Wednesday, October 17, 2012

بس کر دو الطاف بس



Sawal Hi Sawal- By Haroon Rasheed




Analysis on recent Talat Hussain show with Imran Khan (please read and comment)

آج میں نے طلعت حسین کا پروگرام دیکھا جو اس نے عمران خان کے ساتھ کیا اور اس سے یو ایس ڈرون کے حوالے سے اسکی پالیسی پر بحث کی۔ کچھ بھی کہنے سے پہلے میں یہ کہہ دوں کہ میں طلعت کی عزت کرتا ہوں اور اسے جینوین جرنلسٹ سمجھتا ہوں اور وہ پاکستان کا فخرہے اور میری اسکے بارے میں راے یہ پروگرام دیکھنے کے بعد بھی وہی ہے۔


میں طلعت صاحب کے اس پروگرام کا تنقیدی جایزہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتاہوں۔ طلعت نے عمران سے پوچھا کہ آپکے اس مارچ سے یو ایس ڈرون سے بمباری تو نہیں روکنے والا۔
میں طلعت کی اس بات سے بالکل متفق ہوں ۔ تو پھر اسکا حل کیا ہے؟ کیا چپ کرکے بیٹھنا چاہیے یقینا یہ حل تو نہیں ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ پی ٹی آیی اپنی موجودہ حیثیت میں اور کیا کرسکتی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتی ہے جو اس نے کیا۔ باقی کے سوالات اگر طلعت آصف علی زرداری کا ایسا ہی انٹرویو کرکے پوچھ لیں یا فارن منسٹر کو ہی بلالیں اور اس سے اتنے ہی سخت سوال پوچھ لیں تو بہتر نہ ہوتا۔ کیونکہ مسلہ تو ویسے بھی اسی طرح موجود ہے اور ملیٹینٹ ختم تو نہیں ہو گیے اور نہ ہی ختم ہوں گے۔


پھر عمران نے جب یہ کہا کہ اگر پی ٹی آیی کی حکومت آیی تو ہم امریکہ سے کہیں گے کہ وہ ڈرون بھیجنے ختم کریں اور ہمیں یہ جنگ اپنے طریقے سے لڑنے دیں۔ تو طلعت نے کہا کہ اگر انہوں نے بند نہ کیا تو عمران نے سلامتی کونسل میں شکایت درج کروانے کی بات کی تو طلعت نے ایک اور مفروضہ سامنے رکھ دیا کہ وہ کہے گی کہ آپکی سرزمین سے دہشت گرد آپریٹ کرتے ہیں اور امریکے کو ان سے خطرہ ہے ۔ اب مجھے یہاں طلعت صاحب جیسے ذہین صحافی سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ایسا کہیں گے۔ پہلی تو بات یہ ہے کہ جب سلامتی کونسل یہ کہے گی تو پاکستان کو یہ کہنا چاہیے کہ آخری بار کب ایسا اقدام اٹھایا گیا جب یہاں پر آپریٹ کرنے والے دہشت گردوں نے امریکہ کی سالمیت پر حملہ کیا۔ لیکن یہ ضرور ہوا کہ امریکہ نے اس مفروضے کے تحت عراق اور افغانستان کو تہس نہس کردیا اور پاکستان کی سالمیت پر وہ روز حملے کرتا ہے۔ اسلیے یو این کا یہ نقطہ تو یہیں غلط ثابت ہو جاے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان یو ایس کو ڈرون نہ بھیجنے کی درخواست کے ساتھ یہ گارنٹی بھی دے گا کہ کویی دہشت گرد پاکستان کی سرزمین سے آپریٹ نہیں کرے گا کیونکہ نہ صرف ڈرون ہمارے ملک کی سالمیت پر حملہ ہیں وہاں ان ملیٹنٹ اور دہشت گرد بھی ہمارے ملک کے لیے خطرہ ہیں سو آپ ان ڈرونز کو روکیں تاکہ ہم ان تشدد پسندوں کو قابو کرسکیں۔ اسطرح دونوں کا مسلہ حل ہو جاے گا اور اگر پھر بھی آپ ڈرون بھیجنے پر بضد ہیں تو یہ ٹیکنالوجی ہمیں دے دیں تاکہ ہم اپنے لوگوں کو یہ کنونس کر سکیں کہ یہ ڈرون امریکی نہیں بلکہ ہم مار رہے ہیں۔


