Posts

Showing posts from December 26, 2012

عبدالستار ایدھی

Image
عبدالستار ایدھی
عبدالستار ایدھی المعروف مولانا ایدھی خدمت خلق کے شعبہ میں پاکستان اور دنیا کی جانی مانی شخصیت ہیں، جو پاکستان میں ایدھی فاونڈیشن کے صدر ہیں۔ ایدھی فاونڈیشن کی شاخیں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کی بیوی محترمہ بلقیس ایدھی، بلقیس ایدھی فاونڈیشن کی سربراہ ہیں۔ دونوں کو 1986ء میں عوامی خدمات کے شعبہ میں رامون ماگسےسے ایوارڈ (Ramon Magsaysay Award) سے نوازا گیا۔

ابتدائی حالات
مولانا ایدھی 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بنتوا میں پیدا ہوۓ۔ آپ کے والد کپڑا کے تاجر تھے جو متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ پیدائشی لیڈر تھے اور شروع سے ہی اپنے دوستوں کی چھوٹے چھٹوے کام اور کھیل تماشے کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ جب انکی ماں انکو سکول جاتے وقت دو پیسے دیتی تھی تو وہ ان میں سے ایک پیسہ خرچ کر لیتے تھے اور ایک پیسہ کسی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے لیے۔ گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو شدید قسم کے ذیابیطس میں مبتلا تھیں۔ چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا، جو آگے کی زندگی کے لیے ک…

ماڈرن خواتین

ماڈرن خواتین مغرب کی تقلید کا شکار ہیں. انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ان کا اپنا دین ان کوکس بات کی ترغیب دے رہا ہے. وہ اندھادھند مغرب کے جال میں پھنستی جارہی ہیں. الله نے بنیادی طورپرعورت کےاندرحیا ڈال رکھی ہے لیکن شیطان یعنی مغرب کا کمال ہے کہ اس نےعورت کو اسکی حیا بھی بھلادی اور دین کی تعلیمات بھی، سو مسلمان عورت بے پردہ اور بے حیا ہوکر یہ محسوس کرنے لگی ہے کہ وہ بھی آخر ماڈرن بن ہی گئی. اسکی فطری حیا اس کو کچوکے لگاتی ہے لیکن وہ جدیدیت کے خوشنما لباس کو اتارنا پسند نہیں کرتی.



آخرکار اسے بے حیائی جیسے گناہ میں لذّت محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے اور اسی لذّت کے احساس کو پانے کے لئے وہ کپڑے پہن کربھی برہنہ نظر آنے لگتی ہے. جب مردوں کی گندی اور غلیظ نظریں اس کے بے پردہ جسم پر پڑتی ہیں تو وہ لطف کی وادیوں کی سیر کرنے لگتی ہے اور سمجھتی ہے کہ وہ دنیا کی حسین ترین عورت بن گئی ہے حالانکہ وہ صرف بدنظر مردوں کا شکار بنی ہوتی ہے.



ایسے لوگ بدنظری میں اس قدر مہارت حاصل کرلیتے ہیں کہ باپردہ خاتون کے پوشیدہ جسم سے بھی حرام مزے لیتے رہتے ہیں. یہ قرب قیامت کی نشانی ہے.



آج کسی خاتون کو پردے…

پاکستان کے کچھ ریکارڈز

Image
.
.
.
.

Click here to view the original image of 620x152px.



Click here to view the original image of 620x202px.



Click here to view the original image of 620x195px.


Click here to view the original image of 620x165px.


Click here to view the original image of 620x147px.


Click here to view the original image of 620x175px.


Click here to view the original image of 620x210px.


Click here to view the original image of 620x141px.


Click here to view the original image of 620x142px.


Click here to view the original image of 620x139px.


Click here to view the original image of 620x245px.


Click here to view the original image of 620x133px.


Click here to view the original image of 620x128px.


Click here to view the original image of 620x102px.


Click here to view the original image of 620x201px.

لاہوت لامکاں ۔ ایک سحر انگیز مقام

Image
Click here to view the original image of 6


Click here to view the original image of 620x287px.


Click here to view the original image of 620x368px.


Click here to view the original image of 620x363px.


Click here to view the original image of 620x612px.



Click here to view the original image of 620x302px.


Click here to view the original image of 620x403px.


Click here to view the original image of 620x345px.

