Wednesday, February 9, 2011

لبرل فاشسٹس کی تلاش میں

لبرل فاشسٹس کی تلاش میں
خالد احمد
پانچ فروری، دو ہزار گیارہ

مورخہ بیس جنوری کو جنگ میں شائع ہونے والے کالم میں حامد میر لکھتے ہیں کہ " لبرل فاشسٹ سے مراد وہ لوگ ہیں جو پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں، تہتر کے آئین کی اسلامی دفعات کے مخالف ہیں، پہلے مشرف کی حمایت کی اور آجکل زرداری کے حمایتی ہیں اور اپنے مخالفین کو طالبان کے ہمدرد کہہ کر پکارتے ہیں.یہ لبرل اور انتہا پسند دونوں ایک جیسے ہی ہیں، کیونکہ دونوں پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے. فرق صرف یہ ہے کہ ایک شراب پینے کے بعد جھوٹ بولتا ہے اور دوسرا نماز پڑھنے کے بعد"
یاسر لطیف ہمدانی مورخہ اکتیس جنوری کو ڈیلی ٹائمز میں لکھتے ہیں کہ"حمزہ علوی نے ایک بار کہا تھا کہ 'سیکولر اور لبرل ہی دراصل نظریہ پاکستان کے اصل اورحقیقی وارث ہیں'. مگر بدقسمتی سے موجودہ پاکستان کے کامران شاہد اور اوریا مقبول جان جیسے ٹی وی اینکرز نے انہی نظریہ پاکستان کے حقیقی جاں نشینوں کو 'لبرل فاشسٹ' کے خطابات سے نوازنا شروع کر دیا ہے. میرے خیال میں ان لبرلز کو فاشسٹ اسلئیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پاکستان کو ایک ایسا مہذب، جمہوری اور روادار معاشرہ بنانے کی بات کرتے ہیں، جہاں سب لوگوں کو ایک جیسے حقوق حاصل ہوں.بعض اوقات پاکستان کے موجودہ حالات کیلیے لفظ 'عجیب و غریب' بھی کھوکھلا محسوس ہوتا ہے"

جب بھی ایسے لوگ 'لبرل فاشسٹ' جیسی کوئی دولفظی متضاد اصطلاح(جسے انگریزی میں آکسی موران کہا جاتا ہے، کیونکہ لبرل اور فاشسٹ دو متضاد چیزیں ہیں. لبرل کبھی فاشسٹ نہیں ہو سکتا اور فاشسٹ کبھی لبرل نہیں)ایجاد کرتے ہیں تو خوشی اور لذت کی ایک لہر انکے پورے جسم میں دوڑ جاتی ہے. یہ جانتے ہیں کہ فاشسٹ ہونے کیلیے دو اہم چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے. اگر آپ حکومت میں ہیں تو آپکے پاس دوسروں کو دھمکانے کی قوت کا ہونا ضروری ہے اور اگر آپ اقتدار سے باہر ہیں تو ایسی ہی کوئی تنظیمی ساخت اور طاقت آپکے پاس ہونی چاہیے. فاشسٹ سوچ اپنے عقائد پر 'پختہ یقین' اور اس ارادے سے جنم لیتی ہے کہ دوسرے سب لوگوں سے طاقت اور سزا کے خوف سے زبردستی اپنے عقائد منواے جائیں. وطن پرستی کا انتہائی درجہ بھی فاشزم کو جنم دیتا ہے اور یہ آمریت کی ہی ایک شکل ہے. آمریت ہمیشہ دائیں بازو کی ایک اصطلاح سمجھی جاتی تھی ، یھاں تک کہ مصنفہ حینا آرینٹ نے ہمیں سمجھایا کہ سوویت یونین بھی آمریت کی ہی ایک شکل تھی