اب طلعت صاحب نے ایک اور بات کی جو کہ مجھے بحث براے بحث کے علاوہ کچھ نہیں تھی کہ اگر ایسا بھی نہ ہوا اور ویسا بھی نہ ہوا تو پھر آپ کیا کریں گے تو جناب عمران کیا کویی بھی صحیح لیڈر ہو گا تو وہ یہی کہیے گا جو عمران نے کہا کہ ڈرون گرادیں گے ۔ کیا آپ یہ چاہتے تھے کہ عمران آپ سے یہ کہتا کہ ٹھیک ہے پھر ہم کیا کرسکتے ہیں بس مارتے رہیں ڈرون اور ہم دیکھتے رہیں گے ۔ اگر طلعت اس بات سے خوش ہو تا تو طلعت کی پالیسی پر تو موجودہ حکومت چل رہی ہے ۔ پھر طلعت کا یہ کہنا کہ اسکا مطلب ہے آپ قوم اور پاکستان کو جنگ میں جھونک دیں گے تو جناب اگر کویی ملک آپکو اتنا دیوار کیساتھ لگا دے تو آپ کیا کریں گے آپ نے فوج کیا انڈے دینے کے لیے رکھی ہے اسکا آدھا بجٹ کیا چنے چبانے کے لیے دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو انکا بوریا بستر گول کریں اور دیں اپنی سکیورٹی کی ذما داری امریکہ کو جیسے بہت سے ملکوں نے کیا ہوا ہے اور مزے سے رہیں امریکہ کی ایک کالونی بنکر۔


یہا ں ایک اور پہلو کو بھی طلعت صاحب نے نظرانداز کردیا ہے اور وہ یہ کہ جب پاکستان یہ مقدمہ سلامتی کونسل میں لیکر جاے گا تو اس سے پہلے اس علاقے کے کچھ اور سٹیک ہولڈرز کو بھی اعتماد میں لے گا اور وہ ہیں روس اور چین۔ امریکہ جب پاکستان سے بلاوجہ جنگ کرے گا تو کیا یہ دونوں منہ اٹھا کر تماشہ دیکھیں گے کیا ۔ روس کو پاکستان سے دلچسپی ہو یا نہ ہو لیکن وہ امریکہ کی بجانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے تیار ہو گیا اگر پاکستان اپنے پتے عقلمندی سے کھیلتا ہے تو اور چین تو ویسے ہی پاکستان کا دوست ہے اگر پاکستان اصولی موقف پر ہوا تو وہ اسکا ساتھ ضرور دے گا ۔ ویسے بھی چین امریکہ کو اس خطے میں قدم جمانے کی کبھی اجازت نہیں دے سکتا۔ مجھے افسوس ہوا کہ طلعت حسین جیسے چاروں طرف سے سوچنے والا صحافی اتنے اہم پہلو کیسے نظر انداز کرسکتا ہے
آخر میں مجھے عمران سے شکوہ ہے جب طلعت نے یہ کہا تھا کہ کیا آپ پوری قوم کو جنگ میں جھونک دیں تو عمران کو کہنا چاہیے تھا کہ اگر ہمیں کویی اتنا دیوار کے ساتھ لگاے گا تو جہاد پاکستانی قوم کے لیے فرض ہو جاے گا اور پھر فیصلہ کرنا پڑے گا کہ مسلمان اور مومن بن کرزندہ رہنا ہے یا بزدل منافق بنکر ۔ تب میں اپنی قوم سے خطاب کروں گا اور پوری قوم کو اعتماد میں لیکر امریکہ سے جنگ کروں گا کہ ہم مسلمان ہیں جو ہمیشہ امن کو قایم کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتا ہے لیکن جب اس پر جہاد واجب ہو جاتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ دشمن کتنا طاقتور ہے ۔ وہ اقبال نے کیا خوب اس موقع کے لیے کہا ہے


