Friday, December 28, 2012

طالبان مائنڈ سیٹ - سلیم صافی

Thursday, December 27, 2012

Article by Javed Ch - A Must Read


حقیقت اور امید کی جنگ جاری ہے

پاکستان کی فوج آج ایسے نقصان سے دوچار ہے جسے شاید اُس کی تاریخ کے سب سے بڑے غیر جنگی نقصان میں شمار کیا جائے گا۔
سیاچن گلیشیئر کا گیاری سیکٹر، دنیا کے سب سے اونچے میدانِ جنگ کے دل کا کردار ادا کر رہا تھا جہاں آج سِکس ناردرن لائٹ انفنٹری کا صدر دفتر وہاں پر تعینات ایک سو پینتیس افراد کے فوجی اور غیر فوجی عملے سمیت برف کے وسیع تودے تلے دبا ہوا ہے

اتوار کو علاقے کا دورہ کرنے والے ایک دوست کے بقول ’برف کے میدان میں نام و نشان نہیں دکھائی دیتا کہ یہاں ایک بٹالین کا ہیڈکوارٹر تھا۔ امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچنے والی بھاری مشینری چیونٹیوں کی طرح دکھائی دیتی ہے‘۔
خیال ہے کہ ایک مربع کلومیٹر چوڑے برفانی تودے کی گہرائی سو فُٹ کے لگ بھگ ہے۔ یعنی اِتنی کھدائی کے بعد ہی فوجی نام و نشان ملنا شروع ہو سکتے ہیں۔
حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو نہ صرف جانی بلکہ دفاعی اعتبار سے بھی پاکستانی فوج کا ناقابلِ تلافی نقصان ہو چکا ہے۔ اگرچہ سیاچن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر ہے لیکن روایتی حریف ہونے کے باعث، دونوں افواج کا سیاچن جیسے یخ بستہ مقام پر بھی چوکنا رہنا ناگزیر ہے۔
گیاری سیکٹر کے دب جانے سے اگلی سرحدی چوکیوں کے راشن پانی اور اسلحے کی ترسیل کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے یا دنیا کی مشکل ترین فوجی سپلائی لائن کا زخم بھرنے کے لیے دوبارہ کتنے جتن کرنا پڑیں گے، اِن سوالوں کے جواب، دفاعی نزاکت کے باعث شاید پاکستانی فوج مستقبل قریب میں نہ دے لیکن ایک سو پینتیس افراد کے لیے اُن کے عزیز و اقارب کے ہاں، حقیقت اور امید کی جنگ جاری ہے کہ حقیقت مان کر صفِ ماتم بچھائی جائے یا امید کی دعا کے لیے صف آراء ہوا جائے۔
میجر ذکاء الحق بھی گیاری سیکٹر میں موجود تھے جب برفانی تودے نے اُن کے ہیڈ کوارٹر کو آ لیا۔ مجھ سمیت، اُن کے تمام دوست اور والدین کسی معجزے کے منتظر ہیں۔
ضلع مظفر گڑھ کے قصبے چوک مُنڈا میں اُن کے زمیندار والد سردار عبدالحق چانڈیہ کے ہاں خیر خبر لینے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے لیکن وہ اِس کشمکش میں ہیں کہ خیر بتائیں یا خبر۔ مجھ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بھی، وہ تازہ صورتحال جاننا چاہتے تھے۔
’پہلے موت کی خبر آئی اور پھر ملتان سے ایک بریگیڈئر صاحب نے آ کر حوصلہ دیا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں۔ دعا کریں‘۔
چوک مُنڈا یا چوک سرور شہید جیسے پسماندہ پاکستانی قصبوں میں بہت کم گھرانے ایسے ہوتے ہیں، جہاں پر آٹھ بھائیوں میں سے ایک افسری کے پھول پہنتا ہے اور اُس کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جاتی ہے

میجر ذکاء الحق اُن لوگوں میں سے ہیں جو خاندان، قصبے اور معاشرے کی وراثتی اور روایتی حدوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، قابلیت کے بل بوتے پر نیا مقام بناتے ہیں۔


انیس سو ترانوے میں مجھ سے ایک جماعت پیچھے ہونے کے باوجود انہوں نے پاکستان کے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک، کیڈٹ کالج حسن ابدال میں آٹھویں جماعت کے لیے داخلے کا امتحان پاس کیا۔


مظفر گڑھ کے نامور مثالی پبلک سکول میں ٹاٹوں، مٹی کے میدانوں اور درختوں کی چھاؤں تلے، صاف اور میلے کپڑوں سے بے نیاز ہو کر، فارغ التحصیل ہونے کے بعد، کیڈٹ کالج کی فوجی چمک دمک اور نظم و نسق میں جگہ بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا جس کا احساس مجھے ذکاء الحق کے ایک سال بعد وہاں پہنچنے پر ہوا۔


وہاں ذکاء الحق مجھ سے سینئر ہو گئے اور چار سال کے دوران، ہر موقع پر میں نے انہیں، روایتی حدیں توڑ کر آگے بڑھتے ہوئے دیکھا۔ زندہ دل شخصیت کے ساتھ ساتھ، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے نام بنایا۔
ہاکی، باسکٹ بال، ایتھلیٹکس اور گھُڑ سواری کے علاوہ اُن کی ایک تقریر میرے لیے ناقابلِ فراموش ہے جو انہوں نے ایک مقابلے کے دوران، ٹھیٹ سرائیکی ہونے کے باوجود، خالص انگریزی لہجے میں کی لیکن اپنے دیہی خد و خال کے باعث، انگریز ظاہری پن پر زیادہ یقین رکھنے والے جج صاحبان کو اول پوزیشن کے لیے مرعوب نہ کر سکے۔
بالآخر پاکستان ملٹری اکیڈمی میں انہوں نے بہترین مقرر کا اعزاز حاصل کیا جہاں ایک سو پانچ لانگ کورس میں انہیں دو ہزار دو میں کمیشن ملا۔ سیاچن میں پوسٹ ہونے سے پہلے وہ پاکستان کے فعال محاذ جنوبی وزیرستان میں تعینات رہے اور اقوامِ متحدہ کے مشن پر بیرونِ ملک بھی گئے۔
یہی شخصی یادیں ہیں جو شاید آج امید کا سہارا نہیں چھوڑنے دے رہیں۔ میجر ذکاء الحق کے فیس بُک نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اُن کے دوستوں کو جمع کر دیا ہے۔
فوج نے تو سیاچن جیسے مشکل مقام پر تعیناتی کے لیے اپنے افسر پر جو محنت اور سرمایہ کاری کی ہو گی، لیکن دوست احباب کے فیس بُک پیغامات سے یہی لگ رہا ہے کہ ذکاء جیسا بندہ، سو فٹ گہری برف کے نیچے سے نکل باہر آئے گا

ہر چند منٹ بعد ذکاء کی فیس بُک پروفائل پر کوئی دوست، اُن کے ساتھ اپنی پرانی تصویر شائع کر رہا ہے، کوئی اگلی ظہر پر ساتھ دیکھنا چاہتا ہے تو کوئی اُن کی زندگی کی دعاؤں کا طلبگار ہے۔


سیاچن میں پوسٹِنگ کے بعد اور روانگی سے پہلے میجر ذکاءالحق نے ایک شعر پوسٹ کیا تھا۔
’کھڑے ہیں سرحدِ ایماں پہ، کے ٹو کی طرح
دستِ کفر سے سیاچن کو بچانے کے لیے‘
اور ساتھ ہی انہوں نے لکھا، ’کچھ دن بعد میں وہاں ہوں گا جہاں عاصمہ جہانگیر کو ہونا چاہیے‘۔ پانچ جولائی دو ہزار گیارہ کی اِس پوسٹ پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔ شاید اسی لیے میجر ذکاء نے بھی نہیں بتایا کہ عاصمہ جہانگیر کو سیاچن میں کیوں ہونا چاہیے؟
لیکن میجر ذکاء الحق کی فیس بُک پر جس آخری پوسٹ نے میری توجہ کھینچی، وہ ایک ویڈیو ہے جو انہوں نے پچیس فروری کو یو ٹیوب سے لِنک کی۔ ویڈیو میں شہزادی جیسی گڑیا کا کیک بنانے کی ترکیب بتائی گئی ہے۔ ذکاء کی بڑی بیٹی مریم تین سال کی ہے اور بیٹا جہانزیب ایک سال کا ہو گیا ہے۔
فیس بُک کے محبوب قول کے حصے میں میجر ذکاء الحق نے یہ تحریر ہمیشہ کے لیے چھوڑ رکھی ہے۔ ’امید ایک اچھی چیز ہے، شاید بہترین چیز اور اچھی چیز کبھی نہیں مرتی‘۔

پاکستانی فوج بھی آئی پیڈ تیار کرنے لگی

Coulmn of the Day



Top 10 Brain Damaging Habits!! (must share )

1. No Breakfast

People who do not take breakfast are going to have a lower blood sugar level. This leads to an insufficient supply of nutrients to the brain causing brain degeneration.

2. Overeating

It causes hardening of the brain arteries, leading to a decrease in mental power.

3. Smoking

It causes multiple brain shrinkage and may lead to Alzheimer disease.

4. High Sugar Consumption

Too much sugar will interrupt the absorption of proteins and nutrients causing malnutrition and may interfere with brain development.

5. Air Pollution

The brain is the largest oxygen consumer in our body. Inhaling polluted air decreases the supply of oxygen to the brain, bringing about a decrease in brainefficiency .

6 . Sleep Deprivation

Sleep allows our brain to rest. Long term deprivation from sleep will acceleratethe death of brain cells.

7. Head Covered While Sleeping

Sleeping with the head covered increases the concentration of carbon dioxide and decrease concentration of oxygen that may lead to brain damaging effects.

8. Working Your Brain During Illness

Working hard or studying with sickness may lead to a decrease in effectiveness of the brain as well as damage the brain.

9. Lacking in Stimulating Thoughts

Thinking is the best way to train our brain, lacking in brain stimulation thoughts may cause brain shrinkage.

10. Talking Rarely

Intellectual conversations will promote the efficiency of the brain.