ایک فاشسٹ انسان کی اوپر بیان کی گئی اقسام اور خصوصیات کے برعکس؛ ایک لبرل انسان ہمیشہ 'پختہ یقین' جیسی دولت سے خالی ہوتا ہے. وہ ان لوگوں کیلیے رحم کی بھیک مانگتا ہے جو دوسروں کے 'پختہ یقین' کا مشق ستم ہوتے ہیں. وہ ہمیشہ اپنے بارے میں شک کا شکار رہتا ہے ، کیونکہ اس شک سے ہی اس میں آزادانہ سوچ پنپتی ہے اور اسی سے ہی اس میں معاشرے کے مظلوم طبقات کے لیے رحم کا جذبہ اور انکے لیے آواز اٹھانے کی قوت جنم لیتی ہے. ہر تنازع میں اسکا کردار مصالحانہ ہوتا ہے، نہ کہ آگ بھڑکانے والا. جب بھی کسی مسلے پر عمل درآمد کا وقت آتا ہے تو لبرل کبھی بھی کسی لائحہ عمل پر متفق نہیں ہو پاتا. ایک لبرل انسان ہمیشہ معتدل، روادار، اپنی اصلاح پر ہمہ وقت تیار، اور خود احتسابی کے جذبے سے معمور ہوتا ہے.وہ ہمیشہ اپنی انا کی قربانی دینے کے لیے تیاررہتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات اپنی قوم اور ملک کی انا کی بھی
بدقسمتی سے لبرل ہر تنازع میں دو متحارب فریقین کے درمیان کھنچا چلا آتا ہے. جب یہ فریقین تلواریں سونت کر ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں تو لبرل درمیان میں دونوں کی مار سہتا ہے اور انتہائی صورت میں اپنی جان بھی گنوا بیٹھتا ہے. شاید یہی وجہ ہے کہ پر تشدد تصادم کی صورت میں لبرل ہمیشہ پسپائی اختیار کرتا نظر آتا ہے. لبرل کم کم ہی کسی بات پر اپنے ساتھی لبرلز سے متفق ہوتا ہے. المختصر، جب سے جان سٹوارٹ مل نے اسے ایک نظریے کی شکل دی ہے، اسوقت سے اس کے بارے میں جاننے کیلیے کوئی نئی بات نہیں نکلی

انتہا پسندی ہمیشہ 'پختہ یقین' سے جنم لیتی ہے اور کوئی پختہ یقین بھی 'واضح نظر آنے والے تضادات' کو نظر انداز کیے بغیر ممکن نہیں. جب بھی آپ آپنے اندر پختہ یقین امڈتا ہوا محسوس کریں تو یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب آپ اپنے آپ کو متشدد بننے سے روک سکتے ہیں. وگرنہ آپ بھی ایک فاشسٹ بن جاینگے جو کہ زور و زبردستی سے ہر انسان پر اپنا نظریہ مسلط کرتا ہے. جو لوگ اس پختہ یقین کی دولت سے مالا مال ہوں، وہ بظاہر بڑے ہی متاثر کن نظر آتے ہیں جبکہ لبرل اس خصوصیت سے عاری نظر آتا ہے کیونکہ انکو ہر نظریے میں خامیاں اور بہتری کی گنجائش نظر آتی ہے، اسکے علاوہ طاقت کا اظہار انکی سوچ سے میل نہیں کھاتا. یہی وجہ ہے کہ ایک لبرل صرف ایک فون کال سے خالد خواجہ کو نہیں مروا سکتا. اور نہ ہی وہ پاکستان کے قادیانیوں سے نفرت کر سکتا ہے. اسی لیے ایک لبرل ہمیشہ ایک 'تنہا مسافر' اور 'بے ضرر مخلوق' کی مانند ہوتا ہے
ہم مسلمانوں میں ایمان اور یقین کو ہم معنی اصطلاحات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ دونوں کے معانی اور استعمال میں بہت فرق ہے. البتہ غلام احمد پرویز کی لغت القران میں یہ لکھا ہے کہ ہماری مقدس کتاب کے مطابق یہ مترادف ہی ہیں

No comments:

Post a Comment

Total Pageviews