Friday, November 16, 2012

کیا واقعی اسلام عورتوں کو حقوق دیتا ہے

 

Post Lession For PTI Students

 

Awalia Allah ka hai Faizan Pakistan

 

Main Pakistan Hoon (Must read)

لسلام علیکم دوستوں


ایک ) آپ کا اصلی نام کیا


اسلامی جمہوریہ پاکستان



دو )آپ کی عمر
چودہ اگست 2009 کو پورے 62 سال کی ہوجائے گی

تین ) شادی شدہ / غیر شادی شدہ / منگنی شدہ

تقریبا سترہ کروڑ اٹھائیس لاکھ عوام سب میرے بچے ہیں

چار) کیا کبھی کسی سے محبت کی ہے اگر کی ہے تو اس کا کیا نتیجہ نکلا

محبت کے لئے شروع سے میری عادت رہی ہے کہ جس نے مجھ سے جتنی محبت کی میں نے اس سے اتنی ہی محبت کی
مجھے حاصل کرنے کے لئے میرے جن بچوں نے قربانیاں دیں میں نے ان لوگوں کو نام دیا،رہنے کے لئے چھت دی،اور سب سے خاص انعام ان کی نسلوں کو ملا جس کا نام آزادی تھی
لیکن رفتہ رفتہ آنے والی نسلیں مجھ سے محبت کم کرتی جارہی ہیں اور آزادی کی عظیم نعمت کو بھلاتی چلی جارہی ہیں
ان نسلوں کو چاہیے کہ آزادی کی نعمت کو سمجھنے کے لئے ان لوگوںکو دیکھیں جن سے آزادی چھین لی گئی ہے اور آج سر عام ان کے بچوں کو بغیر کسی جرم کے گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے اور عورتوں کی بے عزتی کی جاتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا
یہ ہوتی ہے آزادی جس کی اہمیت کو کسی کو اندازہ نہیں
اور ہوتا بھی کیسے ? بھلا کسی پیٹ بھرے کو روٹی کی قیمت کا اندازہ بھی ہوتا ہے ?
تو آج نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ان بچوں میں اور میری محبت میں فاصلہ بڑھتا جارہا ہے
بس میرا تو محبت میں یہی اصول ہے کہ مجھ سے جتنی محبت کرو گے اتنی ہی محبت پاو گے

پانچ ) کس جگہ سے تعلق ہے آپ کا

برا اعظم جنوبی ایشیا سے

چھ) آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے


میری خوراک تو میرے بچوں کا ایماندری سے محنت کرناہے
میرے بچے جو کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں اپنی پوری محنت اور ایمانداری سے دل لگا کر محنت کرتے ہیں تو یقین مانیں کہ میرے جسم میں گویا جان سی پڑ جاتی ہے
آپ کہیں گے کہ محنت تو سب ہی کرتے ہیں
نہیں میرے دوستوں محنت اس کو نہیں کہتے کہ جائز ناجائز راستوں سے صرف اپنے عیش و عشرت کے لئے دولت کمائی جائے
بلکہ میرے لئے خوراک تو ایمانداری سے ٹیکس کی ادائیگی ہے
ناجائز راستوں سے دولت کمانے سے اجتناب ہے زر مبادلہ کے ذخائر ہیں
اور مجھے سب سے اچھی غذا اس وقت ملتی ہے کہ جب امن و امان ہو
تو میرا پیٹ بھرتا رہتا ہے جس کو آپ لوگ معیشت کہتے ہیں
اور میری یہ پسندیدہ خوراک میرے بچوں کے ہی کام آتی ہے
جب میںخوشحال ہوں گا تو یقینا میرا بچہ بچہ خوشحال ہوگا

سات ) اس سائٹ میں آپ کو سب سے زیادہ کیا چیز پسند آئی اور کس کی پوسٹنگ پسند کرتے ہیں
مجھے صرف اسی نہیں بلکہ ہر فورم پر اپنے بچوں کا محبت اور خوش اخلاقی سے ایک دوسرے سے بات چیت کرنا پسند آتا ہے
اور مجھے اس سائٹ پر صرف وہ پوسٹ ہی پسند آتیں ہیں جو میرے بچوں کو اچھی بات سیکھائیں اور بری باتوں سے روکیں