یہ شادی نہیں ہو سکتی - عطاْالحق

Wednesday, December 26, 2012

عبدالستار ایدھی


عبدالستار ایدھی

عبدالستار ایدھی المعروف مولانا ایدھی خدمت خلق کے شعبہ میں پاکستان اور دنیا کی جانی مانی شخصیت ہیں، جو پاکستان میں ایدھی فاونڈیشن کے صدر ہیں۔ ایدھی فاونڈیشن کی شاخیں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کی بیوی محترمہ بلقیس ایدھی، بلقیس ایدھی فاونڈیشن کی سربراہ ہیں۔ دونوں کو 1986ء میں عوامی خدمات کے شعبہ میں رامون ماگسےسے ایوارڈ (Ramon Magsaysay Award) سے نوازا گیا۔


ابتدائی حالات
مولانا ایدھی 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بنتوا میں پیدا ہوۓ۔ آپ کے والد کپڑا کے تاجر تھے جو متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ پیدائشی لیڈر تھے اور شروع سے ہی اپنے دوستوں کی چھوٹے چھٹوے کام اور کھیل تماشے کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ جب انکی ماں انکو سکول جاتے وقت دو پیسے دیتی تھی تو وہ ان میں سے ایک پیسہ خرچ کر لیتے تھے اور ایک پیسہ کسی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے لیے۔ گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو شدید قسم کے ذیابیطس میں مبتلا تھیں۔ چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا، جو آگے کی زندگی کے لیے کامیابی کی کنجی تھا۔



آغاز
1947ء میں تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا اور کراچی میں آباد ہوۓ۔ 1951ء میں آپ نے اپنی جمع پونجی سے ایک چھوٹی سی دکان خریدی اور اسی دکان میں آپ نے ایک ڈاکٹر کی مدد سے چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی جنہوں نے ان کو طبی امداد کی بنیادات سکھائیں۔ اسکے علاوہ آپ نے یہاں اپنے دوستوں کو تدریس کی طرف بھی راغب کیا۔ آپ نے سادہ طرز زندگی اپنایا اور ڈسپنسری کے سامنے بنچ پر ہی سو لیتے تاکہ بوقت ضرورت فوری طور پر مدد کو پہنچ سکیں۔


1957ء میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس پر ایدھی نے فوری طور پر رد عمل کیا۔ انہوں نے شہر کے نواح میں خیمے لگواۓ اور مفت مدافعتی ادویہ فراہم کیں۔ مخیر حضرات نے انکی دل کھول کر مدد کی اور ان کے کاموں کو دیکھتے ہوۓ باقی پاکستان نے بھی۔ امدادی رقم سے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری تھی اور وہاں ایک زچگی کے لیے سنٹر اور نرسوں کی تربیت کے لیے سکول کھول لیا، اور یہی ایدھی فاونڈیشن کا آغاز تھا۔


ایدھی فاونڈیشن کی ترقی
آنے والوں سالوں میں ایدھی فاونڈیشن پاکستان کے باقی علاقوں تک بھی پھیلتی گئی۔ فلو کی وبا کے بعد ایک کاروباری شخصیت نے ایدھی کو کافی بڑی رقم کی امداد دی جس سے انہوں نے ایک ایمبولینس خریدی جس کو وہ خود چلاتے تھے۔ آج ایدھی فاونڈیشن کے پاس 600 سے زیادہ ایمبولینسیں ہیں، جو ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئیں ہیں۔ کراچی اور اندرون سندھ میں امداد کے لیے وہ خود روانہ ہوتے ہیں اور ایدھی فاونڈیشن کی حادثات پر ردعمل میں کی رفتار اور خدمات میونسپل کی خدمات سے کہیں زیادہ تیز اور بہتر ہے۔ ہسپتال اور ایمبولینس خدمات کے علاوہ ایدھی فاونڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بنک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور سکول کھولے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ فاونڈیشن نرسنگ اور گھر داری کے کورس بھی کرواتی ہے۔ ایدھی مراکز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر ایدھی مرکز کے باہر بچہ گاڑی کا اہتمام ہے تا کہ جو عورت بچے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی اپنے بچے کو یہاں چھوڑ کر جا سکے۔ اس بچے کو ایدھی فاونڈشن اپنے یتیم خانہ میں پناہ دیتی ہے اور اسکو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔


ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فاونڈیشن
فاونڈیشن نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ترقی کی ہے۔ اسلامی دنیا میں ایدھی فاونڈیشن ہر مصیبت اور مشکل وقت میں اہم مدد فراہم کرتی ہے۔ جہاں امداد اور نگرانی ایدھی بزات خود متاثرہ ممالک میں جا کر کرتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ فاونڈیشن جن ممالک میں کام کر رہی ہے ان میں سے چند نام افغانستان، عراق، چیچنیا، بوسنیا، سوڈان، ایتھوپیا اور قدرتی آفت سماٹرا اندامان کے زلزلہ (سونامی) سے متاثرہ ممالک کے ہیں۔


16 اگست 2006ء کو بلقیس ایدھی اور کبریٰ ایدھی کی جانب سے ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فاؤنڈیشن کے قیام کااعلان کیا گیا۔ جس کے تحت دنیا کے امیریاغریب ہویا دنیا کا کوئی بھی ملک امریکہ، یو کے، اسرائیل، شام، ایران، بھارت، بنگلہ دیش ہوں میں یہ ایمبولینس بطور عطیہ دی جا رہی ہے اورانہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ایمبولینس کو 5 سال تک استعمال کرنے کے بعد فروخت کرکے اس کی رقم خیراتی کاموں میں استعمال کریں۔


بیگم بلقیس ایدھی اور کبریٰ ایدھی نے اس موقعہ پر کہا کہ وہ دنیا کاامیر یاغریب ملک ہووہاں مریض مریض ہی ہوتا ہے ایمبولینس کامقصد انسانوں کی جانیں بچانا ہوتا ہے اور ہمیں اس بات کی خوشی ہوگی کہ ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فاؤنڈیشن کی ایمبولینسیں دنیا بھرمیں انسانوں کی جانیں بچائیں خواہ وہ لندن، نیویارک، ٹوکیو، تل ابیب، بیروت اوردمشق ہوں انہوں نے کہا کہ انسانیت کی بین الاقوامی خدمت کے حوالے سے ہمارا ایک قدم اورآگے بڑھ رہا ہے۔



جدید میراث
آج پاکستان کے علاوہ اسلامی دنیا میں بھی ایدھی نے ایک غیر خود غرض اور محترم شخص کے طور شہرت پائی ہے۔ شہرت اور عزت کے باوجود انہوں نے اپنی سادہ زندگی کو ترک نہیں کیا، وہ سادہ روائتی پاکستانی لباس پہنتے ہیں، جو صرف ایک یا دو انکی میلکیت ہیں، اسکے علاوہ انکی ملکیت کھلے جوتوں کا ایک جوڑا ہے، جسکو وہ سابقہ بیس سال سے استعمال کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایدھی فاونڈیشن کا بجٹ ایک کروڑ کا ہے جس میں سے وہ اپنی ذات پر ایک پیسہ بھی نہیں خرچ کرتے۔ آپ کے بیٹے فیصل بتاتے ہیں، جب افغانستان میں مرکز کا افتتا ح کیا جا رہا تھا تو عملہ نے مہمانوں اور صحافیوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں خرید لیں۔ جب ایدھی وہاں آۓ تو وہ اس بات پر سخت خفا ہوۓ، کونکہ انکے خیال میں یہ رقم کسی ضرورت مند کی مدد پر خرچ کی جا سکتی تھی۔ اس رات آپ کلینک کے فرش پر ایمبولینسوں کے ڈرائیوروں کے ساتھ سوۓ۔


ایدھی فاونڈیشن کا مستقبل
آج ایدھی فاونڈیشن ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ایدھی مستقبل کی طرف دیکھتے ہوۓ کہتے ہیں، وہ پاکستان کے ہر 500 کلو میٹر پر ہسپتال تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ گرچہ انکو احترام کے طور پر مولانا کا لقب دیا گیا ہے لیکن وہ ذاتی طور پر اس کو پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کبھی کسی مذہبی سکول میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ وہ اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلوانا پسند کرتے ہیں، کیونکہ انسانیت کی خدمات پر پاکستان میں انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹلریشن سے ڈاکٹری کی اعزازی سند دی گئی ہے۔ وہ اس بات کو بھی سخت ناپسند کرتے ہیں جب لوگ انکی یا انکے کام کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ حکومت یا سابقہ مذہبی جماعتوں سے امداد بھی نہیں لیتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی امداد مشروط ہوتی ہے۔ ضیاءالحق اور اطالوی حکومت کی امداد انہوں نے اسی خیال سے واپس کر دی تھی۔


1996ء میں انکی خودنوشت سوانح حیات شائع ہوئی۔


1997ء گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی فاونڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس ہے۔ ایدھی بذات خود بغیر چھٹی کیے طویل ترین عرصہ تک کام کرنے کے عالمی ریکارڈ کے حامل ہیں۔ اور ریکارڈ بننے کے بعد بھی ابھی تک انہوں نے چھٹی نہیں لی۔


اعزازات
1988ء لینن امن انعام (Lenin Peace Prize)
1986ء عوامی خدمات میں رامون مگسےسے اعزاز (Ramon Magsaysay Award)
1992ء پال ہیریس فیلو روٹری انٹرنیشنل فاونڈیشن (Paul Harris Fellow Rotary International Foundation)
2000ء انسانیت، امن اور بھائی چارے کا انٹرنیشنل بالزن اعزاز (International Balzan Prize)
مارچ 2005ء عالمی میمن تنظیم کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز (Life Time Achievement Award)

ماڈرن خواتین

ماڈرن خواتین مغرب کی تقلید کا شکار ہیں. انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ان کا اپنا دین ان کوکس بات کی ترغیب دے رہا ہے. وہ اندھادھند مغرب کے جال میں پھنستی جارہی ہیں. الله نے بنیادی طورپرعورت کےاندرحیا ڈال رکھی ہے لیکن شیطان یعنی مغرب کا کمال ہے کہ اس نےعورت کو اسکی حیا بھی بھلادی اور دین کی تعلیمات بھی، سو مسلمان عورت بے پردہ اور بے حیا ہوکر یہ محسوس کرنے لگی ہے کہ وہ بھی آخر ماڈرن بن ہی گئی. اسکی فطری حیا اس کو کچوکے لگاتی ہے لیکن وہ جدیدیت کے خوشنما لباس کو اتارنا پسند نہیں کرتی.