آ تجھ کو بتاوں کہ تقدیر امم کیا ہے
شمشیرو ثنا اول طاوس و رباب آخر



An Unsung Hero of Modern History: Gen Akhtar Abdur Rehman

An Unsung Hero of Modern History: Gen Akhtar Abdur Rehman

PKKH Exclusive | by Mariam Shah


“General Akhtar was the architect of the Afghan Jihad. It was he who advocated Pakistani participation, it was he who devised the overall military strategy, and it was he who supervised its implementation so skillfully that the Mujahedeen defeated a superpower” (Brig Retd Muhammad Yusaf)

Buried in the Army graveyard in Rawalpindi, this unsung brave man is one of the true heroes of this land, who defeated a world super power in the Afghan jihad. He was a silent soldier who crafted the destruction plan of the Soviet Union at the hands of the Mujahedeen. He showed passion, commitment, intelligence and the warrior spirit of the great Islamic conquerors. He gave a spark to and ignited the lifeless intelligence agency of Pakistan and made it one of the finest and a dynamic spy agency of the world. Through his tireless and tacit efforts, ISI played an important part in the destruction of the Soviet Union. He was the real architect of the Soviet defeat and worked as a mason, building day and night, to turn the tables on the enemies of Islam. With his foresight, commitment and dedication he increased the power and effect of the ISI as an intelligence agency. He was a background player and executed his plans from behind the curtain.

The anecdote of General Akhtar Abdul Rahman’s life, who is one of the finest generals of Pakistan army, is that being a child he would never have know that he will become a mastermind for the devastation of a world super power. He was born on 11 June 1924 and his father, Dr. Abdul Rehman died when he was three and a half years old. He completed his high school education from the Ajnala High school and after that he entered the Islamia College Amritsar. Then he joined Government College Lahore and did his masters in economics in 1945. Soon after completing his education he joined the Army and was commissioned in 1946. He led the journey of his life without a father, not knowing that he is going to even the scores with a super power in the near future; he was raised and educated by his mother.

He joined the Indian army in 1945 and was commissioned in 1946. Akhtar was a very junior artillery officer at the time of the partition of India and the birth of Pakistan. He witnessed the unspeakable horrors of the partition and was dismayed by the brutalities committed by Hindus and Sikhs against Muslims during the course. The whole traumatic episode left a deep mark inside him and it was never forgotten nor forgiven by him. After this, for the rest of his life he considered India as a relentless enemy both for his country and his religion. He fought in three wars (1948, 1965, and 1971) with India and defended the beloved land. He had several appointments before he was offered the position of DG ISI.

In 1979, General Akhtar was offered a very important and coveted position of Director General Inter Services Intelligence. He headed the intelligence agency and built it as a very effective military institution which impacted both national and international affairs. Within the span off seven years he, along with his potential and loyal team, gave life to ISI and made it one of the most vibrant and effective institution. He conceived and crafted the plans to deal with the Soviet Union through the Afghan Mujahedeen and covert guerilla fighters from Pakistan.

In the wake of Soviet invasion in Afghanistan there were apprehensions that they might attack Pakistan too, so there were many potential threats to the security of Pakistan at that time. After the initial years of Soviet invasion in Afghanistan, the military leadership under General Zia decided to fight with soviets and to teach them a lesson, even before the American assistance initiated through CIA. At that time US President Jimmy Carter was entangled in the internal dilemmas and threats which emerged after the hostage crisis in Iran, so no considerable assistance was provided. In the beginning Gen Akhtar was alone in considering that he can force the Soviet forces out of Afghanistan, he was way too optimistic. He was of the view that Pakistan should support the Jihad covertly.

