Saturday, August 29, 2015

کیپٹـن محمد اقبال شہید ہلالِ جرآت 1998ءکا وصیت نامہ

1)سامان جو میں نــے بٹالین کو واپس لوٹانا ھــے سبز پیک ،ہائی نیک جرسی
2) لنگر کا جتنا بل بنا هـے وہ ہرحال میں ادا کیا جائــے
3) میس کا بل جتنا بهی بنتا هــے وہ ہر حالت میں ادا کرو
4) دهوبی کا بل ادا کیا جائــے
5) موچی کــے پانچ روپـے دینـے ہیں
میری شہادت کـے بعد ان باتوں پر عمل کریں
☆__روزے جو میرے ذمہ ہیں 16روزے
☆__24مئی 1980ء کو میں نــے بنک سـے قرض لیا تها.میرے خیال میں 900روپــے ،یہ پیسـے یعنی قرضہ بی ایس سی سائنس سٹوڈنٹس کو ملا تها،پشاور یونیورسٹی ایڈمنسڑیشن بلاک سـے اس کــے بارے میں معلوم کیا جا سکتا هــے جو میں نــے بنک کو دینا هــے یہ رقم میرے ذمـے هــے جو میں نـے بنک کو دینی هـے
☆__میری قبر کو پختہ نہ کیا جائــے اور اسلامی شریعت کــے مطابق اس کی اونچائی رکهی جائــے اور نہ میری قبر پر پهولوں کی چادر یا سہرے یا کوئی اور دوپٹہ وغیرہ بچهایا جائــے کیونکہ یہ سب کچھ رسومات هیں قرآن اور حدیث میں ان چیزوں کا کوئی حکم نهیں اصل چیز دعا هـے.
☆__بجائــے چاول وغیرہ پکا کر لوگوں کو بلایا جائـے اس رقم ســے کسی نالی یا راستـے وغیرہ کو تعمیر کیا جائـے یا پهر مسجد میں دے دیا جائــے یہ صدقہ جاریہ رهـے گا نمود و نمائش کی ضرورت نهیں.
☆__میری شہادت کــے بعد اگر حکومت کی طرف سـے کوئی پیسہ وغیرہ مل جائــے اور یہ اگر پچاس ہزار هیں یا اس ســے زیادہ هوں تو چالیس ہزار میری قضا نمازوں اور روزوں کـے فدیـے کــے طور پر غربا اور مساکین میں تقسیم کئــے جائیں.
☆__اور میری شہادت کــے بعد کوئی میرے ساتھ احسان کرنا چاهـے تو جتنا زیادہ هو سکــے درود شریف پڑهــے اور ثواب میرے لئـے بخش دے
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گهر کی نگہبانی کرے
کیپٹـن اقبال شہید جو جذبہِ ایمانی و جرآت کی مثالِ عظیم هیں ســـلام اے شہید جو شہید هو کر امر هوئــے.

خدا کی قسم سارے دن کی تھکن اتار دی اس بندے نے۔


خدا کی قسم سارے دن کی تھکن اتار دی اس بندے نے۔ 

اور آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں جس دن اس ملک کے میڈیا میں ایسے 500 اور سوشل میڈیا پر ایسے 100 آدمی بھی آ گئی اسی دن ایک بدلا ہوا پاکستان دیکھ لوگے۔
اور ہم لوگ ایک عرصے سے چِلا رہے ہیں کہ کشمیر اور پاکستان پر بننے والی کوئی ایک بھی فلم ایسی نہیں ہوتی جس میں بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی را کا ایجنڈا نا ہو۔ آج Faisal Qureshi نے بھی کہہ دیا۔ الحمد اللہ ہماری آواز اور یہ چھوٹی موٹی پوسٹس رائیگاں نہیں جا رہی ہیں۔ کبھی ہم میں سے چند ایک بولا کرتے تھے۔ 
آج پاکستان کی آواز فیصل قریشی جیسے بھائیوں کے منہ سے نکل رہی ہے اور آپ میں سے ہر آدمی تک پہنچ رہی ہے۔ آواز اٹھا نہیں سکتے تو کم از کم اسے آگے ضرور پہنچانا چاہیے۔ یہ دھرتی ہماری ماں ہے اور ماں کی توہین کوئی انسان برداشت نہیں کرتے۔ ہم نے توہین کرنے والا کا منہ نہیں نوچا البتہ اتنا تگڑا جواب دیا ہے کہ انڈیا تک لوگوں کی چیخیں نکلی ہیں۔
میرا فرض تھا یہ ویڈیو آپ تک پہچانا اسے اگلے تمام دوستوں تک پہچانا آپ تمام دوستوں کا فرض ہے۔
۔love you Faisal دل جیت لیا۔ اسے اتنا شیئر کریں کہ انڈیا سمیت پاکستان میں موجود انڈیا کے تلوے چاٹنے والی ہر لابی تک پہنچ جاۓ۔






India is releasing a new movie called Phantom. Saif Ali Khan says he has "no faith in Pakistan". This is what I think about the movie, and Saif's statements.
Posted by Faisal Qureshi on Wednesday, August 26, 2015

