Wednesday, August 7, 2019

قربانی فی سبیل اللہ۔۔۔تحریر: مجدی رشید



عید قربان حقیقی معنوں میں ایسے پسے ہوئے طبقے کے لئے خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے جنہیں سارا سال گوشت میسر نہیں آتا۔ پیر 5 اگست 2019 qurbani Fi sabilillah عیدالفطر کے گزرتے ہی تمام امت مسلمہ عید الضحیٰ کے استقبال کی منصوبہ بندی اورتیاریوں کے لئے کمر کس لیتی ہے۔عیدِ قرباں پر رسمِ قربانی جہاں رضائے الہیٰ کے حصول کا موجب بنتی ہے وہیں پر اُن کروڑوں غریب اور مستحق افراد کے لئے بھی مسرت کا باعث ثابت ہوتی ہے جو گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ قربانی کا دن وہ دن ہے جب حضرت ابراہیم علیہ سلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس خواب کو حکم خداوندی سمجھتے ہوئے انہوں نے اپنے لختِ جگر کے ذبح کا ارادہ کیا لیکن جیسے ہی گردن پر چھری چلائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئی کہ ”اے ابراہیم! آپ نے اپنا وعدہ سچ کردکھایا“۔ اور پھر انعام کے طور پر قربانی کے لئے ایک دنبہ بھیجا گیا۔ قربانی کے اس جذبہ نے خدا وند کریم کے دربار میں وہ مقام پایا کہ جسے زندہ رکھنے کے لئے تاقیامت قربانی ہر صاحب ِ استطاعت مرد و زن پر فرض کردی گئی۔ قربانی فی سبیل اللہ کا مقصد نمود ونمائش کی بجائے خالصتاََ اللہ کی رضا اور مستحقین کی مدد ہونا چاہئے اور یہی اس کی اصل روح ہے۔ صدقہ و خیرات کے لئے تو کوئی دن مقرر نہیں ہے لیکن اس کے لئے ایک خاص دن مقرر کیا گیا ہے جسے یوم النحر یایوم الضحیٰ کہا جاتا ہے۔اسلام کے نظام عبادت میں ہر لحاظ سے قربانی کا وجود پایا جاتا ہے یعنی نماز اور روزہ انسانی ہمت اور طاقت کی قربانی ہے،زکوة انسان کے مال و زر کی قربانی ہے اسی طرح حج بیت اللہ بھی انسان کی ہمت اور مال و دولت کی قربانی ہے۔ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر قربانی کی اہمیت و فضیلت بیان کی گئی ہے: ارشادباری تعالیٰ ہے کہ ”تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔“(سورہ کوثر) ”اورہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کردی ہے تاکہ وہ اللہ کا نام لیں، ان جانوروں پر جو ہم نے ان کو عطا کئے ہیں۔“(سورة حج) حدیث مبارکہ میں ہے کہ ”جس شخص نے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کی وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ “ (ابن ماجہ جلد 2 صفحہ 232) ”جس نے خوشی اور اخلاص کے ساتھ قربانی کی وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ اور رکاوٹ بن گئی۔“(طبرانی) ”حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قربانی کے جانوروں کے جھول اور ان کے چمڑے کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا جن کی قربانی میں نے کردی تھی۔“(صحیح بخاری۔ (1707 ایسا ملک جہاں لوگوں کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو، ننھے ننھے کتنے ہی بچے بھوکے پیٹ سوتے ہوں، پینے کا صاف پانی بھی دسترس سے باہر ہو، الغرض کوئی پرسان حال نہ ہو، وہاں اسلام کے اس فلسفہٴ قربانی کو با آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس موقع پردنیا بھر میں بھائی چارے اور غریب نوازی کا فقید المثال مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ افراد جو سال بھر دو وقت کی روٹی کے لئے ترستے ہیں ان کو بھی اس مذہبی تہوار پر پیٹ بھر کر گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے۔ یہ تہوار حقیقی معنوں میں ان پسے ہوئے افراد کے لئے خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ انفرادی طور پر صاحبانِ استطاعت قربانی کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور اس کے گوشت کے تین حصوں میں سے ایک غربا و مساکین کے لئے مختص کیا جاتا ہے جبکہ اس مقصد کے لئے اب بھی ایسے بہت سے رفاہی ادارے موجود ہیں جو کسی بھی ذاتی مفاد کو پسِ پشت ڈالے خالصتاََ رضائے الہیٰ کے حصو ل کے لئے میدانِ عمل میں کوشاں ہیں۔ یہ ادارے بڑے پیمانے پر بہت منظم انداز میں قربانی فی سبیل اللہ کا اہتمام کرتے ہیں۔انہی میں سے ایک ادارہ الخدمت فاؤنڈیشن ہے۔ الخدمت فاوٴنڈیشن پاکستان بلا تفریق رنگ و نسل،ذات پات اور مذہب کے غریب اور بے سہارا افراد کی خدمت کے لئے ہر دم کوشاں اداروں میں ایک نمایاں نام ہے۔ الخدمت کے تحت عید الضحیٰ کے موقع پر ملک کی سب سے بڑی قربانی فی سبیل اللہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ دورِ حاضر کے رجحانات کے پیش نظر اب ملک گیر جانوروں کی قربانی کرنے اور اس کے بعدان کا گوشت ملک کے دور دراز پسماندہ علاقوں میں مستحق افراد تک پہنچانے کے لئے جدید طریقہ کار اپنائے جارہے ہیں۔کراچی، لاہور سمیت چند دیگر شہروں میں جدید سلاٹر ہاوٴسزکی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جہاں جانوروں کی قربانی، چرم قربانی الگ کرنے اور گوشت کو پیکٹوں میں پیک کرنے تک کا عمل نہایت منظم اور حفظانِ صحت کے تمام تر اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف طریقے سے سرانجام دیا جاتا ہے۔ اس گوشت کوبحفاظت دور درازعلاقوں تک منتقل کرنے کے لئے چلر ٹرکوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ الخدمت کو ملنے والی قربانیوں کا ایک بڑا حصہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں اور تنظیموں کی بھیجی گئی قربانیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔پاکستا ن اور تیسری دنیا کے ممالک کے برعکس یورپ، امریکہ اور ایسے ممالک جہاں جانور خریدنا، اس کی دیکھ بھال کرنا ،قربانی کرنا اور اس کا گوشت تقسیم کرنا قدرے مشکل ہے یا قربانی کی سہولیات میسر نہیں اور وہاں کے قوانین بھی اس حوالے سے سخت ہیں تو وہاں کے مسلمان قربانی کی رقم پاکستان یا دیگر ایسے ممالک بھجوا دیتے ہیں جہاں الخدمت ایسی تنظیمیں ان کی قربانی مستحقین تک پہنچانے کا اہتمام کرتی ہیں۔ کچھ ایسے صاحبانِ استطاعت بھی موجود ہیں جو اپنی قربانی آفت زدگان کے لئے وقف کرنا چاہتے ہیں یا ایک سے زائد قربانی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی اس سلسلے میں الخدمت فاؤنڈ یشن سے رجوع کرتے ہیں۔گزشتہ سالوں میں بھی الخدمت فاؤنڈیشن نے سیلاب، زلزلے ، تھرپارکر اور فاٹا کے بے گھر افراد کے لئے سمیت گلگت بلتستان ، آزادکشمیر، خیبر پختونخوا،پنجاب، سندھ، بلوچستان سمیت ملک بھر میں قربانی کا گوشت تقسیم کیا۔ اس کے علاوہ الخدمت چرم قربانی اکٹھی کرنے والا بھی سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ان سے حاصل شدہ رقم سال بھر جاری رہنے والے خدمت خلق کے منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔ شام میں خانہ جنگی اورمیانمار میں حکومتی سرپرستی میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین ترکی اور بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور عارضی کیمپوں میں نہایت کسمپرسی کی حالت میں زندگی کے شب وروز بسر کررہے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اِن بہن بھائیوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کریں۔الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی غریب و مستحقین میں قربانی کا گوشت پہنچانے کے ساتھ ساتھ شامی اور روہنگیا مہاجرین کے لئے قربانی فی سبیل اللہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ان رفاہی اداروں کی مسلمہ حقیقت اور اہمیت سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی معاشرہ ایسا نظر نہیں آتا جہاں ان کا قیام عمل میں نہ لایاگیا ہو۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں معاشی و معاشرتی مسائل بھی گمبھیر صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومتوں کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ ان تمام مسائل کا حل سرکاری طور پر کرسکیں لہٰذا ایسے میں اگر کچھ ادارے فلاحِ عامہ کے لئے نیک نیت کے ساتھ اس کام کو مشن سمجھ کر سرانجام دے رہے ہیں تو اس سے بہتر اور کوئی خدمت ہو ہی نہیں سکتی۔ اپنی ذات سے باہر نکل کر دوسروں کے حقوق کیلئے لڑنا اور دکھی انسانیت کی خدمت یقیناً اولین انسانی فریضہ اور شیوہِ پیغمبری ہے۔ لہٰذا ہمارا اولین فرض ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھیں۔ رمضان میں زکوٰة و فطرانہ، عید الضحیٰ پر قربانی فی سبیل اللہ اور چرم قربانی کے علاوہ بھی سال بھر اپنے صدقات و عطیات دیتے ہوئے ایسے اداروں کو ضرور یاد رکھیں۔