America followed the “wait and see” policy as they believed that Soviet troops would take over Afghanistan in few weeks. So they did not offer any support as they thought of Afghanistan as a lost case; so why throw good money and provoke the Soviets by supporting the Mujahedeen. The US also thought that Afghan resistance cannot go more than six months, so they didn’t bothered to assist, but once they witnessed the slaughter of soviet troops at the hands of Afghan Mujahedeen, they changed their plan and fueled the money inside. It should be very clear that when USA sensed the victory in Afghanistan at the hands of Mujahedeen then they initiated the aid and assistance. When Reagan came in the White House he announced an aid package for Pakistan, which Gen Zia accepted. Although the covert operations by ISI were funded by CIA but Pakistan became a frontline state and Afghanistan a battle ground. In making Afghanistan a “graveyard of a super power”, ISI in general and General Akhtar played a central role and made the Soviet pullout inevitable. To come face to face with a super power like Russia was not a joke nor it was that simple, but Gen Akhtar was determined to wipe them out, and he never looked back once he had come to his decision.

When Gen Akhtar took the command of ISI as DG, he started each and every task from the scratch. It was a very major task to provide assistance to Afghan Mujahedeen at every front. But there was no such strategy and plan to deal with all the emerging scenes, never dealt with by the Pak forces before. Gen Akhtar was solely responsible for devising and executing plans and organizing massive covert military operations against the Soviets. He established training centers and many army officials were made responsible to train the Afghan Mujahedeen, equipping them with warfare strategies and necessity skills so that they would be able to defend their homeland against the Soviet invasion. ISI trained the guerilla fighters and even a few army soldiers were trained to assist, guide and fight with the Mujahedeens in Afghanistan in the covert operations. Gen Akhtar established a very close relation with the Ministry of Foreign Affairs in Pakistan, and with the State Department, especially the branch that interacted constantly with the CIA. Gen Zia managed the diplomatic affairs and Gen Akhtar directed and led the troops in the ground. The constant nine years of training, guidance and military assistance to guerilla fighters in Afghanistan by ISI, demolished the base of the Soviets and claimed around 13000 lives of soviet troops. The world stood in surprise and shock as less trained, less equipped and sometimes illiterate guerilla fighters defeated the well trained and highly equipped army of thousands.

Gen Akhtar was on the hit list of KGB and huge prize-money was put on his head, but he fearlessly involved himself in the planning and execution of the jihad, and never bothered about the personal threats which emerged against him. He not only countered the communist threat but pushed them back in the hell. He was an inborn strategist, as the way he articulated the guerilla warfare against a conventional army is still unparalleled. He was sharp at the diplomatic end as well and dealt at all fronts with intelligence and open mindedness. Both Pakistan and Afghanistan owe a lot to him, as he fought for the cause of the Ummah. He died in a fatal plane crash on 17th August 1988 near Bahawalpur and was never able to see the dawn of the Afghan Mujahedeen and fall of the Soviet Union.

He had a complex personality, as he never showed his emotions nor ever revealed himself outside his family. As an individual he was too honest and upright as he always reported what was going on, never overlooking anybody including his own staff, but Zia never reacted. He was very straight and never accepted corruption on the other hand Zia seemed to accept corruption as a way of life in Pakistan, and would not sack individuals for this offence. He never encouraged nor was he an admirer of favors and popularity. He was very crucial for the Afghan Jihad and he worked closely with Gen Zia on national and international matters. Based on his competence, integrity, and loyalty Zia developed a great trust and confidence in Gen Akhtar and at last promoted him to the rank of a general.

History repeats itself, first it was Ghauri and Ghaznavi and now a soldier from the green land. One interesting thing which is very rarely mentioned about Gen Akhtar is that his ancestors were from Afghanistan and were Kakazai (a tribe from the Laghman province of Afghanistan who came to South Asia during the Afghan invasion made by Mahmud of Ghazni). If we create a link between his ancestral place, love for Pakistan and Islam, it is true to say that a “son of Afghanistan fought from the soil of Pakistan, for the cause of Islam and stood for Jihad till the last”.