آخرکار اسے بے حیائی جیسے گناہ میں لذّت محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے اور اسی لذّت کے احساس کو پانے کے لئے وہ کپڑے پہن کربھی برہنہ نظر آنے لگتی ہے. جب مردوں کی گندی اور غلیظ نظریں اس کے بے پردہ جسم پر پڑتی ہیں تو وہ لطف کی وادیوں کی سیر کرنے لگتی ہے اور سمجھتی ہے کہ وہ دنیا کی حسین ترین عورت بن گئی ہے حالانکہ وہ صرف بدنظر مردوں کا شکار بنی ہوتی ہے.



ایسے لوگ بدنظری میں اس قدر مہارت حاصل کرلیتے ہیں کہ باپردہ خاتون کے پوشیدہ جسم سے بھی حرام مزے لیتے رہتے ہیں. یہ قرب قیامت کی نشانی ہے.



آج کسی خاتون کو پردے کی ترغیب دی جائے تو کہنے لگتی ہیں کہ اصل پردہ تو دل کا ہوتا ہے دل صاف ہونا چاہیے. اپنا اندر اچھا ہوتو مردوں کی بدنظری اور ہوس کچھ نہیں بگاڑسکتی. یہ بہت احمقانہ جاہلانہ اور بےوقوفانہ بات ہے.اگر دل ہی کو صاف رکھنا کافی ہوتا تو پردے کے بارے میں الله اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اتنے واضح احکام اور ان کی تشریح کیوں دیتے؟



تین ہی عورتیں ایسی بات کرسکتی ہیں ایک وہ جو بے پردگی میں لذّت پاتی ہو اور اسے چھپانے کے لئے اپنی نگاہ میں بڑے فلسفے پیش کر رہی ہو. دوسری وہ جو دین کے بارے میں شدید لاعلمی کا شکار ہوں.تیسری وہ جو پردے کرتی ہو لیکن اپنے آپ کو دوسری جدیدیت کی ماری خواتین کے سامنے کم تر محسوس کرتی ہو چناں چھ اس احساس کمتری کو چھپانے کے لئے ایسی احمقانہ باتیں کہتی ہو. یہ تیسری خاتون تو قابل حیرت ہے کہ اپنے دین پر عمل کرکے بھی احساس کمتری کا شکار ہے، کیا اسکو علم معلوم نہیں کہ الله رب العزت نے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے؟ کیا اسکو معلوم نہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ کرنے کی کتنی تاکید کی ہے؟ اسکو معلوم نہیں کہ اسکا مذہب اسلام کتنا بڑا اور سچا مذہب ہے. پھر وہ اپنے مذہب پر عمل کرنے سے کیوں کتراتی ہے؟ کیا اس لئے کہ لوگ اسکو پینڈو وغیرہ کہیں گے؟ تو ایسی عورت کو جان لینا چاہیے کہ سچائی کو بولنے اور اس پر عمل کرنے میں ہی اصل عظمت ہے.



کچھ خواتین پردہ نہ کرنے کا یہ عذر پیش کرتی ہیں کہ انہیں اس معاملے میں رشتہ داروں کی حمایت حاصل نہیں. اگر آپ کے رشتہ دار آپ کو روز قیامت جنّت میں جانے سے روکیں گے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ یہی کہ آپ ضرور ضرور جنّت میں جا ئیں گی اور ان کی نادان بات کو بلکل بھی نہیں سنیں گے. اس طرح اس دنیا میں بھی آپ کے رشتہ دار آپ کو دین پر عمل کرنے سے روک رہے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ دین اسلام ہی پر عمل کرکے آپ کے الله کی رضا اور خوشی اور جنّت الفردوس میں مقام پائیں گی تو آپ کو ان سے ڈرنے اور جھکنے کی ضرورت نہیں. آپ سکون سے اپنے دین پر عمل کریں. باحیا و باپردہ بننے اور الله رب العزت کی رضا کی مشتاق رہیں اس صورت میں الله رب العزت آپ کی ضرور مدد کریگا. اگر آپ ہرطعنوں کو پیچھے ہٹا کر با پردہ بن کر رہیں.



کچھ خواتین موسم گرما میں دوپٹے اوڑھتی ہیں جبکہ موسم سرما میں موٹی چادریں. نام یہ ہوتا ہے کہ حجاب اوڑھ رہی ہیں. بس ذرا موسم گرما میں گرمی محسوس ہوتی ہے تو بڑا حجاب چھوڑ کر بے پردہ ہوجاتی ہیں یعنی توہین حجاب کی جارہی ہے. ایسی خواتین سے گزارش ہے کہ براہ کرم یہ روش چھوڑدیجیے. مسلمان خاتون برقعے اور چادر میں پریشان نہیں ہوا کرتی ہے. اور پھر بےحیائی کی ٹھنڈک سے پردے کی گرمائش بہتر ہے. الله پاک ہمیں حیا وغیرت جیسی صفات سے مالامال فرمائیں کہ اسی میں ہماری عزت ہے.

پاکستان کے کچھ ریکارڈز


.
.
.
.














































لاہوت لامکاں ۔ ایک سحر انگیز مقام

























عمران خان، میاں صاحب اور ڈاکٹرعامر لیاقت...طلوع…ارشاد احمد عارف



کراچی سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 308 کے مسافروں کے ساتھ ایئرپورٹ پر جو ہوا پاکستان کے عوام عرصہ دراز سے اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ ریاست کی دیکھ بھال پر مامور نااہل، کام چور، حرام خور اور عوام دشمن حکمرانوں کی لاپروائی، بے نیازی اور بے حسی کے سبب انجن خراب، مسافروں کادم گھٹ رہا ہے، آکسیجن کی کمی کے باوجود پینے کا پانی ناپید اور دروازے بند، بہت سے قریب المرگ مگر ریاست کے کاک پٹ پر قابض کپتان اور سینئر عملے کادعویٰ ہے کہ کچھ برا نہیں، سب ٹھیک ہے اورخرابی کی بات کرنے والے لاعلم، حاسد اورجمہوریت کے دشمن ہیں۔

میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے شیخ سعدی کاوہ تعویذ گھول کر پی رکھا ہے جوانہوں نے اپنے اوراپنے گدھے کی شب بسری کے لئے جگہ فراہم کرنے والے کسان کو دردِ زہ میں مبتلا بیوی کے لئے دیا تھاتاکہ وہ زچگی کے مراحل سے بحسن وخوبی عہدہ برا ہوسکے۔ تعویذ میں لکھا تھا ”مرا و خرِ مرا جا باید، زنِ دہقان زاید کہ نہ زاید (مجھے کہ میرے گدھے کو جگہ چاہئے میری بلا سے دیہاتی کی بیوی بچہ جنے نہ جنے) ہمارے ہر نوع اورنسل کے حکمرانوں کو اعلیٰ ایوانوں میں قدم جمانے، عرصہ اقتدار میں عیش و عشرت، نمودونمائش اور لوٹ کھسوٹ کاموقع ملنا چاہئے ان کی بلا سے قوم غربت و افلاس، بدامنی ا وربیروزگاری سے تنگ آکر خودکشی کرے،بھوک سے مرے، قاتل، ڈکیت،بھتہ خور، اغوابرائے تاوان کے مجرم، ٹارگٹ کلر ان کا رشتہ ٴ حیات منقطع کریں، انہیں پرواہ نہیں۔

کراچی کے حالات پر ان دنوں سب سے زیادہ تشویش ظاہر کی جارہی ہے کیونکہ کراچی کی بدامنی کے اثرات پورے ملک کی معیشت، سلامتی اور سیاست پر مرتب ہو رہے ہیں۔ کراچی اور بلوچستان کی صورتحال کی خرابی کے بہانے الیکشن کے طویل عرصہ تک التوا کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے اورایوان صدر کے علاوہ حکمرانوں سے قربت کے دعویدار بعض تجزیہ کاراس ضمن میں پیش پیش ہیں۔ کیا سچ ہے اور کیاجھوٹ کوئی نہیں جانتا؟ سرمایہ کاری کاعمل جامد، لوگ اپنے مستقبل سے مایوس اور نوجوان نسل آمادہٴ بغاوت ہے۔ مگرحکمران مطمئن ہیں کہ ہم نے پانچ سال پورے کرلئے۔ قوم کو اور کیاچاہئے؟ پانچ سال اور دے تو بتائیں گے کہ ہم مزید کیاکرسکتے ہیں۔

کراچی میں قیام امن کی مختلف تجاویز سامنے آرہی ہیں عمران خان اور میاں نوازشریف سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ صدر اور حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں فوجی کارروائی کا مطالبہ کررہی ہیں جبکہ سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے جزوی مارشل لا کا شوشہ چھوڑا ہے حالانکہ 12مئی 2007 کو بدترین بدامنی اور لاقانونیت پر سنگدل حکمران پھولے نہ سمایا تھا۔ گزشتہ روزدانشوروں سے تبادلہ خیال کیا۔ ایک محفل میں جیو گروپ کے مقبول اینکرپرسن مذہبی پروگرام کے ذریعے ملک گیر شہرت حاصل کرنے والے نوجوان دانشور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کسی قسم کی فوجی کاررروائی اور مصنوعی قیادت ابھارنے کے عمل کوکراچی کے ساتھ زیادتی قراردیاکہ اس طرح حالات خراب کرنے والے ٹولے کو مظلومیت کا لبادہ اوڑھنے میں مدد ملے گی۔