مادہ پرستی یا محبت؟


ایک طوائف نے اپنی نائیکہ سے دریافت کیا تھا "خانم محبت کیا ہوتی ہے؟" خانم نے متنفر انداز میں گردن کو ایک تلخ سا جھٹکا دیا اور زہر خند مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا "ہونہہ مفت کی عیاشی"
کسی سائیں سے کسی میرے جیسے جاہل نے محبت کے بارے میں دریافت کیا تھا بولا اپنی ذات کی نفی کر دینا کسی اور ذات کےلیے۔ سائیں بولا ذات کی نفی سے مراد خود کشی نہیں ہے ذات کی نفی سے مراد اپنے معیارات، ترجیحات، احساسات، جذبات، خیالات اور تقاضوں کو کسی دوسری ذات پر فوقیت اور برتری نا دینا ہے۔ 
دونوں کے جوابات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ بات یہ دراصل اتنی سی ہے ہماری سوچ پر گرد و پیش کے حالات و واقعات اثر انداز ہوتے ہیں، پھر وہ سوچ ہمارے نظریات بناتی ہے، وہ نظریات ہمارے اعمال و اقوال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اور یہی اعمال و اقوال روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے ہیں۔ اور یوں یہ روز روز گزرتی زندگی عمر بنتی ہے۔ اور یوں انسان عمر سے تجربے اخذ کرتا ہے اور گرد و بیش کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ جس کی جو سوچ ہو، جو اعمال ہوں اور جو گردوپیش ہو وہ اسی کے مطابق نتائج اخذ کرتا ہے۔
اس میں انسان کبھی تو اپنی محسوسات کو مجموعی انسانی رویہ سمجھتا ہے اور کبھی وہ مجموعی معاشرتی ریووں کو مجموعی انسانی رویہ سمجھنے لگتا ہے۔ ایک مادہ پرست انسان کو محبت کارو بارِ جنس کے سوا کچھ نظر نہیں آتی۔ کیوں کہ انسانیت پر یقین کا نعرہ تو لگاتا ہے مگر انسانیت اس کے نزدیک مادہ پرستی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یعنی مادہ پرستوں کے ہاں محبت انسان مادی تقاضوں کو پورا کرنے کےلیے کرتا ہے نا کہ آفاقی و الہامی احساسات کے تابع ہو کر۔ گویا ان کے نزدیک حیوانیت اور محبت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یعنی کہ انسان مکمل حیوان بن جاۓ محبت کے نام پر۔
میرا مقصد محبت کی وکالت کرنا نہیں ہے میں خود اس بات کا قائل ہوں کہ اخلاص اور سادگی جنسِ نا پید بن چکے ہیں اور مادیت جیت چکی ہے مگر انسانیت ہار چکی ہے۔ آج کی نام نہاد محبت دھوکے جھوٹ اور منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بلکہ وہی مادی ضروریات کے تقاضے ہیں جن کا رونا میں اوپر رو چکا ہوں۔ لیکن اس کے باوجود میں انسانیت، اچھائی، بے غرضی اور بے لوث ہونے پر یقین رکھتا ہوں۔ میں انسان کی عظمت پر یقین رکھتا ہوں۔ میں مطلب پرستی کو محبت کا نام دیے جانے کا مخالف ہوں۔ اور اس بات کا مخالف ہوں کہ زہر کی بوتل پر شہد کا سٹیکر لگا کر بیچا جاۓ۔ اور اس بات کا مخالف ہوں کہ لوگ اس زہر کا شکار ہو کر بھی شہد کی افادیت سے انکار کریں۔ زہر خود پیئں اور قصور شہد کا گنیں۔
مطلب پورا کرنے کےلیے مقاصد پر محبت کا پینٹ چڑھانے کا مخالف ہوں۔ اور سب سے بڑھ کر منافقت کا مخالف ہوں کہ لوگ مادی ضرورتوں کی تکمیل کو محبت کا نام دیتے ہیں۔ صاف کیوں نہیں کہتے ہیں کہ ہم جنس کا کاروبار کرتے ہیں۔ 
شائد اس لیے کہ انسان کی فطرت میں آج بھی کہیں کہیں برائی سے نفرت چھپی ہے۔ انسان آج بھی انسانیت اور اس کی عظمبت کا تھوڑا بہت قائل ہے۔ انسان آج بھی اس بات کا قائل ہے کہ ازلی اور آفاقی مقدس جذبات پر چند لمحوں کی مادی ضرورتوں کو فوقیت دےکر لطیف احساسات کو آلودہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ بے غرضوں اور صدا کے بے نیازوں کی دنیا میں غرض سے بڑی آلودگی کوئی نہیں ہے۔ اور محبت کے معاملے میں غرض گناہِ کبیرہ کے مترادف ہے۔اب ہنسو سب مل کے جو مادیت پرستی کو ایمان سمجھتے ہیں۔
صلیبِ وقت پہ میں نے پکارا تھا محبت کو 
میری آواز جس نے بھی سنی ہو گی ہنسا ہو گا
ہمارے شوق کے آسودہ و خُوشحال ہونے تک
تمھارے عارض و گیسُو کا سودا ہو چکا ہو گا
دلیلوں سے دوا کا کام لینا سخت مُشکل ہے
مگر اس غم کی خاطر یہ ہُنر بھی سیکھنا ہو گا

Total Pageviews