پاکستان کی سیاسی فضا ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہے۔ رواں ہفتے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی طبی حالت اور اُن کی اسپتال منتقلی کا معاملہ سب سے بڑی سرخی بنا رہا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل اور پی ٹی آئی کی جانب سے ستمبر میں متوقع احتجاجی تحریک نے بھی سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ ذیل میں پاکستانی سیاست کے حالیہ اہم ترین معاملات کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کا حکم اور عمران خان کی اسپتال منتقلی
منگل کے روز سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس شاہد وحید کر رہے تھے، نے حکومت کو ہدایت دی کہ عمران خان کو دو دن کے اندر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے نجی اسپتال شفاء انٹرنیشنل منتقل کیا جائے تاکہ اُن کا مکمل طبی معائنہ ہو سکے۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ کوئی قیدی محض قید کی وجہ سے انسانی سلوک اور ضروری طبی سہولت کے حق سے محروم نہیں ہو جاتا۔ اس سماعت کے دوران عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کے علاوہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی عدالت میں موجود تھے۔ اسی روز نورین نیازی کو رواں سال پہلی بار عمران خان سے ملاقات کی اجازت بھی دی گئی۔
حکومت کی نظرثانی درخواست اور رات بھر جاری رہنے والی کشیدگی
حکومت نے عدالتی حکم کے اگلے ہی روز اسے "امتیازی" قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر دی، جسے رجسٹرار آفس نے کاغذات نامکمل ہونے کی بنا پر واپس کر دیا۔ اس کے بعد جمعرات کی شب اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ میں واقع شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے اردگرد غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے، جہاں تقریباً 800 اہلکار تعینات کیے گئے اور اردگرد کی سڑکیں سیل کر دی گئیں۔ پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں سے اسپتال سے دور رہنے کی اپیل کی تاکہ علاج کے عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق "سکیورٹی صورتحال" کے پیش نظر عمران خان کو نجی اسپتال کے بجائے سرکاری ادارے پمز لے جایا گیا، جہاں شفاء اسپتال کے معالجین بھی موجود تھے۔ ماہرِ امراضِ چشم، امراضِ قلب اور فزیشن پر مشتمل طبی ٹیم نے معائنے کے بعد انہیں "طبی طور پر فٹ" قرار دیا، اور جمعہ کی صبح تقریباً پانچ بجے انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹس کیا کہتی ہیں؟
عدالت میں جمع کرائی گئی جیل انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق یکم اگست کو پمز کے ماہرِ امراضِ قلب نے معائنہ کیا تو بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، دھڑکن کی بے ترتیبی، سردرد اور بےچینی کی شکایات سامنے آئیں، جن کی ایک وجہ اہلِ خانہ سے کم ملاقاتوں اور اخبار و ٹی وی تک رسائی نہ ہونا بتائی گئی۔ 10 اگست کو طبی بورڈ نے روزانہ سیر، جیل کے معمولات میں نرمی اور خاندان سے زیادہ ملاقاتوں کی تجویز دی تاکہ ذہنی دباؤ کم ہو۔ آنکھ کے عارضے کے علاج کے بعد بینائی معمول پر آنے کی بھی تصدیق کی گئی۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان علاج میں مبینہ تاخیر پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری ہے، پی ٹی آئی شفافیت نہ ہونے کا الزام لگاتی ہے جبکہ حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔
سیاسی درجہ حرارت: ستمبر مارچ، سی ای سی تقرری اور جماعتوں کا رابطہ
عمران خان کی صحت کے معاملے کے متوازی، پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ایک ملک گیر احتجاجی مارچ کی تیاریوں کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے جماعت اپنے بانی کی رہائی اور دیگر مطالبات پر دباؤ بڑھانا چاہتی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی پی ٹی آئی کے ساتھ حالیہ ملاقاتیں اور مسلم لیگ ن کی جانب سے رابطے کی کوششیں بھی زیرِ بحث ہیں، جنہیں کچھ حلقے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش قرار دے رہے ہیں تو کچھ محض علامتی اقدام سمجھتے ہیں۔
اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے حکومت اور اپوزیشن سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے پر مل بیٹھنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ اس اہم عہدے پر تقرری میں تاخیر کو سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خارجہ محاذ پر بھی حکومت نے بھارت میں تعینات امریکی سفیر کے کشمیر سے متعلق بیان پر امریکہ کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) بھجوایا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ داخلی سیاسی چپقلش کے باوجود خارجہ پالیسی کے معاملات بھی متحرک ہیں۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
موجودہ صورتحال سے واضح ہے کہ عمران خان کی قید اور صحت کا معاملہ فی الحال پاکستانی سیاست کا مرکزی نکتہ بنا رہے گا، خصوصاً جب پی ٹی آئی ستمبر میں سڑکوں پر دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا انداز، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اعتماد کا فقدان، اور دیگر جماعتوں کی جانب سے ممکنہ ثالثی کی کوششیں — یہ سب مل کر آنے والے ہفتوں میں ملکی سیاست کی سمت طے کریں گے۔ عام شہریوں کے لیے سب سے اہم سوال یہی رہے گا کہ کیا یہ کشیدگی مذاکرات کی طرف بڑھے گی یا مزید محاذ آرائی کی نذر ہو جائے گی۔
یہ مضمون دستیاب نیوز رپورٹس کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اور 21 اگست 2026 تک کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ چونکہ یہ ایک تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال ہے، تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے معتبر نیوز ذرائع سے رجوع کریں۔


Post a Comment