ان کی رائے تھی کہ عسکریت پسندوں ، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے علاوہ ان کے سیاسی سرپرستوں سے خوفزدہ کراچی کے عوام کو قومی قیادت کی طرح تحفظ کا احساس فراہم کئے بغیر اصلاح احوال ممکن نہیں۔ میاں نوازشریف، عمران خان، سید منور حسن، ایک ڈیڑھ ماہ کراچی میں ڈیرہ ڈالیں۔ مقامی قیادت کو فعال کریں۔ عوام بالخصوص حالات کے ستائے عوام سے براہ راست رابطہ کریں اور یہ یقین دہانی کرائیں کہ عام انتخابات میں آزادی سے حق رائے دہی استعمال کرنے کی صورت میں ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کوکوئی خطرہ لاحق نہ ہوگا۔ ہمارے کارکنوں کی یہ کھیپ اورریاستی مشینری آپ کا تحفظ کرے گی۔ میاں نوازشریف بہتر پوزیشن میں ہیں کہ کراچی کے نوجوان اپنے بزرگوں کی جماعت مسلم لیگ میں آسودگی محسوس کریں گے۔ جبکہ ماضی کے بوجھ سے آزاد عمران خان کاجلسہ شاندار تھا اور نوجوان نسل ان پر فریفتہ ہے مگردونوں کو مقامی قیادت کی سوچ تبدیل کرنی ہوگی جو اب تک ڈلیور نہیں کرسکی۔ سید منور حسن کے لئے پیغام واحد ہے تاہم پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے خلاف بننے والا کسی قسم کا اتحاد نقصان دہ ہوگا۔ منفی پروپیگنڈے کا سبب اور ایجنسیوں کی کارروائی قرارپائے گا البتہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ مفید ہوگی اور بریلوی مکتب ِ فکر کا تعاون ثمر آور۔ دانشور عامر لیاقت کے تجزیے سے متفق تھے۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ایم کیو ایم کے گھاٹ کا پانی پیاہے۔ کراچی کیا پاکستان بھر میں مقبول ہیں گزشتہ روز سنٹرل کالج کی تقریب میں نوجوان نسل ان پر جس طرح صدقے واری جارہی تھی وہ چشم کشا تھا۔ اگر میاں نواز شریف اور عمران خان میں سے کوئی ان کے حقیقت پسندانہ تجزیئے، عوامی مقبولیت اور سامعین کومسحور کرنے کی خداداد نعمت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرلے توکراچی اور پاکستان کے نوجوان جھوم اٹھیں گے اور 2012 کے انتخابات تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ مگرکیا دونوں لیڈران کرام کے مقامی ساتھی اتنا ویژن اور ظرف رکھتے ہیں؟

پی کے 308کے کپتان کومسافروں کی فکرتھی اورجہازکی خرابی کا احساس اس لئے وہ ٹیک آف کے بجائے جہازکو واپس لے آیا مگرموجودہ انسان دشمن اور عوام بیزار نظام کے علمبرداروں ، محافظوں کامعاملہ مختلف ہے انہیں تو ساون کے اندھے کی طرح ہرطرف ہراہی ہرا نظر آتا ہے اور وہ اس بات پر خوش ہیں کہ غربت، بیروزگاری، بدامنی، قانون شکنی، بدانتظامی اور لوٹ کھسوٹ کے باوجود ریاست پاکستان سٹیٹس کو کے ساتھ قدم بقدم چلی جارہی ہے۔ کٹھارا بسوں کے عقبی حصے میں لکھے اس فرسودہ بے وزن شعر کی طرح نہ انجن کی خوبی، نہ کمال ڈرائیورچلی جارہی ہے خدا کے سہارے مگر تابکے؟ہم کب تک انگوروں کی بیلیں کیکر پر چڑھا کر ہر گچھے کو چھلنی کرتے رہیں گے۔
Irshad Ahmad Arif Column About Imran khan,Mian Nawaz Sharif and Dr Aamir Liaquat Hussain in Daily Jang Newspaper

http://www.facebook.com/aamirliaquat...pehchan?ref=hl
Official Website of Dr Aamir Liaquat Hussain

رولا رپا توازن کا ضامن ہے

رولا رپا توازن کا ضامن ہے
 
کل کی بات ہے بیغم بلا فل سٹپ بولے چلی جا رہی تھی اور میں اس کے حضور کھوگو بنے بیٹھا تھا۔ میں جانتا تھا ایک لفظ بھی میرے منہ سے نکلا تو دو چار گھنٹے بنے۔ مجھے ہمیشہ چپ کی چادر میں ہی پناہ ملی ہے۔ شوہر حضرات کو اکثر یہ جملہ سننے کو ملا ہو گا
" تم نے ساری عمر کیاہی کیا ہے‘ کون سے تم نے میرے ماتھے پر ٹیکے سجا دیے ہیں"
یہ جملہ پہلے بھی کوترسو بار سن چکا تھا۔ میں سقراط کا زہر سمجھ کر پی جاتا تھا۔ کل مجھے تاؤ آ گیا۔ کمال ہے وہ ساری عمر میں اس عرصہ کو بھی شمار کر رہی تھی جو میرے کنوار پن کا تھا۔ یہ بھی معلوم نہیں مجھے ابھی اور کتنا جینا ہے۔ ساری عمر میں تو یہ دونوں زمانے بھی آتے ہیں۔ جی میں آیا اس حوالہ سے بات کروں لیکن مجھے اس کے اس جملے نکمے تو ہو ہی اوپر سے حکایتں کرتے ہو کے تصور نے لرزا کر رکھ دیا۔ مجھے غصہ بڑا تھا جو میں ہر حال میں نکالنا چاہتا تھا۔ میں نے بڑی کڑک دار آواز جو کمرے کی دہلیز بھی پار نہ کر سکی‘ میں کہا کیوں خوامخواہ مغز چاٹ رہی ہو۔ اس کا جواب میری سوچ سے بھی بڑھ کر نکلا۔ کہنے لگی میں اپنے منہ سے بول رہی ہوں اس میں تمہارا کیا جاتا ہے۔
اس کی بات میں حد درجہ کی معقولیت تھی۔ ورزش تو اس کے دماغ اور منہ جس میں زبان اور جبڑے بھی شامل ہیں‘ ہو رہی۔ ہاں البتہ میرے کانوں کو زحمت ضرور تھی۔ دماغ کا خرچہ تب ہوتا جب میں اس کے کہے کو کوئ اہمیت دے رہا ہوتا۔ روز کی چخ چخ کو اہمیت دینا حماقت سے زیادہ نہیں۔
غصہ میں آ کر ڈھیٹ اور چکنا گھڑا تک کہہ جاتی ہے۔ میں دونوں کانوں سے کام لیتا ہوں یعنی ایک کان سے سنتا ہوں دوسرے کان سے نکال دیتا ہوں اور بس۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری لڑائ یک طرفہ رہتی ہے۔ معروف مقولہ ہے کہ رعایا ملک کے قدموں پر قدم رکھتی ہے۔ میں بھی اس ذیل میں حاکم کے قدموں پر قدم رکھنے والا ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں اپنے گھر کے افراد کی پوری دیانتداری سے خدمت کرتا ہوں۔ چوک اسی معاملہ میں ہوتی ہے جو میری پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ گھر والے یقین نہیں کرتے۔ ہر گھر والی اپنے شوہر کو اوباما کا سالا سمجھتی ہے جو ہر کچھ اس کی دسترس میں ہے۔ بہر طور دسترس سے باہر کام کے لیے مجھے دونوں کانوں سے کام لینا پڑتا ہے۔ حکومت میں موجود لوگ دونوں کانوں سے کام نہیں لیتے۔ وہ کانوں میں روئ ٹھونس لیتے ہیں۔ لوگ جب سڑکوں پرآتے ہیں تو نظر آنے کے مطابق یہ سازش اور بغاوت کے مترادف ہوتا ہے اس لیے وہ اس رولے رپے کے لیے ڈنڈے کا استعمال فرض عین سمجھتے ہیں۔ لوگ اتنا بولتے اور لکھتے ہیں لیکن ان کی چال میں رائ بھر فرق نہیں آتا۔ رہ گئ تاریخ کی بات تو مورخ ان کا ہتھ بدھا گولا ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں پیٹو مورخ جسے میں مورکھ کہتا ہوں‘ انہیں نبی سے دو چار انچ ہئ نیچے رہنے دے گا۔ لہذا آتے وقت سے کیا ڈرنا۔
 
رعایا اور حکومت ریاست کے دو اہم رکن ہیں۔ رعایا حکومت کو ٹیکس دیتی ہے اگر نہیں ادا کرتی تو حکومت کو خوب خوب وصولنا آتا ہے۔ ٹیکس کے عوضانے میں حکومت رعایا کو سہولتیں جن میں تعلیم اورعلاج معالجے کی سہولتیں شامل ہیں‘ فراہم کرتی ہے یہی نہیں انہیں تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔ ہمارے ہاں ٹیکس وصولنا یاد رہتا ہے لیکن سہولتیں فراہم کرنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔ میں ہر ابے یا شوہر کی پیروی میں مسیتے جا کر قسم کھانے کو تیار ہوں کہ گھر والوں سے ٹیڈی پیسہ ٹیکس وصول نہیں کرتا۔ اپنی مزدوری سے روٹی کپڑا مکان تعلیم علاج معالجہ وغیرہ دستیاب کرتا ہوں اس کے باوجود ڈھیٹ ایسے ثقیل کلمات سنتا ہوں۔ سن کر ہاتھ نہیں کھنچتا۔ میں یہ سب کرنا اپنا فرض جانتا ہوں۔
 