آٹھ )پ کی پسندیدہ ایکٹر اور ایکٹرس کون ہے

پسندیدہ تو نہیں بتا سکتا ہاں البتہ ناپسند ایکٹر میں مجھے وہ تمام سیاستدان جو محب وطن ہونے کی ایکٹنگ کر کے میرے بچوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور مجھے شدید نقصان پہنچاتے ہیں
اور میرے بچوں پتہ ہے میرے بچوں کی بڑی اکثریت کے چاہتے ہوئے بھی کہ ان سے جان چھوٹ جائے اور اچھے لوگ ایماندار لوگ اس ملک کی باگ دوڑ سنبھال لیں لیکن پھر بھی ایسے لوگ میرے بچوں پر کیوں مسلط ہیں ?
کیوں کہ میرے بچوں کی بڑی اکثریت ایسی ہی ہوگئی ہے
اس کی آسان مثال یوں سمجھیں کہ جیسے میرے بچوں میں کوئی بزنس کے شعبے سے وابستہ ہے کوئی دوکاندار ہے تو کوئی سرکاری ملازم ہے تو کوئی پرائیوٹ ملازم ہے یا کوئی کسان ہے یا زمیندار ہے
سب بچے اپنے اپنے ضمیر کو گواہ بنا کر سوچیں کہ آپ لوگوں میں سے کون کون ہے جو میرا درد دل میں رکھ کر اپنی ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کررہا ہے
جس کو جہاں موقع ملتا ہے تو اپنی طرف سے کرپشن میں ملوث ہے
بس فرق اتنا ہے کہ کوئی چھوٹے پیمانے پر تو کوئی بڑے پیمانے پر
تو جب بڑی اکثریت سے لوگ کرپشن میں ملوث ہوں گے تو ان کو رہنما کیسے اچھے مل سکتے ہیں ?
یہ تو آپ لوگ خود ہی سوچ سکتے ہیں کہ آج اگر (دس روپے والی کرپشن میں ملوث) کسی شخص کو وزیر بنادیا جائے تو وہ کیا کرے گا ?
کیا میرا درد محسوس کر کے ایمانداری سے وزارت کے فرائض ادا کرے گا
یا جب دس روپے والے کرپشن میں ملوث شخص کو اختیار دس کروڑ والے کرپشن کا مل جائے گا
تو وہ وہی حرکت کرے گا جو اپنی آج کی پوزیشن(دس روپے والی کرپشن میں ) میں کر رہا ہے
کیوں کہ جب وہ آج اپنے محدود دائرہ اختیار ہونے کے باوجود میرا درد دل میں نہیں رکھتا تو وہ وزیر بن کر کیسے میرا درد دل میں رکھے گا?
میرے بچوں یہ تو جیسی کرنی ویسی بھرنی والا معاملہ ہے

نو ) زندگی میں کس چیز کی کمی محسوس کرتے ہیں

ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا اسی میں میری ساری کمیوں کا احساس موجود ہے کاش کہ میرے بچے سمجھ جائیں

ایک بادشاہ تھا وہ اپنے بستی میں ایک بڑا سا تالاب کھدواتا ہے اور پوری بستی میں اعلان کر دیتا ہے کہ آج رات کو پوری پستی والے اپنے اپنے گھروں سے ایک ایک بالٹی دودھ کی اس تالاب میں ڈالیں گے
پھر رات کو تمام بستی والے ایک ایک بالٹی اس تالاب میں ڈال دیتے ہیں
جب بادشاہ صبح صبح اس تالاب کو دیکھنے کے لئے جاتا ہے تو وہ حیران ہوجاتا ہے کہ پورے کا پورا تالاب بجائے دودھ کے پانی سے بھرا ہوتا ہے

میرے بچوں پتہ ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ?
کیوں کہ بستی کا ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ ہر کوئی تو دودھ کی بالٹی تالاب میں ڈال رہا ہے تو میں اگر اکیلا پانی کی بالٹی ڈال دوں گا تو اس سے کیا فرق پڑے گا اور رات بھی ہے کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا
میرے بچوں جب اسی طرح پوری کی پوری بستی نے یہی سوچ لیا تو اس تالاب میں پانی ہی بھرنا تھا دودھ کہاں سے ملتا

میرے بچوں آج میرا یہی حال ہے کہ میرے ہر بچے نے یہی سوچ لیا ہے کہ سب لوگ کرپشن میں ملوث ہیں اگر ایک میں کر رہا ہوں تو اس سے کیا فرق پڑے گا اور جب مرے بچوں کی بڑی اکثریت نے یہی سوچ لیا تو پھر میرا ایسا حال تو بننا ہی تھا
پھر میرے بچے کس کو روتے ہیں ? کیوں کسی سے گلہ کرتے ہیں کہ فلاںسیاستدان نے ایسا کیا فلاں سرکاری افسر نے ویسا کیا
میرے بچوں یہ تو سوچو کہ تم نے کیا کیا
کیا تم نہیں ذمہ دار میری تباہی کے ?
تم گلہ کرتے ہو کہ سارا تالاب پانی سے بھرا ہوا ہے
میرے بچوں یہ تو سوچو کہ تم نے کبھی دودھ کی بالٹی ڈالی ?