What ISI is today can be very much attributed to the efforts and commitment shown by General Akhtar Abdul Rahman. He very tactfully maneuvered the annihilation plan of the Soviet Union and through the ISI, gave a serious blow to it, which demolished communism as such. This role of Pakistan was acknowledged by the Germans and the ISI was presented with a piece of Berlin Wall marked with the inscription “those who struck the first blow” in appreciation to its efforts which eventuated in the demolition of the Soviet Empire. This piece of stone is one of the most valued possessions of the ISI. Gen Akhtar was the person who was very optimistic about the covert operations by Pakistan and supportive of the Afghan jihad from the start. He was the architect of the intelligence warfare in Pakistan as he molded the fragile structure into a forceful one, which ultimately proved its worth. He wrote the history with a message of hope, courage and consistent commitment to a cause. He did his job with modesty and humility, that’s why he never came into limelight and remained an unsung hero and died as a “silent soldier” with his boots on.

One year before the Bahawalpur incident, a young Pakistani man met an American journalist carrying photographs of injured Afghan children with General Akhtar Abdul Rehman. The Pakistani asked the journalist the reason for keeping these photographs and he answered that whenever he was disappointed he looked at the photographs of the general and the children, to get courage. Today, the US and Western analysts and experts admit that the DG ISI, CJCOSC and right hand of General Zia ul Haq, General Akhtar Abdul Rehman was the man who forced the superpower ‘Soviet Union’ to be torn into pieces. For the first time in history the mason of a great victory was known by the world after his death. We owe him a lot on this day and all days to come. Rest in peace Sir and May Allah Almighty raise your levels in Janna’t, amen.

Mariam Shah is a regular contributor at PKKH and a ( Columnist @ The Fortress Magazine), She is a Human Rights, Youth and Peace Activist and doing MPhil in ”Peace and Conflict Studies”

میرے دیس میں جنگل کا قانون ہے؟


عوام نے موجودہ حکمرانوں کو اپنے اوپر حکمرانی کا شرف بخشا تھا! اس امید سے کہ یہ انکی حالتِ زار کو خوشحالی میں بدلیں گے۔ ترقی آئے گی، مہنگائی سے نجات ملے گی اور جلتا ہوا ملک امن کی راہ پر چل پڑے گا۔ خواب تو سہانا تھا مگر تعبیر الٹی نکلی۔ عوام کی حالت بد سے بد تر ہوتی گئی، مہنگائی نے بھوکا مرنے پر مجبور کردیا۔۔ غریب اپنے ہی جگر کے ٹکڑوں کو قتل کرنے لگے۔* خودکشی کرنے لگے۔ ملک میں اُٹھی آگ کی چنگاری شعلہ بن گئی۔ کسی نے سابق وزیرِاعظم عزت ماب سید یوصف رضا گیلانی صاحب سے عوام کی شکستہ حالی کے بارے سوال پوچھا تو موصوف نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ "تو وہ پاکستان چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟
*
جن پتھروں کوعطاکی تھیں ہم نے دھڑکنيں
*جب زبان ملی توہم ہی پربرس پڑے
*
اور پھر کس منہ سے کہتے ہیں کے ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے؟ کوئی ان سے کہےکہ جاؤ پہلے ایسا چہرہ تراشو جس سے عوام تمہیں پہچان نہ پائے۔ ضمنی انتخابات میںاپنی جیت کو یہ کہہ کر پیش کرتے ہیں کہ وہ عوام کی عدالت میں سرخرو ہوئے ہیں۔ ارے ہم عوام توغلامی کا فرض نبھارہے ہیں۔ جس تیر نے ہمارا سینہ چاک کیا اُسی تیر پہ مہر لگا کرآتے ہیں۔ کاش تم بھی حاکمیت کا فرض پورا کرنا جان لو۔ غریب کو اس کا حق دینا سیکھ لو۔ شیر جنگل کا بادشاہ اور تیر جنگل کا شکاری۔ پھر میں کیوں نہ کہوں کہ میرے دیس میں جنگل کا قانون ہے؟
*
ابھی بھی وقت ہے کہ غریب عوام کی نظروں میں چھپے سوال پڑھ لو۔ ان کے دلوں میں لگی آگ کی تپش بھانپ لو۔ اس سے پہلے کہ وہ سوال زباں پرآجائیں اور آپکے ایوان ہل جائیں وہ آگ کا لاوا اُبل پڑے اور سب کچھ خاکستر ہو جائے۔