کل مجھے ایک پراءویٹ میسج موصول ہوا جس میں کراچی کی حالت زار کا تذکرہ تھا۔ پراءویٹ میسج پڑھ کر میرے ہاتھ پاؤں سے جان نکل گئ۔ پراءویٹ میسج میں ایک موثر اور منظم پارٹی کا ذکر تھا۔ لکھا تھا کہ ہر طبقہ کی عورت آبرو سے محروم ہو رہی ہے اور کوئ پوچھنے یا سننے والا موجود نہیں۔ ریاست کے اختیارات بے انتہا ہوتے ہیں۔ ریاست اپنے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کچھ بھی کر گزرتی ہے۔ ادارے اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اگر ادارے کچھ بھی نہیں کرتے تو ان کے ہونے کا کوئ جواز نہیں بنتا۔ جب جنگل کا قانون چلنا ہے تو انھیں چلتا کرنا چاہیے اور ان پر اٹھنے والی خطیر رقم ہاؤسز اور اس کے مکینوں کی بہتری کے لیے خرچ ہونی چاہیے۔ ایک خیال یہ ہے کہ ادارے اپنے اور ہاؤسز کے لیے کماتے ہیں لہذا انہیں ختم کرنا ہاؤسز اور اس کے مکینوں کے پیٹ پر لات مارنے کے مترادف ہے۔ اس مخصوص گروہ یا ارٹی کو نکیل ڈالنا ہاوسز سے مرحومی کے مترادف ہے۔ گویا ان عنصر کو کھلی چھٹی دینا سیاسی مجبوری ہے۔ مجبوری کچھ بھی کروا سکتی ہے۔ جن عورتوں کی عزت برباد ہوتی ہے کون سی ان کی اپنی ماءیں بہنیں ہوتی ہیں۔ دوسرا عورت کے ساتھ شادی کے بعد بھی یہی کچھ ہوتا ہے بلاشادی ہو رہا ہے تو کون سی قیامت ثوٹ رہی ہے۔ بس تھوڑا سا بے غیرت ہونے کی ضرورت ہے۔ بے غیرتی بھی کیسی۔ یہ ترقی پسندی کی علامت ہے۔ بہت سے علاقے موجود ہیں جہاں باپ کا تصور ہی نہیں۔ ان کے ہاں کوئ رولا نہیں تو ہمارے ہاں قدامت پسندی سے کام لیا جا رہا۔ ہمیں ہاؤسز کی سیاسی مجبوری دیکھتے ہوءے بے غیرت ہو جانا چاہیے۔عوام کا رولا اور بے بس سسکیاں قطعی ناجاءز اور باؤسز کے خلاف کھلی سازش ہے۔
گھر کی کرسی میرے پاس ہے رولے رپے کے حوالہ سے خاموشی اختیار کرنا میری مالی مجبوری ہے۔ غنڈہ عناصر کے حوالہ سے خاموشی اختیار کرنا ہاؤسز کی سیاسی مجبوری ہے۔ اس کا اس سے بہتر اور کوئ حل نہیں کہ بیغم بولتی رہے اور میں کام سے کام رکھوں۔ اس کے بولنے سے اس کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔ بےعزتی کرکےاس کی انا کو تسکین ملتی ہے اور وہ خود کو ونر سمجھتی ہے جبکہ میں اپنا پرنالہ آنے والی جگہ پر رکھتا ہوں۔ رولا ڈالنے اور برداشت کرنے سے بدامنی پیدا نہیں ہوتی بلکہ توازن کا رستہ ہموار ہوتا ہے۔

مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان

مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان 
دو میاں پیوی کسی بات پر بحث پڑے۔ میاں نےغصے میں آ کر اپنی زوجہ محترمہ کو ماں بہن کہہ دیا۔ مسلہ مولوی صاحب کی کورٹ میں آگیا۔ انہوں نے بکرے کی دیگ اور دو سو نان ڈال دیے۔ نئ شادی پر اٹھنے والے خرچے سے یہ کہیں کم تھا۔ میاں نے مولوی صاحب کے ڈالے گیے اصولی خرچے میں عافیت سمجھی۔ رات کو میاں بیوی چولہے کے قریب بیٹھے ہوءے تھے۔ بیوی نے اپنی فراست جتاتے ہوءے کہا
"اگر تم ماں بہن نہ کہتے تو یہ خرچہ نہ پڑتا۔"
بات میں سچائ اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود تھی۔ میاں نےدوبارہ بھڑک کر کہا
"
توں پیو نوں کیوں چھیڑیا سی"
بظاہر اس میں ایسی کوئ بات نہیں جس پر بھڑکا جاءے بلکہ اس میں میاں کی ہی حماقت نظر آتی ہے۔ اصل معاملہ یہ نہیں جو بظاہر دکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زوجہ محترمہ غلطی میاں کی ثابت
کرنا چاہتی تھی۔ گویا اس کی غلطی کے سبب خرچہ پڑا۔ اسے یہ یاد نہ رہا کہ اس نے کوئ ایسی چبویں بات کی ہو گی جس کے ردعمل میں میاں نے ماں بہن کہا ہو گا۔ اگر وہ یہ کہتی حضرت سوری میں نے اشتعال میں آ کر فلاں بات کہہ دی جس کے سبب ہمیں دیگ اور نانوں کا خرچہ پڑ گیا۔ بات ختم ہو جاتی۔ وہ دراصل میاں کو سزا دینا چاہتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ دیگ اور نان کا خرچہ برداشت کر لے گا کیونکہ یہ نئ شادی پر اٹھنے والے خرچے کا عشر عشیر بھی نہیں۔
ایچ ای سی پاکستان مندے حال میں ہے۔ اس کی کوئ سننے والا نہیں کیونکہ سننے والوں کو اس نے بری طرح ڈسٹرب کیا اب اوپر سے خود کو سچا اور برحق سمجھ رہی ہے۔ مجھے اس کے دو ای میل ملے ہیں وہ ہسمجھ رہی ہے کہ میں اس کے حق میں کچھ لکھوں گا۔ میں پاگل ہوں جو اس کے حق میں قلم اٹھاؤں گا۔ کسی جھوٹے کے لیے قلم اٹھانا جھوٹے کے جھوٹ کی تاءید کرنے کے مترادف ہے۔ ادارے تاج وتخت کے غلام ہوتے ہیں اور انہیں تاج وتخت کے غلط معاملات کو تحفظ اور انہیں درست ثابت کرنے کے لیے قیام میں میں لایا گیا ہوتا ہے۔ وہ پروفیسر ہیں اور خود کو سچائ کا ٹھیکیدارسمجھتے ہیں حالانکہ سچائ ان کی گندی سوچ کے برعکس ہے۔ انہیں تنخواہ اس بات کی ملثی ہے کہ وہ تاج والوں کے اشاروں پر رقص کریں۔ انہوں نے حاکم طپقے کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیا۔ حاکم طبقہ کبھی جعلی نہیں ہوتا۔ اگر تگڑے غلط قرار پانے لگے تو انہیں تگڑا کون مانے گا۔ ازل سے غلط عضو کمزور رہا ہے۔ انہیں کس حکیم نے اتنے ووٹ حاصل کرنے والے لوگوں کی ڈگریاں غلط قرار دینے کو کہا تھا۔ انہیں سیٹوں پر رعایا کی وقت پڑنے پر مرمت کرنے کے لیے عہدے دیے جاتے ہیں۔ ڈگری تو بہرصورت ڈگری ہوتی ہے اس میں غلط یا صیح ہونے کا سوال کہاں اٹھتا ہے۔
ویسے خود کو تابع فرفان لکھتے ہیں لیکن عملی طور پر خود کو بالاتر سے بھی بالاتر سمجھتے ہیں۔ پانی اوپر سے نیچے آتا ہے‘ نیچے سے اوپر نہیں جاتا۔ جن کی انہوں نے ڈگریاں جعلی قرار دی ہیں جیل نہیں چلے گیے۔ موج میں تھے موج میں ہیں۔ اقبال نے کہا تھا
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں
اصولی سی بات ہے مچھلی دریا میں زندہ رہ سکتی ہے لہذا وہ دریا سے باہر کیوں آءیں گءے۔ دریا ان کا اپنا ہے۔ اپنوں سے کبھی کوئ جدا ہوا ہے؟
ان کے نکالنے کی کوشش سے وہ کیوں نکلیں گے۔ دریا قطرے قطرے سے بنتا ہے۔ ان کے لیے چند قطرے معنویت نہ رکھتے ہوں لیکن دریا کے لیے بڑی معنویت رکھتے ہیں۔
 
تیر کمان سے نکل چکا ہےاب کچھ نہیں ہو سکتا ہاں البتہ ایچ ای سی‘ پاکستان دوسرے اداروں کے لیے نشان عبرت ضرور ہے۔ جو بھی چنیدہ اور دریا کے اندر موجود دریا کی ذاتی مخلوق کے خلاف قدم اٹھاتا ہے گلیوں کا روڑا کوڑا بھی نہیں رہ پاتا۔ ہٹ دھرمی اور ڈھیٹ پنا تو یہ ہے کہ یہ سچ پتر غلطی کو غلطی تسلم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حسین ایک ہی تھا۔ آج کسی کو ریاست کے گناہ گاروں کے لیے اپنے بچے مروانے کی کیا ضرورت پڑی ہے۔ ان کی مدد کے لیے کوئ میدان میں نہیں آءے گا۔ باور رہنا چاہیے سر کا بوجھ سر والے کے پاؤں پر آتا ہے۔

Friday, December 21, 2012

Proud to b a Pakistani


پاکستانی طالبہ سنبل سید او-لیول کے انگریزی لٹریچر کے امتحان میں اعلیٰ ترین اعزاز سے کامیابی حاصل کرکے دنیا بھر میں سرفہرست رہیں۔

پاکستان کو ایک اور اعزاز تب ملا جب تیزاب سے متاثرہ خواتین پر بنائی گئی ’سیونگ فیس‘ نامی ڈاکیومینٹری فلم پر شرمین عبید چنائے کو ’آسکر ایوارڈ‘ دیا گیا۔

ایک اور پاکستانی نوجوان موسیٰ فیروز نے ریاضی کے عالمی آن لائن امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے پاکستان کو اعزاز سے نوازا اور آسٹریلوی حکومت کی جانب سے اُنھیں اسناد سے نوازا گیا۔

آرٹ اور ملٹی میڈیا مقابلوٕں کی بات کی جائے تو اس میں پاکستانی پیش پیش رہے ہیں، جب کہ اپیس فاوٴنڈیشن اسٹوڈنٹ آرٹ کے مقابلوں میں حصہ لینے والے طالب علموں نے کامیابی حاصل کی۔

پاکستان کے ہونہار طالب علم سکندر محمود نے ’مائیکروسافٹ‘ اور ’گوگل‘ کے سات نئے کمپیوٹر آپریٹرنگ سسٹم بناکر عالمی سطح پر پاکستان کو اعزاز سے نوازا۔

میٹرک کے طالب علم، شاداب رسول نے بین الاقوامی سطح پر ہونےوالے ماحولیاتی مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔

اسلامی ممالک کی سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن نے رواں برس سائنس اور ٹیکنالوجی کا انعام پاکستانی پروفیسر تصور حیات کو دیا۔

اسپورٹس کے مقابلوں میں بھی پاکستان نے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ دیگر کھیلوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کا قومی کھیل ’ہاکی‘ بھی اس سال نمایاں رہا۔ پاکستان نے چیمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں آٹھ سال بعد کانسی کا تمغہ حاصل کیا اور ٹیم کی کارکردگی پورے ٹورنامنٹ میں قابل قدر رہی۔

سنوکر کے عالمی مقابلے میں 18 سال بعد پاکستان عالمی چیمپیئن بنا۔ محمد آصف نے سنوکر مقابلے کے آخری معرکے میں برطانوی کھلاڑی گیری ولسن کو شکست دے کر یہ عالمی اعزاز پاکستان کے نلیے حاصل کیا۔