دس )اس سائٹ کے یوزرز کے لیئے کوئی پیغام دینا چاہے گے

میں اپنے تمام بچوں کے لئے ایک چھوٹا سا واقعہ بطور پیغام کے دینا چاہتا ہوں اگر میرے بچے مجھے زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو اس پیغام پر ضرور عمل کریں گے

جب حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالاجارہا تھا تو ایک ننھی سی چڑیا تھی جو اپنی چونچ میں پانی کا ایک قطرہ لاتی اور آگ کے پاس گرا دیتی ۔ کسی نے دیکھا تو ہنس کے کہا کہ اے ننھی سی چڑیا کیا تیرے اس پانی سے آگ بجھ جائے گی ۔ اس پر چڑیا نے کہا میں جانتی ہوں کہ میرے اس پانی سے آگ نہیں بجھے گی لیکن میں بروز قیامت تماشہ دیکھنے والوں کی صف میں کھڑے ہونے کے بجائے آگ بجھانے والوں کی صف میں کھڑا ہونا چاہتی ہوں ۔

میرے بچوں میرا بس یہی پیغام ہے کہ آپ اپنی طرف سے پانی ڈال دیں
آپ اپنی طرف سے دودھ کی بالٹی ڈالنا شروع کریں
کم سے کم آپ کا فریضہ ادا ہوجائے گا
اور جب میرے بچوں کی اکثریت یہ عمل شروع کردے گی تو یقینا پھر تالاب میں پانی کے بجائے دودھ نظر آنے لگ جائے گا

والسلام

پاکستان

Aman ki Asha امن کی آش

 

وزیر صاحب یہی وقت ہے

 
 
 
اسلام علیکم ایک خبر آپ کے ساتھ شئیر کر رہا ہوں۔پنجاب کے وزیر اعلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ملک کے لئے اپنے اثاثے بیچ دیں گے۔ پتہ نہیں ان کے خیال میں ملک پر اس سے مشکل وقت کب آئے گا۔ اس وقت ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ لوگ حالات سے تنگ آ کر خود کشیاں کر رہے ہیں ۔اور ایک اور خبر تھی کہ کچھ لوگ بھوک سے تنگ آ کر اپنی اولادیں تک فروخت کرنا چاھتے ہیں۔میری وزیر موصوف سے درخواست ہے کہ یہی وقت ہے کہ پاکستان کے عوام اور ملک بہت مشکل میں ہیں ۔آپ نے تو اندرون اور بیرون ملک بہت کچھ اکٹھا کیا ہوا ہے اور ملک اس وقت ایک پہاڑ جیسے قرضے کے نیچے دبا ہوا ہے۔صرف آپ نہیں ملک کے سب لیڈر حضرات کو سوچنا چاھیے اور وقت آپ کے ہاتھ میں ہے ۔اگر مشرق وسطی جیسے حالات پیدا ہو گے تو یہ اقتدار اور اثاثے ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔

زمیں تھک گئی ہے لہو پیتے پیتے

Name:  zameen thak gayee.jpg
Views: 128
Size:  94.1 KB

America k Sath dosti......

 

٭ ٭ ٭ثوبيا كى كهانى ٭ ٭ ٭

Name:  s1.gif
Views: 1229
Size:  74.1 KB

Name:  s2.gif
Views: 1223
Size:  90.0 KB

16 Qadyanio Nay Islam Qabool Kar Liya.

 

سچ جو بولنا مشکل ہے

   