آخر میری غلطی کیا ھے ؟ ..just a cake




میں نے تو "ان " سے اس واقعے کا سرسری سا ذکر ھی کیا تھا ، مجھے کیا علم تھا کہ وہ اتنا طیش میں آ جائیں گے . پیار کا اظھار اتنا الٹا بھی پڑ سکتا ھے ، شائد وہ بھی نہیں جانتے تھے.. ..اپنی " دو نالی بندوق " اٹھا کر وہ خود ھی "شکار " پر جانا چاہتے تھے، لیکن میرے سمجھانے پر کہ ہماری " ایلیٹ فورس " کے شاہینوں کا کام قصر سلطانی کے گنبد کی نگہبانی ھی ھے، پہاڑوں پر بسیرا وہ تبھی کرتے ہیں جب ہم لوگ چھٹیاں منانے مری جاتے ہیں

اتنی "معصومانہ " سی طلب کی اتنی بڑی سزا.
"کیک " کھانے کی خواہش ہی تو کی تھی ، کوئی ڈاکہ تو نہیں ڈالا ، کوئی چوری تو نہیں کی ، پھر یہ ہنگامہ کیسا .
شائد مجھے ان "
سری پایوں " کی بد دعا لگ گئی جو میری "منجھلی" امی نے روغنی نانوں کے ساتھ میز پر سجا رکھے تھے .
سب سے چھوٹی والی امی جو پچھلے ہفتے ہی میرے "
پاپا" کی دلہن بنی ہیں ، انہوں نے بھی لاکھ سمجھایا کہ اتنے بھر پور لوازمات کی موجودگی میں "کیک" کا ناشتہ نہ صرف کفران نعمت ھے بلکہ خاندانی " روایات " سے بغاوت بھی ..لیکن میں نے تو "پاپا " سے بس یہی سیکھا ھے کہ جب کوئی فیصلہ کر لو تو ڈٹ جاؤ، پھر چاھے سعودی عرب کے کسی محل میں "جبری " جلا وطنی ہی کیوں نہ کاٹنی پڑے

کوئی اس دو ٹکے کے " سوئیپر" کو کیوں نہیں پکڑتا جو مجھے اپنے کاروبار کے " اصول و ضوابط " کا درس دینے بیٹھ گیا،، کہنے لگا میرا کام جھاڑو دینا ھے کیک دینا نہیں..کیک دینے والے تین بجے آئیں گے . آپ خود کو میری جگہ رکھہ کر سوچیں ، اگر آپ کے " پاپا " پورے صوبے کے بے تاج بادشاہ ہوں اور ایک معمولی سے خاکروب کی "اصول پسندی " کی وجہ سے آپ کا "ناشتہ " ڈیلے ہو رہا ہو تو آپ خود ھی بتائیں کہ میں نے جو کچھہ کیا ، کیا وہ ذرا سا بھی غلط تھا ..بھاڑ میں گئی ایسی بادشاہی کہ جس میں شہزادی کو ناشتہ بھی وقت پر نہ مل سکے


سب کچھہ پلاننگ کے مطابق بلکل ٹھیک ٹھاک " سر انجام " پایا، لیکن بیڑا غرق ہو اس " فرنگی " کا جس نے یہ سی سی ٹی وی ایجاد کیا،،، اور وہ جو اس ویڈیو کو یوں پھیلا رہے ہیں جیسے یہ کوئی ثواب کا کام ہو ...فرانس کی ملکہ دوسروں کو کیک کھانے کا مشورہ دے تو وہ بھی جرم ، کوئی خود سے کیک کھانا چاھے تو وہ بھی گناہ، یہ کیسا انصاف ھے ؟

Islam k taizi se phelao ne Padrion k hosh Urre diye....


.

Islam k taizi se phelao ne Padrion k hosh Urre diye....


.

Gallop Poll Imran Khan more popular than Nawaz Sharif

Total Pageviews