Monday, February 14, 2011

اللہ اور انسان

اللہ اور انسان

.میں نے کہا: تھک چکا ہوں.
تو نے کہا: لا تقنطوا من رحمة اللہ.
خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں ـ
(سورہ زمر/آیت 53)

میں نے کہا: کوئی بھی میرے دل کی بات نہیں جانتا.
تو نے کہا: ان اللہ یحول بین المرء و قلبه.
خدا انسان اور اس کے قلب کے بیچ حائل ہے ـ
(سورہ انفال/آیت 24)

میں نے کہا: تیرے سوا میرا کوئی نہیں.
تو نے کہا: نحن اقرب من حبل الورید.
ہم گردن کی رگوں سے بھی انسان کے قریب تر ہیں ـ
(سورہ ق/آیت 16)

میں نے کہا: لیکن لگتا ہے تو مجھے بھول ہی گیا ہے!
تو نے کہا: فاذکرونی اذکرکم.
مجھے یاد کرتے رہو تا کہ میں بھی تمہیں یاد رکھوں ـ
(سورہ بقرہ/آیت 152)

میں نے کہا: کب تک صبر کرنا پری گا مجھے؟
تو نے کہا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا.
تم کیا جانو شاید وعدے کا وقت قریب ہی ہوـ
(سورہ احزاب/آیت 63)

میں نے کہا: تو بہت بڑا ہے اور تیری قربت مجھ نہایت چھوٹے کے لئے بہت ہی دور ہے، میں اس وقت تک کیا کروں؟
تو نے کہا: واتبع ما یوحی الیک واصبر حتی یحکم الله.. (تم وہی کرو جو میں کہتا ہو اور صبر کرو تا کہ خدا خود ہی حکم جاری کردےـ
(سورہ یونس/آیت 109)

میں نے کہا: تو بہت ہی پرسکون ہے! تو خدا ہے اور تیرا صبر و تحمل بھی خدائی ہے جبکہ میں تیرا بندہ ہوں اور میرے صبر کا ظرف بہت ہی چھوٹا ہے. تو ایک اشارہ کردے کام تمام ہے.
تو نے کہا: وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ
شاید تم کسی چیز کو پسند کرو اور تمہاری مصلحت اس مین نہ ہو ـ
(سورہ بقرہ/آیت 216)

میں نے کہا: انا عبدک الضعیف الذلیل – میں تیرا کمزور اور ذلیل بندہ ہوں؛- تو کیونکر مجھے اس حال میں چھوڑ سکتا ہے؟
تو نے کہا: إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
خدا انسانون پر بہت ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہےـ
(سورہ بقرہ/آیت 143)

میں نے کہا: گھتن کا شکار ہون.
تو نے کہا: قُلْ بِفَضْلِ اللّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُواْ. (لوگ کن چیزوں پر دل خوش رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ خدا کے فضل و رحمت پر خوش رہا کریں.
(سورہ یونس – آیت 58)

میں نے کہا: چلئے میں مزید پروا نہیں کرتا ان مسائل کی! توکلتُ علی الله.
تو نے کہا: ان الله یحب المتوکلین. (خدا توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.
(سورہ آل عمران/آیت 159)

میں نے کہا: غلام ہیں تیرے اے مالک!
لیکن اس بار گویا تو نے کہا کہ: خیال رکھنا؛ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ۔
(سورہ حج – آیت 11)

... (بعض لوگ صرف زبان سے خدا کی بندگی کرتے ہیں، اگر انہیں کوئی خیر پہنچے تو امن و سکون محسوس کرتے ہیں اور اگر آزمائش میں مبتلا کئے جائیں تو روگردان ہوجاتے ہیں

No comments:

Post a Comment

قربانی فی سبیل اللہ۔۔۔تحریر: مجدی رشید

عید قربان حقیقی معنوں میں ایسے پسے ہوئے طبقے کے لئے خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے جنہیں سارا سال گوشت میسر نہیں آتا۔ پیر 5 اگست 2019 qu...