خواتین کا جلسہ یا میوزیکل پروگرام؟

گزشتہ اتوارکو متحدہ قومی موومنٹ نے خواتین کی طاقت کا مظاہرہ کیا اور مزار قائد کے پاس ایک بڑے جلسہ کا اہتمام کیا جس میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کے دعوے کے مطابق 10 لاکھ خواتین نے شرکت کی۔ بلاشبہ صرف خواتین کا اتنا بڑا اجتماع پہلے دیکھنے میں نہیں آیا اور نہ ہی ماوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں کا اتنے بڑے پیمانے پر رقص کرنے اور تھرکنے کا منظرنظرسے گزرا۔ لیکن شاید یہی لبرل کلچرہے۔ خود متحدہ کے قائد بھی مختلف فلمی گانے گاکرخواتین کو محظوظ کرتے رہے۔ جناب بابرغوری ڈھولک بجاتے رہے۔ ہرایک نے اپنے اپنے فن کا کھل کر مظاہرہ کیا۔ محترمہ نسرین جلیل جیسی شائستہ اور باوقارخاتون بھی رقص کناں تھیں۔ ایسا لگ رہاتھا جیسے یہ کوئی سنجیدہ پروگرام نہیں میوزیکل پروگرام ہے۔ اوریہ سب کچھ ربیع الاول کے مقدس مہینے میں ہوا۔ مغرب کی اذان پربھی الطاف حسین کا خطاب نہیں رکا‘ خواتین نے سرڈھانپ کر اذان کے احترام کا مظاہرہ کیا اورمنتظررہیں کہ شاید ان کے قائد بھی اپنا گانا اورتقریرروک دیں۔ اتنا احترام تو پیپلزپارٹی کی لبرل رہنما محترمہ بے نظیرنے بھی وزیراعظم ہوتے ہوئے کرلیاتھا اور ”اذان بج رہاہے“ کہہ کر اپنی تقریرروک دی تھی۔ ایسا لگتاہے متحدہ قومی موومنٹ یہ ”بالی ووڈ“ کلچر پورے ملک پر مسلط کرنے چلی ہے‘ کراچی میں تو اس کا مظاہرہ سب ہی نے دیکھ لیاہے۔ حیرت تو ہمیں اپنی عزت مآب خواتین پرہے۔ ان کو علم تھا کہ یہ ناچ‘ گانا کیمروں کے ذریعے تمام ٹی وی چینلزپردکھایاجارہاہے۔ اب ایسے میں اسلام کے احکامات کا کیا ذکرکیاجائے کہ وہ خود بھی واقف ہوں گی۔ لیکن اب متحدہ کے قائد کی نام نہاد فکر اور فلسفہ بہت سے لوگوں کا مذہب اور عقیدہ بن چکاہے۔ جب ایسا ہوجائے تو پھرکوئی معقول بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ زمانہ جاہلیت میں خواتین اپنی نمائش کیاکرتی تھیں اور اسی کو روکنے کے لیے بادی برحق کے ذریعہ احکامات نازل کیے گئے تھے کہ خواتین اپنی نمائش کرنے کے بجائے گھروں میں ٹک کربیٹھی رہیں۔ عورت کو برابری کے حقوق دینے اور مرد کے مساوی سمجھنے کا نعرہ مغرب کے مرد نے لگایا تھا محض عورت کو بے وقوف بنانے اور حقوق کے نام پر اس سے کارخانوں اور دفاترمیںکام لینے کے لیے۔ اب مغرب کی عورت بچے بھی پال رہی ہے اورگھرکے باہرکام بھی کررہی ہے۔ یہی کچھ پاکستان میں بھی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ”بااختیارعورت‘ مضبوط پاکستان“ کا گمراہ کن نعرہ لگایاجارہاہے۔ الطاف حسین کہتے ہیں کہ ہرشعبہ میں خواتین کو بااختیار بنایاجائے گا‘ وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں گی اور انہیں مردوں کے برابرحقوق ملیں گے۔ خواتین 52 فیصد ہیں انہیں کم ازکم 50 فیصد حصہ دیاجائے۔ اس سے لگتاہے کہ وہ جائداد میں بھی خواتین کے نصف حصے کے قائل ہیں۔ ممکن ہے کہ انہوں نے وراثت کے اسلامی قوانین نہ پڑھے ہوں اور صرف برطانوی قانون ہی نظرمیں ہو‘ ایسا ہے تو بہترہوگا کہ اورکچھ نہیں تو قرآن کریم کا ترجمہ ہی پڑھ لیں۔ لیکن اس میں تو مرد کو عورت پر”قوام“ بھی بنایاگیا ہے اور کہیں نہیں کہاگیا کہ عورت مرد کے شانہ بشانہ کام کرے اور عورت کو بااختیار بنانے ہی سے ایک مسلم ملک مضبوط ہوسکتاہے۔ لیکن یہ باتیں لبرلزکی سمجھ میں نہیں آئیں گی۔ پھر اس ”کلچر“ میں جو ہلّہ گلّہ ہے اس کی اپنی دلکشی ہے۔ ایسے میں یہ کون یاد رکھتاہے کہ مسلمان عورتوں اور مردوں سے اسلام کیا تقاضہ کرتاہے۔ قوم ابھی تو ویلنٹائن ڈے مناکربیٹھی ہے۔ بہرحال جناب الطاف حسین کو داد دینی چاہیے کہ جس عورت کو گھرمیں بیٹھنے کی ہدایت کی گئی اسے وہ میدان میں لے آئے۔ محترم نے اپنے کارنامے بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ ”خیبرپختونخوا میں ایک معصوم بچی کو کوڑے مارنے کے خلاف ایم کیو ایم نے احتجاجی ریلی نکالی“ ۔یقیناً ایسا ہی ہوا لیکن کیا ان تک ابھی یہ حقیقت نہیں پہنچی کہ سوات میں ایک بچی کو کوڑے مارنا محض ایک ڈراما تھا اور اس ڈرامے کو اسٹیج کرنے والی خاتون ملک سے فرارہوچکی ہیں۔ الطاف حسین کوچاہیے تھا کہ اس انکشاف کے بعد ایک اور ریلی نکالتے اورجعلی وڈیو پھیلانے والوں کے خلاف سزاکا مطالبہ کرتے لیکن انہیں تو اب تک حقائق کا علم ہی نہیں ہوا ورنہ وہ مذکورہ ریلی کو اپنے کارناموں میں شمارنہ کرتے۔ ویسے تو انہوں نے اور بھی کئی ریلیاں نکالی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے مظلوم بلوچ عوام کے لیے آواز بلندکی ہے۔ یہ وقت کا تقاضہ ہے لیکن جناب الطاف حسین کو یاد ہوگاکہ انہوں نے بلوچستان کے مسئلہ پر 24 گھنٹے کے اندر اندر حکومتوں سے نکلنے کا اعلان کیا تھا کئی برس گزرنے کے بعد یہ 24 گھنٹے پورے نہیں ہوئے۔ پاکستان میں خواتین کے ساتھ جو زیادتیاں ہورہی ہیں وہ بے شک تشویشناک ہیں لیکن اس کی وجہ لاقانونیت ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ جیسی بڑی جماعت کو چاہیے کہ جہاں بھی کسی مظلوم عورت پرظلم ہو وہ اس کی اعانت کرے‘ اسے قانونی مدد فراہم کرے اور ظالم کو کیفرکردارتک پہنچائے۔ صرف تقریریں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ عملیت پسندی کی فکر اور فلسفہ کا عملاً اطلاق بھی ہونا چاہیے۔ بلوچستان کی ڈاکٹرشازیہ اور ان کے شوہرکو بیرون ملک بھجوایا‘ بہت اچھا کیا لیکن کیا اس خاتون سے زیادتی کرنے والوں کوبھی سزادلوائی جبکہ متحدہ تو اس وقت بھی جنرل پرویزکی حکومت میں تھی۔ یہ توعملیت پسندی نہیں ہے۔ اب یہ فیصلہ خود مسلمان خواتین کو کرناچاہیے کہ کیا انہیں اسلامی قوانین قبول ہیں‘ خدیجہ ؓ‘ عائشہؓ اورفاطمہؓ کی تقلیدکرنی ہے یا نام نہاد فکروفلسفہ اور لبرل ازم کی اطاعت کرنی ہے۔ پاکستان کی مسلمان عورت مردوں سے زیادہ دین دارہوتی ہے اوراگر وہی جھانسے میں آگئی تو نئی نسل محض گانے بجانے اور تھرکنے ‘مٹکنے کی شیدائی ہوگی۔ مسلمان دشمن چاہتے بھی یہی ہیں کہ یہ عالمی ایجنڈا ہے

International Media aur Pakistani documentary.

 

موجودہ دور میں انگریزی زبان کی اہمیت

Name:  sachai_01[1][1].gif
Views: 275
Size:  38.7 KB

Name:  sachai_02[1][1].gif
Views: 274
Size:  42.4 KB

Name:  sachai_03[1][1].gif
Views: 273
Size:  10.0 KB

Total Pageviews