دوسری جانب، ایشیائی ممالک کے مابین ہونےوالے کبڈی کے مقابلوں میں پاکستان نے اپنے روایتی حریف ہندوستان کو شکست دی اور ایشیائی سطح پر کبڈی کی یہ چیمپئن شپ جیت لی۔

پنجاب یوتھ فیسٹیول 2012 ءمیں 42810 نوجوانوں نے قومی پرچم کی شکل میں ایک ساتھ کھڑے ہوکر قومی ترانہ پڑھنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا، اور یوتھ فیسٹیول میں منعقدہ کھیلوں کے مقابلوں میں آٹھ عالمی ریکارڈ بنائے، جسے عالمی سطح پر خوب پذیرائی حاصل ہوئی اور پاکستانی طلبا کو اعزازت اور میڈلز سے نوازا گیا۔

Wednesday, December 19, 2012

بد نیتی اور ناثکر گزاری

ملالہ یوسف زئی ۔۔۔سوشل میڈیا کی نظر میں








ملالہ یوسف زئی کو قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں قوم کی بہادر بیٹی کے
 طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔اسکولوں ، کالجوں اور گھروں میں اس کی جلد صحت یابی کے لیے دُعائیں مانگی جا رہی ہیں۔سوشل میڈیا بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے نہیں ۔بہت سوں نے ملالہ کو خراج ِ تحسین پیش کرنے کے لیے فیس بک پر اپنی پروفائل پکچر کی جگہ ملالہ کی تصویر ڈسپلے کر رکھی ہے۔شاعروں نے نظمیں لکھی ہیں۔ادبیوں نے مذمتی قراردادیں اپنے اسٹیٹس پر آویزاں کر رکھی ہیں۔بہت سوں کا خیال ہے کہ ملالہ کو باقاعدہ ”قوم کی بیٹی“ کے خطاب سے نوازا جائے۔اسے امن کا نوبل انعام دیے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ملالہ پر حملے کو ایک الگ زاویے سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ملالہ کی ”گل مکئی ڈائری “ کا معمہ حل ہو گیا ۔یہ ڈائری ایک غیرملکی ادارے کا مقامی نامہ نگار لکھتا رہا ہے ۔چوتھی جماعت میں پڑھنے والی ایک بچی اوباما کے بارے میں کتنا جان سکتی ہے کہ اسے اپنا آئیڈیل قرار دے۔ایک کالم نویس نے ”گل لالہ بمقابلہ ملالہ“ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ”ملالہ یوسف زئی پر حملے پر تلملانے اور آنسو بہانے والے ڈرامے بازو، کیا تمہیں وزیرستان میں ڈرون اور جیٹ حملوں میں شہید ہونے والی معصوم بچیاں دکھائی نہیں دیتیں۔ایک صاحب نے ملالہ کی ڈائری سے یہ جملہ بھی نقل کیا ہے ” برقعہ پتھر کے دور کی نشانی ہے “ واللہ علم باالصواب۔ جتنے منہ ، اتنی باتیں۔کوئی کہتا ہے کہ اگر ملالہ پر یہی حملہ کراچی میں ہوا ہوتا تو کیا اسے اتنی زیادہ کوریج ملتی ؟عافیہ صدیقی بھی تو قوم کی بیٹی ہے ۔ اس پر ہونے والے امریکی مظالم پر خاموشی کیوں ؟ ڈرون حملوں اور لال مسجد میں شہید ہونے والی معصوم بچیوں کا ماتم کون کرے گا؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ملالہ یوسف زئی پر حملے کی آڑ میں کوئی اور کھیل کھیلا جا رہا ہو ؟

پولیو قطرے: دوا یا کچھ اور ؟

پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے کے بعد بھی پولیو کے کیس سامنے آتے ہیں۔


اور یہ بات انتہائی پریشانی کی ہے کہ بعض وکلاء اور ڈاکٹروں نے باقاعدہ
پولیو کے قطروں کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی ۔ لیکن پھر انکو خاموش کرادیا گیا۔


ذیل کے کالم انصاری محمد صاحب نے پولیو کے قطروں کے بارے میں وضاحت کی گئی ۔ لھذا پڑھیئے اور سر دھنئے۔


(بشکریہ انصاری محمد صاحب اور)


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


اسلام و مسلم دشمن عناصر کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کی جڑیں کاٹ کر صفحہٴ ہستی سے ہمیشہ کے لئے انہیں مٹا دیا جائے۔


مسلمانوں کو مجبور ومقہور بناکر ان پر حکومت کرنے کے لئے ان کو مختلف محاذوں پر کمزور کردیا جائے، مثلاً ایمان واسلام، معیشت واقتصادیات، فوجی قوت، افرادی قوت اور اخلاقی قوت وغیرہ ۔ ایمان واسلام کا جنازہ تو پہلے ہی سے مسلمانوں کے دلوں سے نکال دیا گیا ہے۔ رنگ ڈھنگ، چال ڈھال، شکل وشباہت غرض یہ کہ قول وفعل کے اعتبار سے اغیار کی تقلید کرتے نہیں تھکتے۔ بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں۔


اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی اقتصادیات کو تباہ وبرباد کردیا گیا۔ سارے مسلمان غیر مسلموں کے مقروض اور مجبور ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی فوجی قوت کو کمزور کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے۔


کسی مسلمان ملک کو اجازت نہیں کہ وہ اپنے دفاع کے لئے جدید اسلحہ کی صورت میں حاصل کریں،


جبکہ ارشاد خداوندی ہے،


”واعدوا لہم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخیل ترہبون بہ عدو اللہ وعدوکم وآخرین من دونہم لاتعلمونہم اللہ یعلمہم“ (سورۃ الانفال: ۶۰)۔


یعنی ”اور مسلمانوں! سپاہیانہ قوت سے اور گھوڑوں کے باندھے رکھنے سے جہاں تک تم سے ہو سکے کافروں کے مقابلے کے لئے ساز وسامان مہیا کئے رہو کہ ایسا کرنے سے اللہ کے دشمنوں پر اپنی دھاک بٹھائے رکھو گے اور نیز ان کے سوا دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے اور ان کے حال سے اللہ تعالیٰ خوب واقف ہے“۔


مسلمانوں کی اخلاقی قوت کو تباہ وبرباد کردیا گیا ہے، مرد وزن کا اختلاط عام سی بات ہے،


قرآن کریم کے حکم


”وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ“ (الحزاب: ۳۳)


کو حقوق نسواں پر نعوذ باللہ! ڈاکہ اور عورت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کے مترادف سمجھ رہے ہیں اور حضورﷺ کا ارشاد، ”بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“ (موطا امام مالک)۔


یعنی ”میں بہترین اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں“ کو بھول گئے ہیں اور سیاحت وروشن خیالی کے نام پر عورتوں کا غیر مردوں کی جھولی میں گرنا اور ان سے بغل گیر ہونے کو روشن خیالی سمجھتے اور اس پر فخر کرتے ہیں، بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی نظر میں ایسے افراد حضور ﷺکے اس قول، ”من تشبہ بقوم فہو منہم“ یعنی ”جس نے کسی قوم سے مشابہت اپنائی وہ انہیں میں سے ہیں“ کا مصداق ہیں۔


اب اغیار کا اگلا ہدف مسلمانوں کی افرادی قوت کا خاتمہ ہے۔ جس کے لئے مختلف قسم کے حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔جن میں سے ایک مرحلہ وار اور آہستگی کے ساتھ ویکسین کے ذریعے مسلمانوں کی آئندہ نسل کا خاتمہ ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ مسلمان وہ واحد قوم ہے جو تعداد میں سب سے زیادہ ہے،


اب ان لوگوں کی یہ کوشش ہے کہ مسلمانوں کی افرادی قوت کو کم کیا جائے۔ اسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے پہلے ایک مرض پولیؤ کا خوب ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اور پھر اس کی ویکسین تیار کرکے سپلائی کی جاتی ہے، اور ہم ان کی تقلید میں ہی اپنی فلاح وبہبود ڈھونڈتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اغیار نہ کبھی ہمارا خیرخواہ رہا اور نہ اب ہے۔


قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے، ”یا ایہا الذین آمنوا لاتتخذوا الیہود والنصاریٰ اولیاء بعضہم اولیاء بعض ومن یتولہم منکم فانہ منہم“ (سورۃ المائدۃ: ۵۱)۔ یعنی ”اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنے دوست مت بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کی طرف پھرا وہ انہی میں سے ہے“۔


پولیو ویکسین کیا چیز ہے؟


اس کے کیا نقصانات ہیں؟


اور سائنس اس حوالے سے کیا کہتی ہے؟


اللہ تعالیٰ بچے کو نر و مادہ کے باہم جنسی ملاپ سے پیدا فرماتاہے۔ نر میں اعضائے تولیدی کو ”ٹیسٹیز“ اور مادہ کے اعضائے تولیدی کو ”اووری“ کہتے ہیں۔ یہ اعضاء نہ صرف تولیدی ہیں بلکہ یہ ”غدود“ کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں۔


غدود انسانی جسم کا ایسا جز ہے جس کے ذمہ جسم کے مختلف افعال کو باقاعدہ بناکر انہیں کنٹرول کرنا ہے۔ جیسا کہ ”پٹیوٹری“ غدود انسان کے قد کا ذمہ دار ہے، اگر یہ ٹھیک وقت پر برابر مقدار میں ہا رمونز خارج کرے تو انسان کا قد نارمل ہوگا ورنہ یا تو بہت زیادہ بڑھے گا یا پھر پست رہ جائے گا ۔


اسی طرح مادہ میں ”اووری“ بھی ایک خاص قسم کا ہارمونز ”اسٹروجن“ خارج کرتی ہے۔ اس ہارمونز کے ذمہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام لگا رکھا ہے کہ بچیوں میں عورت ذات والی تمام خصلتیں اور خصوصیات بھردے، اس کے ساتھ اسے نسوانی حسن بخش دے گی۔ اسی طرح نر میں” ٹیسٹیز“ جو ہارمونز خارج کرتا ہے اسے ”انڈروجن“ کہتے ہیں اور یہ انسانی بچے مردانہ پن پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اگر یہ دونوں غدود صحت مند ہوں گے اور اپنا کام صحیح طور پر سرانجام دیں تو نر (بچہ) میں مردانہ خصوصیات اور مادہ (بچی) میں نسوانی خصوصیات ہوں گی لیکن اگر یہ غدود اپنا کام صحیح طور پر سرانجام نہ دیں اور”اسٹروجن“ اور”انڈروجن“ صحیح مقدار میں پیدا نہ کرسکیں تو پھر پیدا ہونے والے بچے میں بے قاعدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔


یہ ویکسین جب شروع سے پلائی جاتی ہے تو آہستہ آہستہ بچے جب جوان ہوتے ہیں تو اس وقت تک یہ اپنا کام کرچکی ہوتی ہے اب بچہ جوان ہوکر مستقل بانجھ پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ویکسین میں کون سی چیز ملائی جاتی ہے یہ تو ابھی تک زیر تحقیق ہے۔


ڈاکٹر ہاروناکائیٹا جو کہ احمد دبلو یونیورسٹی زاریا میں فارماسوٹیکل سائنسز ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ ہیں، وہ نائیجریا سے ویکسین کے کچھ نمونے تحقیق کے لئے انڈیا لے گئے تاکہ ان میں موجود اجزاء کی جانچ پڑتال ہوسکے، جب ڈاکٹر کائٹانے ان ویکسین کو مختلف ٹیسٹ اور جانچ پڑتال کے مراحل سے گزارا تو اس میں کچھ ایسے مواد کی ملاوٹ کے شواہد ملے جو کہ صحت کے لئے خطرناک ہیں۔


ڈاکٹر کائٹا نے ہفت روزہ ”کیڈونا ٹرسٹ“ کو ایک انٹرویو میں بتایا،


”ہم نے پولیو کے اس ویکسین میں کچھ ایسی اشیاء دریافت کی ہیں جو صحت کے لئے نقصان دہ اور زہریلی ہیں اور خاص طور پر کچھ ایسی ہیں جو براہ راست انسان کے جنسی نظام تولید پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے خود ہمارے بیچ ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی خباثت اور بدتمیزی کی پشت پناہی کررہے ہیں اور برابر ان کی مدد کررہے ہیں اور مجھے یہ کہہ کر افسوس ہو رہا ہے کہ ان میں کچھ ہمارے اپنے ماہرین بھی شامل ہیں“


ڈاکٹر کائٹا نے یہ مطالبہ کیا کہ جو لوگ پولیو ویکسین کے نام پر یہ جعلی دوائی در آمد کررہے ہیں، ان کے خلاف دوسرے مجرموں کی طرح مقدمہ چلانا چاہئے اور سزا دینی چاہئے“۔


۱۹۹۵ء میں فلپائن کی آزاد خواتین کی ایک لیگ نے تشنج کے ٹیکوں کے خلاف کورٹ میں مقدمہ جیت لیا تھا اور یونیسف کی اس مہم کو روک لیا تھا۔ اس ویکسین میں ایسی دوائی (Beta-Human Chorionic Gonadotropinیا β-hCG) استعمال کی گئی تھی۔ جس کے استعمال کرنے سے عورت کا حمل مکمل طور پر نہیں ٹھہر سکتا تھا ۔ فلپائن کی سپریم کورٹ نے یہ معلوم کیا کہ تین ملین خواتین کو جن کی عمر ۱۲ سے ۴۵ سال تک تھی پہلے ہی سے یہ ویکسین دی جاچکی تھی۔


عالمی ادارہ صحت کی طرف سے (۲۰جون ۲۰۰۵ء)جاری کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں پولیو کے قطرے پلانے کے باوجود ۵۰۰ سے زائد پولیو کے کیس سامنے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ یمن اور انڈونیشیا جنہیں ۱۹۹۶ء میں پولیو ویکسین کی مہم چلانے کے بعد اس بیماری سے آزاد خطہ قرار دے دیا گیا تھا۔ وہاں پھر سے یہ وبا پھوٹ پڑی ہے۔ یمن میں ۲۴۳ اور انڈونیشیا میں ۵۳ نئے کیس سامنے آئے ہیں۔


بہت سے محققین نے اس ویکسین کو دراصل دنیا کی آبادی کنٹرول کرنے کا خفیہ مگر انتہائی مؤثر ہتھیار ثابت کیا ہے اور اس حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی فراہم کئے ہیں۔ ایک خفیہ امریکی دستاویز “NSSMZOO” جو ۱۹۷۴ء میں شائع ہوئی اور ۱۹۸۹ء میں ڈی کلاسیفائی ہوئی۔ اس دستاویز پر اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے دستخط ہیں۔ اس دستاویز میں شناخت کئے گئے ممالک میں سے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نائیجریا، انڈونیشیا، برازیل، فلپائن، میکسیکو، تھائی لینڈ، ترکی، ایتھوپیا اور کولمبیا ہیں۔ پاپولیشن کنٹرول اس دستاویز کا مرکزی اور یک نکاتی ایجنڈا ہے۔


۲۹جون ۱۹۸۷ء کو ایک امریکی اخبار نے نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر روبرٹ سے بات کی، جن کا کہنا تھا کہ خسرہ کی ویکسین نقصان دہ وائرس سے آلودہ ہیں۔ ۳۰ برس تک نامی گرامی ڈاکٹر چلاتے رہے کہ ہم ”ویکسین“ نامی ٹائم بم سے کھیل رہے ہیں، خسرہ کے ویکسین سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ کینسر کا باعث ہے۔


لندن کے موقر ترین روز نامے دی ٹائمز نے ۱۱مئی ۱۹۸۷ء کو فرنٹ پیج پر اس حوالے سے یہ سرخی لگائی تھی کہ ”خسرہ کے لئے لگائے گئے ٹیکے ایڈز وائرس پھیلا رہے ہیں“۔


عالمی ادارہ صحت کے ایک کنسلٹنٹ نے اپنے ادارہ کو رپورٹ دی کہ زیمبیا، زائرے اور برازیل میں خسرہ ویکسین اور ایڈز وائرس کے پھیلاؤ کے درمیان تعلق کا شبہ تھا۔ تحقیق پر یہ شک وشبہات صحیح نکلے۔ عالمی ادارہ صحت نے رپورٹ ملنے کے باوجود اسے شائع نہیں کیا۔ برازیل واحد جنوبی امریکی ملک تھا جس نے خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین مہم میں حصہ لیا اور پھر یہی ملک ایڈز کا سب سے بڑا شکار بنا۔ پولیو، خسرہ اور ہیپٹائٹس کی ویکسین میں وائرس کی موجودگی کے ثبوت سامنے آچکے ہیں ۔ان میں منگی وائرس جیسا خطرناک وائرس بھی شامل ہے ۔


عالمی ادارہ صحت پر خسرہ ویکسین کے ذریعے ایڈز پھیلانے کے الزامات بھی لگ چکے ہیں۔ ان ٹیکوں کی وجہ سے بانجھ پن ہونا بھی ثابت ہوچکا ہے۔ ویکسین دو ماہ کے بچوں کے لئے قطعاً محفوظ نہیں۔ مگر یہ ویکسین کا شیڈول نومولود کے ابتدائی دنوں سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ نومولود کے وزن، قد اور جسامت جیسے معاملات بالکل نظر انداز کردیئے جاتے ہیں۔ یہ سائنسی حقیقت ہے کہ ایک ہی دوائی یا ٹیکہ کسی ایک انسان کے لئے تو قطعی محفوظ ہو سکتے ہیں، مگر دوسرے کے لئے موت کا باعث بھی۔


ویکسین کو بچوں میں ذہنی عوارض کا سبب بھی قرار دیا جاتا ہے۔ پولیو کے قطرے جب پلوانے شروع ہوئے جن بچوں نے یہ استعمال کئے ہیں، یقیناً آج وہ جوان ہوں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہوں گے اور آج کل نوجوانوں کی اکثریت جن امراض میں مبتلا نظر آتی ہے وہ مردانہ امراض ہی ہیں۔ اس ضمن میں مزید جو حقائق دیئے گئے ہیں وہ بہت خوفناک ہیں۔


ہندوستان کے ایک جریدے ”المرشد“ میں پولیو کے قطروں سے متعلق ایک مدلل مضمون شائع ہوا۔ اس مضمون کو پاکستان کی ”اشرف لیبارٹریز“، فیصل آباد کے ترجمان ماہنامہ ”رہنمائے صحت“ کی اشاعت میں شامل کیا گیا۔ جس میں سات سے زائد ایسے کیس ذکر کئے گئے ہیں جن میں بچوں کو پولیو کے قطروں کا کورس مکمل کروایا گیا تھا۔ انہیں اس روک تھام کے باوجود پولیو ہوگیا۔

MQM behind unrest in Karachi: JI leader




LAHORE: Jamaat-e-Islami’s Karachi Ameer Muhammad Hussain Mehnti has alleged that the Muttahida Qaumi Movement (MQM) is a terrorist party that has made the city of Karachi hostage to disturb the peace of the whole country.


He said this while addressing the representatives of the Lahore Bar Association (LBA) at LDA Plaza on Tuesday. He said the MQM had made the Karachi city hostage to fulfil its vested interests.


He said the Muttahida Qaumi Movement had got recruited its party workers in all departments to control everything in the city.The JI leader said that government and agencies were supporting the MQM as police officials and poor masses were murdered in Karachi but no one was ready to put culprits on trial.


He said no one was secure in Karachi but the political leaders were running here and there to secure their slots. He said lawyers have had laid down their lives to save democracy and they should come forward to play their role to save the country.


LBA President Ch Zulfiqar Ali asked the foreign ministry to produce the MQM chief Altaf Hussain before the Supreme Court in light of the show-cause notice issued by the apex court. He also demanded to ban the MQM from taking part in politics.


LINK

Thumbs down CARD Chori se LEI kar PAISEY CHORI TAKK

Monday, December 17, 2012

YA JOOOJ --- MA JOOOOJ

Description: cid:image001.png@01CDD962.0C0C7DA0

Reactive and Response Modes

In life, we have essentially two psychological modes that we are in most of the time: reactive and responsive. The reactive mode is the one that feels stressful. In it, we feel pressured and are quick to judge. We lose perspective and take things personally. We're annoyed, bothered, and frustrated.

