Political Society

Raza Rumi

Several self-styled analysts on ‘civil society’ have articulated contrarian views about the kind of choices they face, particularly with respect to forging alliances with political parties and avoiding the vigilantism that is the preserve of the extremists. The lawyers’ movement is being repeatedly cited as reference point without much introspection. Save a few exceptions, one is yet to hear a forceful condemnation of Islamabad lawyers’ love for Qadri.
We are faced with a deeper challenge today: Surviving as a plural society against a sectarian tide getting out of control. This is why engaging with the ‘political society’ is all the more important. We know that moderate parties such as the PPP are reticent to mobilise the cadres against extremism. Hence, the need to pressurise them into taking action to re-establish state writ. Condemning the PPP, the MQM, and the ANP may be the easiest recourse for many analysts but the truth is that we cannot work in isolation. No agenda for change, unless mullahs and the unelected saviours articulate it, is possible without the support of political society and grassroots cadres of political workers.
Pakistan’s political society is admittedly polarised on the issue of extremism. The state and its proxies have indoctrinated millions in the recent decades. Yet, Pakistanis have instinctively rejected their brand of societal framework, governed in part by the dictates of modernity and economics. A large number of students in Pakistan’s major universities are women who are increasingly visible in the workforce. There is a wider constituency in Pakistan, which is integrating into a global information economy and disagrees with the opportunist mullahs. This trend is likely to be irreversible.
The pejorative use of the term ‘liberal’ is also problematic for it is something not rooted in our historical trajectories of socio-economic development. It has captured the phony discourse by its misuse. Thus we have witnessed the emergence of a disparaging term, ‘liberal fascist’. Instead of fighting on this false binary of liberal-vs-conservative, we may have to get back to the essential question of seeking tolerance in a society scarred by violence, marginalisation and sectarianism.
Within the civil society debates, monitoring hate speech has been termed as mirror vigilantism. Again, this is a spurious argument for the extremists are killing people and there is no space for incitement to violence under the laws of our land including the Islamic laws that have been blended into our legal system.
Therefore a new agenda has to emerge in this existential battle for Pakistan. There is no alternative for the miniscule cadre of ‘civil society’ activists to engage with political parties, labour groups, moderate ulema and other professional associations to rally around the agenda for moderation. Without the involvement of political workers, the vigils and rallies of concerned citizens will remain footnotes in the tragic history of Pakistan. In any case a civil society is meaningless if not engaged with the larger citizenry.
Published in The Express Tribune, February 1st, 2011
The writer is consulting editor, The Friday Times

Jaag pakistan jaaag




DATE:3rd Feb, Thursday
TIME:2pm sharp,
VENUE: where the 3 Pakistani were killed by black water american agent(mazang chowk or qartaba chowk)
We will rally towards american consulate and protest against the american terrorism in PAKISTAN
JAAG PAKISTAN JAAAG

Doomsday of Seculars...



Journalist's Views about MQM & Karachi

اندھے، پاگل اور وحشی







اندھے، پاگل اور وحشی



اسلام و علیکم

میرا پاکستان بہت ہی خوبصورت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے پیارے ملک کو دشمنوں کی نظر لگ گئی اور اس کو جہاں دنیا کے بیرونی میڈیا نے بدنام کر رکھا ہے وہاں پاکستان کے اپنے میڈیا نے بھی بازی لے جانے کی ہی کوشش کی ہے کسی نے پاکستان کے اصل اور مثبت امیج کو اجاگر کرنے کی کوشش نہیں کی چلیں ہم آپ کو پاکستان کا اصل چہرہ دکھاتے ہیں کہ پاکستان میں 2010 کیسا گزرا









































































































یا اللہ میرے پیارے پاکستان کو دشمنوں کی نظر بد سے بچا ۔۔۔آمین

پاکستان زندہ باد

اللہ نگہبان

Total Pageviews