عمران خان، میاں صاحب اور ڈاکٹرعامر لیاقت...طلوع…ارشاد احمد عارف

کراچی سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 308 کے مسافروں کے ساتھ ایئرپورٹ پر جو ہوا پاکستان کے عوام عرصہ دراز سے اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ ریاست کی دیکھ بھال پر مامور نااہل، کام چور، حرام خور اور عوام دشمن حکمرانوں کی لاپروائی، بے نیازی اور بے حسی کے سبب انجن خراب، مسافروں کادم گھٹ رہا ہے، آکسیجن کی کمی کے باوجود پینے کا پانی ناپید اور دروازے بند، بہت سے قریب المرگ مگر ریاست کے کاک پٹ پر قابض کپتان اور سینئر عملے کادعویٰ ہے کہ کچھ برا نہیں، سب ٹھیک ہے اورخرابی کی بات کرنے والے لاعلم، حاسد اورجمہوریت کے دشمن ہیں۔

میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے شیخ سعدی کاوہ تعویذ گھول کر پی رکھا ہے جوانہوں نے اپنے اوراپنے گدھے کی شب بسری کے لئے جگہ فراہم کرنے والے کسان کو دردِ زہ میں مبتلا بیوی کے لئے دیا تھاتاکہ وہ زچگی کے مراحل سے بحسن وخوبی عہدہ برا ہوسکے۔ تعویذ میں لکھا تھا ”مرا و خرِ مرا جا باید، زنِ دہقان زاید کہ نہ زاید (مجھے کہ میرے گدھے کو جگہ چاہئے میری بلا سے دیہاتی کی بیوی بچہ جنے نہ جنے) ہمارے ہر نوع اورنسل کے حکمرانوں کو اعلیٰ ایوانوں میں قدم جمانے،…

رولا رپا توازن کا ضامن ہے

رولا رپا توازن کا ضامن ہے

کل کی بات ہے بیغم بلا فل سٹپ بولے چلی جا رہی تھی اور میں اس کے حضور کھوگو بنے بیٹھا تھا۔ میں جانتا تھا ایک لفظ بھی میرے منہ سے نکلا تو دو چار گھنٹے بنے۔ مجھے ہمیشہ چپ کی چادر میں ہی پناہ ملی ہے۔ شوہر حضرات کو اکثر یہ جملہ سننے کو ملا ہو گا
" تم نے ساری عمر کیاہی کیا ہے‘ کون سے تم نے میرے ماتھے پر ٹیکے سجا دیے ہیں"
یہ جملہ پہلے بھی کوترسو بار سن چکا تھا۔ میں سقراط کا زہر سمجھ کر پی جاتا تھا۔ کل مجھے تاؤ آ گیا۔ کمال ہے وہ ساری عمر میں اس عرصہ کو بھی شمار کر رہی تھی جو میرے کنوار پن کا تھا۔ یہ بھی معلوم نہیں مجھے ابھی اور کتنا جینا ہے۔ ساری عمر میں تو یہ دونوں زمانے بھی آتے ہیں۔ جی میں آیا اس حوالہ سے بات کروں لیکن مجھے اس کے اس جملے نکمے تو ہو ہی اوپر سے حکایتں کرتے ہو کے تصور نے لرزا کر رکھ دیا۔ مجھے غصہ بڑا تھا جو میں ہر حال میں نکالنا چاہتا تھا۔ میں نے بڑی کڑک دار آواز جو کمرے کی دہلیز بھی پار نہ کر سکی‘ میں کہا کیوں خوامخواہ مغز چاٹ رہی ہو۔ اس کا جواب میری سوچ سے بھی بڑھ کر نکلا۔ کہنے لگی میں اپنے منہ سے بول رہی ہوں اس میں تمہارا کیا جات…

مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان

مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان
دو میاں پیوی کسی بات پر بحث پڑے۔ میاں نےغصے میں آ کر اپنی زوجہ محترمہ کو ماں بہن کہہ دیا۔ مسلہ مولوی صاحب کی کورٹ میں آگیا۔ انہوں نے بکرے کی دیگ اور دو سو نان ڈال دیے۔ نئ شادی پر اٹھنے والے خرچے سے یہ کہیں کم تھا۔ میاں نے مولوی صاحب کے ڈالے گیے اصولی خرچے میں عافیت سمجھی۔ رات کو میاں بیوی چولہے کے قریب بیٹھے ہوءے تھے۔ بیوی نے اپنی فراست جتاتے ہوءے کہا
"اگر تم ماں بہن نہ کہتے تو یہ خرچہ نہ پڑتا۔"
بات میں سچائ اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود تھی۔ میاں نےدوبارہ بھڑک کر کہا
"توں پیو نوں کیوں چھیڑیا سی"
بظاہر اس میں ایسی کوئ بات نہیں جس پر بھڑکا جاءے بلکہ اس میں میاں کی ہی حماقت نظر آتی ہے۔ اصل معاملہ یہ نہیں جو بظاہر دکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زوجہ محترمہ غلطی میاں کی ثابت
کرنا چاہتی تھی۔ گویا اس کی غلطی کے سبب خرچہ پڑا۔ اسے یہ یاد نہ رہا کہ اس نے کوئ ایسی چبویں بات کی ہو گی جس کے ردعمل میں میاں نے ماں بہن کہا ہو گا۔ اگر وہ یہ کہتی حضرت سوری میں نے اشتعال میں آ کر فلاں بات کہہ دی جس کے سبب ہمیں دیگ اور نانوں کا خرچہ پڑ گیا۔ ب…