Needless to say, our judgment and decision making capacity is severely impaired when we are in a reactive state of mind. We make quick decisions that we often regret. We annoy other people and tend to bring out the worst in them. When an opportunity knocks, we are usually too overwhelmed or frustrated to see it. If we do see it, we're usually overly critical and negative.

source: unknwon

The responsive mode, on the other hand, is our most relaxed state of mind. Being responsive suggests that we have our bearings. We see the bigger picture and take things less personally. Rather than being rigid and stubborn, we are flexible and calm. In the responsive mode, we are at our best. We bring out the best in others and solve problems gracefully. When an opportunity comes our way, our mind is open. We are receptive to new ideas.

Once you are aware of these two drastically different modes of being. You will begin to notice which one you are in. You'll also notice the predictability of your behavior and feelings when you are in each mode. You'll observe yourself being irrational and negative in your reactive mode and calm and wise in your responsive state of mind

The 5 Qualities of Remarkable Bosses

Consistently do these five things and the results you want from your employees--and your business--will follow.
Getty
 
Remarkable bosses aren’t great on paper. Great bosses are remarkable based on their actions.

Results are everything—but not the results you might think.
Consistently do these five things and everything else follows. You and your business benefit greatly.

More importantly, so do your employees.

1. Develop every employee. Sure, you can put your primary focus on reaching targets, achieving results, and accomplishing concrete goals—but do that and you put your leadership cart before your achievement horse.
Without great employees, no amount of focus on goals and targets will ever pay off. Employees can only achieve what they are capable of achieving, so it’s your job to help all your employees be more capable so they—and your business—can achieve more.
It's your job to provide the training, mentoring, and opportunities your employees need and deserve. When you do, you transform the relatively boring process of reviewing results and tracking performance into something a lot more meaningful for your employees: Progress, improvement, and personal achievement.
So don’t worry about reaching performance goals. Spend the bulk of your time developing the skills of your employees and achieving goals will be a natural outcome.
Plus it’s a lot more fun.

2. Deal with problems immediately. Nothing kills team morale more quickly than problems that don't get addressed. Interpersonal squabbles, performance issues, feuds between departments... all negatively impact employee motivation and enthusiasm.
And they're distracting, because small problems never go away. Small problems always fester and grow into bigger problems. Plus, when you ignore a problem your employees immediately lose respect for you, and without respect, you can't lead.
Never hope a problem will magically go away, or that someone else will deal with it. Deal with every issue head-on, no matter how small.

3. Rescue your worst employee. Almost every business has at least one employee who has fallen out of grace: Publicly failed to complete a task, lost his cool in a meeting, or just can’t seem to keep up. Over time that employee comes to be seen by his peers—and by you—as a weak link.

While that employee may desperately want to “rehabilitate” himself, it's almost impossible. The weight of team disapproval is too heavy for one person to move.
But it’s not too heavy for you.

Before you remove your weak link from the chain, put your full effort into trying to rescue that person instead. Say, "John, I know you've been struggling but I also know you're trying. Let's find ways together that can get you where you need to be." Express confidence. Be reassuring. Most of all, tell him you'll be there every step of the way.
Don't relax your standards. Just step up the mentoring and coaching you provide.
If that seems like too much work for too little potential outcome, think of it this way. Your remarkable employees don’t need a lot of your time; they’re remarkable because they already have these qualities. If you’re lucky, you can get a few percentage points of extra performance from them. But a struggling employee has tons of upside; rescue him and you make a tremendous difference.
Granted, sometimes it won't work out. When it doesn't, don't worry about it.  The effort is its own reward.

And occasionally an employee will succeed—and you will have made a tremendous difference in a person's professional and personal life.
Can’t beat that.

4. Serve others, not yourself. You can get away with being selfish or self-serving once or twice... but that's it.
Never say or do anything that in any way puts you in the spotlight, however briefly. Never congratulate employees and digress for a few moments to discuss what you did.
If it should go without saying, don't say it. Your glory should always be reflected, never direct.
When employees excel, you and your business excel. When your team succeeds, you and your business succeed. When you rescue a struggling employee and they become remarkable, remember they should be congratulated, not you.
You were just doing your job the way a remarkable boss should.
When you consistently act as if you are less important than your employees—and when you never ask employees to do something you don’t do—everyone knows how important you really are.

5. Always remember where you came from. See an autograph seeker blown off by a famous athlete and you might think, “If I was in a similar position I would never do that.”
Oops. Actually, you do. To some of your employees, especially new employees, you are at least slightly famous. You’re in charge. You’re the boss.
That's why an employee who wants to talk about something that seems inconsequential may just want to spend a few moments with you.
When that happens, you have a choice. You can blow the employee off... or you can see the moment for its true importance: A chance to inspire, reassure, motivate, and even give someone hope for greater things in their life. The higher you rise the greater the impact you can make—and the greater your responsibility to make that impact.
In the eyes of his or her employees, a remarkable boss is a star.
Remember where you came from, and be gracious with your stardom.

Thursday, December 13, 2012

Relationship With Parents.

1. Never be disrespectful to parents. Do not say a harsh word to them.
2. Even if parents are unjust, it is not lawful for children to ill-treat, disobey or displease them.
3. Obey them in all lawful things. If they instruct you to do anything which is unlawful in the Shariah, then politely and with respect and apology decline. Never refuse rudely nor argue with them.
4. When parents abuse, scold or even beat their children, they should submit to such treatment with humility. Never should they utter a word af disrespect or complaint, nor should they display on their faces any indication of disgust or anger. Bear their treatment in silence and with patience. Make dua for them.
5. Assist them in all lawful ways even if they happen to be non-Muslims.
6. Whenever you see them, greet them.
7. If you are living with them, take their permission before
8. If you are engaged in Nafl Salaat and your parents call you, break your Salaat and answer their call even if there is no urgency or importance in their call. If you are performing Fardh Salaat and you detect urgency in theircall, then break even the Fardh Salaat to answertheir call.
9. Do not call them on their names. Address them with a title of respect and honour.
10. After their death, make Dua-e-Maghfirat for them. Pray for their forgiveness and within your means, practisevirtuous deeds with the intention of the thawaab thereof being bestowed on them by Allah Ta'ala.
11. Pay the debts of your parents.
12. If they had made any lawful wasiyyat (bequest), fulfil it if you are by the means to do so.
13. Be kind, respectful and helpful to the friends of your parents.
14. When entering the private room of parents, seek their permission before entering.
15. Always be cheerful in their presence.
16. Speak kindly and tenderly with them.
17. When speaking to parents, keep your gaze low. Do not stare them in the face.
18. Do not raise your voice above the voices of your parents.
19. Be humble in their presence.
20. When accompanying parents on a walk, do not walk in front of them nor on their right or left side. Walk slightly behind them.
21. Even in their absence speak highly and respectfully of them.
22. Do not give preference to the wife over them (this does not apply to the rights of the wife). Where parents instruct their son to violate or discard the obligatory rights of his wife, it will not be permissible to obey them in this case. – Transla tors).
23. Always endeavour to keep them happy.
24. Do not embark on a journey without their permission.
25. When they question you, do not inconvenience them by delaying your reply.
26. It is highly disrespectful to refrain from answering them.
27. If at any time you were disrespectful to your parents, regret your action and hasten to obtain their pardon

Wednesday, December 12, 2012

Crazy Things you can do with your iPhone

Well here are a few crazy things you could do with aniPhone.
1. Monitor your Heart Rate


The Heart Fitness app claims that it can effectively monitor your heart rate using only your iPhone. How in the world is that possible?
To accomplish this feat, the app takes advantage of both the camera and the bright LED on the back of your iPhone 4. First, you cover the light and the camera with your index finger. The light then illuminates your finger so that the camera reads that reddish color that results when you stick a flashlight up to your finger.
Here’s where the magic happens. As blood is pumped into your finger, the hue pulses. The camera reads this pulse and uses it to measure your heart rate! Pure voodoo right? Perhaps not. I tested the app on myself a few times and consistently came up with a measurement around 70BPM, which I confirmed by taking my own pulse manually. Then I got up and ran around for a while and used the app again, over 100BPM this time. As crazy as it sounds, it seems to work!
Now, many commenters note that they can get readings from every day items such as ketchup bottles, but this doesn’t prove anything. If you consider that the app reads pulses in color, pointing your camera at something red combined with camera-shake would produce a similar result. This proves that you can trick the app, but not that it doesn’t do what it claims
.

2. Scan Documents



You know that your iPhone has a camera on it, so it’s no surprise that it can take a photo of a document right? The problem with this though is that a handheld camera is a far cry from a flatbed scanner. Holding your phone perfectly level isn’t easy, even if you can pull it off, it’s still a hassle.
Enter
Genius Scan. With this app you can quickly snap a shot of any document without really thinking about how properly aligned it is on your screen.Genius Scan will automatically detect the edges of the document and allow you to quickly skew the perspective so that you get a perfect shot every time.You can save your documents as a PDF or JPG and even share them over Wifi for quick access from any computer.


3. Measure Almost Anything



You’ve seen measuring apps that simply place a ruler on your screen, which are great if you need to measure anything less than a few inches, but what if you want to measure an entire person or even a tree? For this feat you’ll need something more. Aim@ is a $0.99 application that pulls this seemingly impossible task off pretty well. By telling the app how tall you are and holding your phone at arm’s length, you can use your phone’s camera and a series of taps at strategic points to make approximate measurements.
I’ll warn you in advance, this app does work, but it’s a little quirky. If you’re not good at following directions, you’ll never get it to work. If you are reasonably patient, the app walks you through the specific processes for taking the height and width of an object, or even the distance from you to it. In my tests, when I didn’t screw up, I usually came within an inch or two of the actual size of the object
.

4. Take 3d Photos



This is another app that sounds like it’s more gimmick than reality, but it actually works! In fact, the technology really isn’t that amazing if you think about it. Your two eyes work together to help you perceive depth. By taking two photographs at slightly different positions, you can mimic this functionality. 3D Camera does exactly that. You take one photo, move over a few inches, snap another, then combine them to create a three-dimensional illusion.
3D Camera gives you three different options for viewing the resulting 3D image. The first is an anaglyph, which you can view with your typical cheap pair of red/cyan 3D glasses, a stereogram, which works just like the old
Magic Eye images (no glasses necessary), and a wigglegram, which simply changes from one image to the next quickly to simulate a 3D effect.

these apps are available on other platforms as well (Android or windows phones) but original article is only related with iphone .

Total Pageviews