political history of pakistan

Political History of Pakistan

QUAID-E-AZAM MUHAMMAD ALI JINNAH

Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah is a well-known leader of Pakistan.He was born at Karachi on 25 December 1876.His father was a leading merchant of Karachi.He received his primary education at Karachi and Bombay.He passed his matriculatin examination from the Mission High School,Bombay and went to England for studying law.He was called to the bar in 1896.

He started his legal practice at Karachi in 1896.Next year he shifted to Bombay and in a short time won great distinction as a barrister.From 1930 to 1934 he practised in England at the Privy Council and established himself as a lawyer of the first order.On his return to India,he resumed practice at Bombay.

In the meanwhile,he had developed keen interest in politics when he was law in England.Therefore,he joined Indian National Congress to work for the self-government for India.He became member of the All-India Muslim League also and retained membership of both the parties for a long time.Jinnah worked as a mediator between the two parties and tried to bring about understanding between the Muslims and the Hindus.In acknowledgement of his services and popularity the " Jinnah Hall " was built in Bombay.

When the Indian National Congress rejected the Montagu-Chelmsford Scheme of 1918 and launched a non-co-operation movement,Jinnah left the Congress.He did not agree with the non-cooperation movement because he considered it a departure from the policy of constitutional agitation.From this time onward.he became the most determined critic and opponent of all the politics of Gandhi.He was convinced the Hindus were pursuing a deliberate policy.Hindu domination over the entire sub-continent of India. 

As a result Muhammad Ali Jinnah soon became the voice of the Muslims of India.He formulated their demands and presented them in the form of famous fourteen points of 1929.He also re-organized the Muslim League to make it an active and united organization,Under his inspiring and able leadership,the Muslim League contested elections in 1935 and swept the polls in Punjab,Sindh and Bengal.

With the passage of time more and more Muslims were joining the Muslim League.Other Muslim Parties in Bengal and Punjab accepted the leadership of Jinnah and also joined the league.In 1940,the Muslim League passed the famous Lahore Resolution demanding Pakistan-a sovereign Muslim State,comprising the Muslim majority areas of India.

Quaid-e-Azam Muhammd Ali Jinnah showed great ability and tremendous courage in his struggle for Pakistan.He countered the shrewd moves of the Congress and was able to change the viewpoint of British Government.His lifelong struggled was crowned with success on 14th August 1947,when Pakistan came into being.

He said;
"THERE IS NO POWER ON EARTH THAT CAN UNDO PAKISTAN."
The Quaid-e-Azam became the Governor General of Pakistan.He worked day and night for the consolidation and progress of the country.His health had been failing for many years;now the great responsiblities of the state wrecked his health,and he passed away on September 11,1948.No one can forget his struggles for Pakistan. 
"WITH FAITH,DISCIPLINE AND SELF-DEVOTION TO DUTY,THERE IS NOTHING 
WORTHWHILE THAT YOU CANNOT ACHIEVE."
[ Muhammad Ali Jinnah ]

قربانی فی سبیل اللہ۔۔۔تحریر: مجدی رشید

عید قربان حقیقی معنوں میں ایسے پسے ہوئے طبقے کے لئے خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے جنہیں سارا سال گوشت میسر نہیں آتا۔ پیر 5 اگست 2019 qu...